اے منصفو! موت سے نہ گھبراﺅ اور یقین جانو کہ نیک آدمی پر کوئی مصیبت نہیں آ سکتی

اے منصفو! موت سے نہ گھبراﺅ اور یقین جانو کہ نیک آدمی پر کوئی مصیبت نہیں آ سکتی
اے منصفو! موت سے نہ گھبراﺅ اور یقین جانو کہ نیک آدمی پر کوئی مصیبت نہیں آ سکتی

  

مصنف :ملک اشفاق

قسط: آخری قسط 

 اس لیے اے منصفو! موت سے نہ گھبراﺅ اور یقین جانو کہ نیک آدمی پر کوئی مصیبت نہیں آ سکتی.... نہ زندگی میں نہ مرنے کے بعد۔ اسے اور اس کے بال بچوں کو دیوتا کبھی نہیں بھولتے۔ تم یہ نہ سمجھنا کہ میری آنے والی موت محض اتفاقی چیز ہے۔ مجھے صاف نظر آ رہا ہے کہ وہ وقت آگیا ہے جب میرے لیے یہی بہتر تھا کہ مر کر دنیا کے جھگڑوں سے چھوٹ جاﺅں۔ اسی وجہ سے الہام ربانی نے کوئی اشارہ نہیں کیا اور اسی وجہ سے میں ان لوگوں سے جنہوں نے میرے لئے سزا تجویز کی یا ان سے جنہوں نے میرے خلاف استغاثہ کیا خفا نہیں ہوں۔ ان سے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اگرچہ وہ اپنی طرف سے یہی چاہتے تھے اور اس کی مجھے کسی قدر شکایت بھی ہے۔

 پھر بھی میں ان سے ایک عنایت کا خواستگار ہوں۔ جب میرے لڑکے بڑے ہو جائیں تو اے دوستو! انہیں سزا دینا اور اسی طرح ستانا جیسے میں نے تمہیں ستایا۔ اگر وہ دولت یا کسی اور چیز کو نیکی سے بڑھ کر سمجھیں.... انہیں جھڑکنا جیسا کہ میں نے تمہیں جھڑکا کہ وہ اس چیز کی پرواہ نہیں کرتے جس کی پرواہ کرنی چاہیے اور اپنے دل میں سمجھتے ہیں کہ ہم بھی کچھ ہیں حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں۔ اگر تم یہ کرو گے تو میرے اور میرے بیٹوں کے ساتھ عین انصاف ہوگا۔

 رخصت کا وقت آگیا ہے اور اب ہم اپنی اپنی راہ جاتے ہیں.... میں مرنے کے لیے اور تم جینے کے لیے۔ دونوں میں کیا چیز بہتر ہے یہ خدا ہی جانتا ہے۔(ختم شد)

نوٹ : یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -