فضا ءمیں ایسا سکوت تھا کہ انسان تو کجا کسی پرندے کی آواز بھی نہیں تھی

فضا ءمیں ایسا سکوت تھا کہ انسان تو کجا کسی پرندے کی آواز بھی نہیں تھی
فضا ءمیں ایسا سکوت تھا کہ انسان تو کجا کسی پرندے کی آواز بھی نہیں تھی

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط :74

حسینی (20اگست 2005)

ہم لوگ علی آباد کے بازار میں کھڑے تھے۔ صبح کے 10 بج چکے تھے اور دھوپ بہت تیز تھی۔راکا پو شی کی برفیں دھوپ میں یو ں چمکتی تھیں کہ آ نکھیں خیرہ کر تی تھیں۔ میں نے دوستوں کو کریم آباد جانے اور ”ہوٹل بلیو مون‘ ‘ میں احمد یار اوررحمت رحیم کے پاس کمرہ لے کر رکنے کوکہا۔ اور خود جو بلی ہو ٹل میں نا شتہ کرنے گھس گیا۔ مجھے پسُّو پُل دیکھنے جا ناتھا۔ طاہر ساتھ نہیں تھا اور باقی دوستوں کو اس پل سے کوئی دل چسپی نہیں تھی۔ اس لیے میں نے اکیلے ہی جانے کا فیصلہ کیاتھا۔ ناشتے سے فارغ ہو نے تک میرے ساتھی کریم آباد جا چکے تھے ۔میں ساڑھے دس بجے سوست جانے والی ویگن میں بیٹھ کر حسینی کی طرف روانہ ہوگیا جو یہاں سے 45 کلو میٹر دور تھا۔مجھ سے پچھلی نشست پر 2 کورئین لڑکیاں بیٹھی تھیں۔جو بلا مبا لغہ بغیر رکے مسلسل اور بہ یک وقت بول رہی تھیں۔پتا نہیں وہ سنتی کس وقت تھیں،لگتا تھا دونوں خود کلامی کر رہی ہیں۔ ایک نے کسی وجہ سے سرجنوں والے نقاب سے مونھ ڈھانپ رکھا تھا(ویسا ہی جیسا بہت سال بعد 2019-20 میں Covid-19 کی عالمی وباءپھیلنے پر پوری دنیا کوپہننا پڑا تھا)۔دوسری کے ہاتھ میں پاکستان کے متعلق سیا حتی کتاب تھی۔ اچانک اس نے انگلی سے میرے کندھے پر دستک دی اور میرے مڑ کر دیکھنے سے پہلے سیا حتی کتاب میری ناک کے آگے کر دی۔کتاب کے صفحے پر اسی پسُّوپل کی تصو یر تھی جس نے مجھے آوارہ کیا تھا۔اور اب میں حاتم طائی کی طرح کوہ ِ ندا کی خبر لانے نکلا تھاتا کہ اپنے منیر شامی یعنی طاہر کو اس کا احوال بتا سکوں۔

میں نے اسے جواب دیا کہ میں اسی پُل کی طرف جا رہا ہوں اگر پُل دیکھنا ہو تو میرے ساتھ اتر جانا۔ وہ چھریری سی اور شکل کی اچھی تھی۔امکان تھا کہ دوسری بھی نقاب کے پیچھے اچھی ہی ہو گی۔ انہوں نے جواب دئیے بغیر کتاب بند کر کے دوبارہ خوف کلامی نماءمکالمہ شرو ع کرلیا۔ 11 بجے ہم ششکٹ سے گزر رہے تھے۔پُل عبور کر کے ہم گو جال میں داخل ہوگئے ۔ میرے ساتھ شمشال کا بلبل کریم بیٹھا تھا۔میں اس سے شمشال کاراستہ پوچھنے اور وہاں کی معلومات لینے میں مصروف تھا کہ میرے بائیں ہاتھ بیٹھے شکل سے ایک پڑھے لکھے آ دمی نے میرے کندھے کو چھو کر مجھے متوجہ کیا اور شنا ختی کارڈدکھانے کو کہا۔ اس کا نام نظام الدین تھا ور وہ کوئی سرکا ری ملازم تھا جو چہرے سے بُرا آدمی نہیں لگتا تھا (لیکن شاید میں اسے لگا تھا!!)۔ میں ایک بے مایہ مسافر تھا اس لیے خامو شی سے کارڈ نکال کر اسے تھما دیا۔ کارڈ دیکھ کر اس نے مختصر سا انٹرویو کیا۔ میرے پیشے اور ہنزہ آ نے کا مقصد پوچھاپھر مطمئن ہوکر میرا شناختی کارڈ لوٹایا اور دوبارہ مونھ سیدھا کر کے بیٹھ گیا۔پو نے بارہ بجے میں حسینی کے باہر ویران سڑک پر کھڑا تھا۔ اترنے سے پہلے میں نے کورئین لڑکیوں کو ساتھ چل کر پُل دیکھنے کی پیش کش کی، اگر سفر میں ذرا دیر کو اچھی کمپنی ہو جاتی تو کیا حرج تھا،لیکن انہوں نے سنی ان سنی کر دی ۔ میں اکیلا ہی ویگن سے اتر گیا۔ نظام الدین نے مجھے حسینی گا و¿ ں کا راستہ اور پُل کی راہ سمجھا دی۔

 سڑک کے دائیں ہاتھ ایک کچا راستہ اوپر کو جاتاتھا۔میں اسی راستے پر چل پڑا۔پہا ڑ کی ڈھلوان پریہ چھوٹا سا گاوں، واخی بولنے والوں کی سب سے پرانی آ بادی ہے۔ گاوں کے گرد چھوٹے چھو ٹے زرعی قطعات تھے، جن میں پھیلی بیلوں پر بڑے بڑے پیٹھے اگے ہوئے تھے، آس پاس خود رُو پودوں پر جنگلی پھول تھے۔ اوپر پہنچ کر پھر اترائی کا کچا راستہ تھا جس کے بیچوں بیچ نالی میں پانی بہتا تھا۔سارا گاو¿ں ویران تھا۔ فضا ءمیں ایسا سکوت تھا کہ انسان تو کجا کسی پرندے کی آواز بھی نہیں تھی، بلکہ غالباً انسان اور پرندے خود بھی نہیں تھے۔ ہر طرف ایک ٹھہراواور سکوت تھا۔ میرے علاوہ کو ئی ذی روح دوردور تک دکھائی نہیں دیتا تھا۔ دوپہر کی دھوپ کے باوجود موسم خوش گوار تھا۔ میں اَن گھڑ ے پتھر وںسے چنی پست دیواروں کے اندر کھیتوں اور بے آباد مکانوں کو دیکھتا ہوا پُل کی اور چلنے لگا۔ یہ تو الف لیلہ کی کسی کہانی سے نکلا ہوا گاو¿ں تھا۔شاید چلنے سے یا اتنی تنہائی اور خاموشی سے میرا دل زیادہ زور سے دھڑکنے لگا تھا۔ کچھ دور آکر ایک دیوار کے سائے میں 4بچے خاموشی سے کھیلتے نظر آئے۔ بچپن میں پڑھی کہانیوں میں پریاں اور جن اس طرح ویرانوں میں بچوں کا بھیس بدل کر کھیلا کرتے تھے۔”اگر میرے قریب جانے پر یہ ایک دم غائب ہو گئے تو۔۔۔؟“ میں نے سوچ کر لطف لیا۔ پاس پہنچ کر میں نے پُل کا راستہ پوچھا تو نسبتا ً بڑی بچی نے بنا مونھ سے بولے انگلی سے آگے کی طرف اشارہ کیا۔میں پھر چل پڑا۔ گاوں ختم ہوا تو راستہ دائیں مڑ کر بائیں مڑااور پُل میرے سامنے تھا۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -