ٹک ٹاک ستان!

  ٹک ٹاک ستان!
  ٹک ٹاک ستان!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 فحش نگاری پر سعادت حسن منٹو پر مقدمہ چلا۔ ایک روز پیشی کے دوران کمرہ عدالت میں جج نے سوال کیا کہ آپ اس قسم کا واحیات لٹریچر کیوں لکھتے ہیں؟ جس پر منٹو نے جواب دیا کہ میں اپنے افسانوں میں خود سے کچھ نہیں لکھتا، در حقیقت یہ ساری غلاظت ہمارے سماج کے اندر موجود ہے، میں نے صرف بند کمروں کے گند کو اُٹھا کر بیچ چوراہے پر لا پھینکا ہے۔
موجودہ دور میں سعادت حسن منٹو کی یہ ”ڈیوٹی“ٹک ٹاک اور یو ٹیوب کے ذریعے سر انجام دی جا رہی ہے، جو لوگوں کے گھروں، ذہنوں، جسموں، دلوں، دماغوں اور بند کمروں کے اندرموجود گند کو مسلسل باہر لا رہے ہیں۔ کراچی سے خیبر تک ملک کے طول و عرض پرکوئی شخص ایسا نہیں جس میں کسی بھی قسم کا رتی برابر کوئی”ٹیلنٹ“موجود ہو اور وہ ٹک ٹاک یا یو ٹیوب پرطبع آزمائی نہ کرے۔پنجاب کے دور اُفتادہ گاؤں میں رفع حاجت کیلئے کھیتوں میں جانیوالوں سے لیکر دمکتے ہوئے شہروں کی فراواں مخلوق ہر نوع کی غلاظت کے انبار لگا رہی ہے۔جسے انتہائی خوشنما پیکنگ کے ساتھ گھر گھر پہنچایا جا رہا ہے۔ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سانپ اور نیولے کی لڑائی، بندر اور بکری کا تماشہ، ریچھ اور قلندر کی کشتی، سانڈے کا تیل، مردانہ کمزوری، نسوانی حسن میں اضافے، حکیم سلطان دوا خانہ اور عامل بنگالی باباتک سہولت موجود ہے۔دنیا بھر میں کوئی فیلڈ، روزگار یا پروفیشن ایسا نہیں جس میں دولت، شہرت اور ”عزت“ آپ کو اکٹھی دستیاب ہو ں کیونکہ ان تینوں کا ”کمبی نیشن“بہت خطرناک ہے۔یہی وجہ ہے کہ عمومی طور پر آپ کو ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔

لاہور میں سائیں میاں میردربار کے باہر بیٹھے ملنگ جب بھنگ کے نشے میں سر مست ہو جائیں تو یہ نعرہ لگاتے ہیں۔”میاں میر، ننگیاں نُوں کپڑے، تے پُکھیاں نُوں کھیر“۔ تاہم موجودہ حالات میں یو ٹیوب، ٹک ٹاک اور انسٹا گرام ”سائیں میاں میر“ بنے ہوئے ہیں جو ننگوں کو کپڑے اور بھوکوں کوکھیر کھلا رہے ہیں۔تاہم ر وٹی، کپڑا اور مکان پر مشتمل اس پیکج کے حصول کیلئے بنیادی شرط مشہور ہو نا ہے،جیسے تیسے کر کے آپ کی شہرت ہو جائے تو پھرآپ کو دولت بھی حاصل ہونا شروع ہو جاتی ہے اور ظاہر ہے شہرت اور دولت کے نتیجے میں کسی حد تک ”عزت“ بھی لازمی بات ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ 23 کروڑ عوام کے سمندر میں نمایاں ہونا اتنا آسان نہیں، اس کیلئے آپ کو کسی بھی حد تک جانا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک طوفان بد تمیزی برپا ہے۔ کوئی چنگاری بھڑکنے سے کسی گھر کو آگ لگی ہو، سڑک کے کنارے خوفناک حادثے کا شکار کوئی شخص جان سے جا رہا ہو، یا گن پوائنٹ پر نا معلوم ڈاکو کسی راہگیر کو لوٹ رہے ہوں، یا پھر دیگر کسی نوع کی ”پرائیویٹ ٹرانزیکشن“ کی جا رہی ہو تو لوگ اسے عکسبند کر کے فوراً سے پہلے مذکورہ پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ کر دیتے ہیں۔ 


اس لمبی تمہید کے بعدآج کے اصل موضوع پر آتے ہیں، آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ پاکستان میں اس جدید ٹرینڈ سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے شخص کا نام عمران خان ہے، شروع دن سے ہی پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کی سیاست فیس بک، یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر بیس کر رہی ہے۔ کیونکہ یہ ساری گیم ہی فیس کٹ، لائٹنگ اور کیمرے پر مبنی ہے، جو عمران خان کے پاس موجود ہے جبکہ چلنے، بولنے اور بات کرنے کا سٹائل سونے پر سہاگہ ہے، علاوہ ازیں دبنگ تقریروں، مجمعے میں پُش اپس لگانے اور انگریزوں کو آٹو گراف دینے والے ویڈیو کلپس نے ”آپ“ کی شخصیت کو چار چاند لگا دیئے۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیاٹیموں نے ماضی کے دریچوں سے خان کے کرکٹ سٹارڈم اور گلیمر ورلڈ کی جھلکیوں کو یکجا کر کے عمران خان کو”مرزا پُور“کا ”مُنا تری پاٹھی“ بنا دیا جو کہتا تھا ”ہم اَمر ہیں“۔
حالانکہ 2018 ء سے 2022 ء تک عمران خان کا دور اقتدار پاکستان کی تاریخ کا بد ترین دور تھا، جب فوجی جرنیلوں نے درست سمت چلتے ہوئے اچھے خاصے نظام کی بساط لپیٹ کر ایک نیا تجربہ کیا جو بری طرح ناکام ہوا جس کا خمیازہ آج عوام اور خود فوج بھگت رہی ہے۔عمران خان جو ایک نا اہل حکمران ثابت ہوا اسے ٹک ٹاکرز اور یو ٹیوبرز نے اس قدر تواتر کے ساتھ چلایا کہ نوجوانوں کے ذہنوں میں وہ ”منی ہائسٹ“ کے پروفیسر، ہاؤس آف کارڈز کے فرانسس انڈر وڈ یا پھر گیمز آف تھرونز کے کسی لافانی کردارکے طور پر نقش ہوگیا، بالکل اسی طرح جیسے یوکرائن کے موجودہ صدر ولادیمیر زیلنسکی جو پہلے ایک کامیڈین اور اداکار تھے انہوں نے ایک ڈرامہ سیریز میں یوکرائن کے صدر کا کردار ادا کیا جو لوگوں کو اتنا بھایا کہ انہوں نے ولادیمیر کو حقیقتاً ملک کا صدر چُن لیا۔


 عمران خان کی گرفتاری کے بعد پیدا شدہ صورتحال اور 9 مئی کے واقعات میں بھی یہی ٹاک ٹاکرز سرگرم ہیں جو ہر قیمت پر اپنی ویڈیو وائرل کروانا چاہتے ہیں۔کیونکہ عمران خان اوورسیز پاکستانیوں میں مقبول ہیں اور ان پلیٹ فارمز کی ایک بڑی ویورشپ پاکستان سے باہر ہے لہٰذا عمران خان کا جلسہ ہو یا ریلی، یہ ٹک ٹاکرز اور یو ٹیوبرز اپنے اپنے چینلز کی لائق یا فالوننگ کیلئے وہاں پہنچتے ہیں اور چائے کی پیالی میں طوفان برپا کر دیتے ہیں۔ 9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ کے دوران بھی کئی ویڈیوز وائرل ہوئیں، ایسی ہی ایک ویڈیو جس میں ایک ڈنڈا بردار خاتون پولیس کی نفری کی طرف بڑھ رہی ہے اور انہیں للکارتے ہوئے اپنا دوپٹہ زمین پر پھینکتی ہے، اس عورت کی شناخت بھی ایک ”سوشل میڈیا انفلوائنسر“ کے طور پر ہوئی ہے۔ میں ذاتی طور پر بیشتر صحافی دوستوں کو جانتا ہوں جو ساری زندگی مسلم لیگ ن کے حامی رہے لیکن صرف لائق اور فالوونگ کی دوڑ میں عمران خان کے حق میں ”وی لاگ“ کرتے ہیں۔اس کے علاوہ چارہ بھی کیا ہے؟ گزشتہ بیس سالوں میں پاکستان میں کون سی انڈسٹرئیلائزیشن ہوئی؟ یا روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے؟ ہر سال لاکھوں لوگ جاب مارکیٹ میں آ رہے ہیں لیکن نوکریاں نہیں ہیں، ایسے میں یوٹیوب اور ٹک ٹاک ہی عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان دے رہے ہیں جہاں عمران خان بکتا ہے۔صاف ظاہر ہے دوکاندار اپنی دوکان پر ایسا مال تو نہیں رکھے گا جسے گاہک خریدنا پسند نہ کریں۔
سعادت حسن منٹو نے ہی ایک دفعہ کہا تھا کہ ”زمانے کے جس دور سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں اگر آپ اس سے نا واقف ہیں تو میرے افسانے پڑھئیے، اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ زمانہ نا قابل برداشت ہے۔مجھ میں جو برائیاں ہیں، وہ اس عہد کی برائیاں ہیں، میری تحریر میں کوئی نقص نہیں، جس نقص کو میرے نام سے منسوب کیا جاتا ہے، وہ دراصل موجودہ نظام کا نقص ہے۔

مزید :

رائے -کالم -