اقبال شناسی چند معروضات

 اقبال شناسی چند معروضات
 اقبال شناسی چند معروضات

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا نے ہمارے ہر شعبہ زندگی کو متاثر کیا ہے۔خصوصاً ہماری تعلیمی،سوشل اور معلوماتی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں جن پر کھل کر اور تفصیل سے بات ہو سکتی ہے۔ سوشل میڈیا نے  جہاں ہمارے ہر شعبہ زندگی کو متاثر کیا ہے وہاں کچھ مشاہیر ملت کے ساتھ زیادتی بھی ہوئی ہے۔ صرف شاعری میں اگر دیکھ لیں تو علامہ اقبال، فیض اور احمد فراز سب سے زیادہ متاثرین کی فہرست میں شامل ہیں۔ کوئی بھی من گھڑت اور بے تکا شعر بلکہ نظم اقبال اور فراز سے منسوب کر دی جاتی ہے اور اسے پوری ذمہ داری اور اعتماد کے ساتھ سوشل میڈیا پر شیئر اور پوسٹ کر دیا جاتا ہے،حتیٰ کہ یار لوگوں نے علامہ اقبال کی آواز میں بھی کچھ شاعری ڈھونڈ نکالی،جو کام 80 سالوں میں بی بی سی اور ریڈیو پاکستان نہ کر سکے وہ سوشل میڈیا کے کرشمہ نے پلک جھپکنے میں کر دیا۔ یہ صرف اقبال سے زیادتی ہی نہیں ہے بلکہ اقبال شناس اور اس کے مداحین کو ذہنی کوفت پہنچانے کے مترادف بھی ہے۔ علامہ اقبالؒ ایک آفاقی شاعر ہیں۔وہ ایک منفرد فلسفی شاعر اور ایک باکمال سوچ اور فکر کے شاعر ہیں۔ان کے ہاں ندرت بیاں بھی اور قدرت زبان بھی ہے۔ ایک جوش بھی ہے اور ایک جذبہ بھی۔ وہ ایک خوابیدہ قوم سے مخاطب ہیں جسے یہ ادراک بھی نہ تھا کہ وہ ایک غلام قوم ہے۔ غلام قوم میں رہتے ہوئے اس قوم کو یہ احساس دلانا کہ تم ایک غلام قوم ہو سب سے مشکل کام ہوتا ہے،مگر علامہ اقبالؒ کے جذبہ حریت اور آزادی کی تڑپ نے اس قوم کو اس طرح جھنجھوڑا کہ وہی غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی قوم ہندو اور انگریز سے  بڑے باوقار انداز میں آزادی لینے میں کامیاب ہوئی۔ مجھے کوئی اقبال شناسی کا دعویٰ تو نہ ہے اور اپنی کم علمی اور  کم مائیگی کا احساس بھی،مگر کلام  اقبال کے ایک طالب علم کی حیثیت سے ہی کچھ عرض کرنے کی جسارت کروں گا کہ اقبال تو خود اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ:
اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے
کچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے
علامہ اقبالؒ کی شاعری زندہ قوموں کے لئے ہے اور یہ صرف عصر حاضر کا شاعر ہی نہیں ہے بلکہ آنے والے زمانوں کا شاعر ہے۔ اقبال اپنی شاعری میں شاہین، نوجوان مسلم، خودی، عشق وغیرہ کو personify کرتا ہے۔ مسلمانوں خصوصاً نوجوانوں کو ایک تڑپ، اْمنگ اور جہد ِ مسلسل کا درس دیتے ہوئے مختلف مواقع پر مختلف پیرائے میں بات کرتا ہے۔
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
اقبال مسلمان نوجوانوں کو دنیا میں باعزت زندگی گزارنے، زمانے میں اپنا نام پیدا کرنے کے لیے کیا خوبصورت گر بتاتے ہیں کہ ایک ولولہ تازہ دلوں میں پیدا ہوتا ہے۔دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر،نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر،خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو، سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر،مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے،خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر علامہ اقبالؒ  مسلم نوجوانوں کو کیا ایک ادائے دلبرانہ اور نعرہ مستانہ سے اس کے عظیم  اسلاف کی کہانی کس دلکش پیرائے میں بیان کرتے ہیں کہ دِل عش عش کر اُٹھتا ہے۔
کبھی اے نوجوان مسلم تدبّر بھی کیا تو نے
وہ کیا گْردوں تھا ہے جس کا  تو ایک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت میں 
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سرِدارا
اور کبھی یوں گویا ہوئے کہ
جوان ہوں قوم کے میری اگر جسّور و غیّور 
قلندری  میری  کچھ  کم  سکندری  سے  نہیں 
اور پھر 
افسوس   صد   افسوس کہ  شاہین   نہ  بنا   تو
دیکھے نہ تیری آنکھ نے فطرت کے اشارات
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ  ہے  ازل  سے 
ہے جرم ضعیفی کی سزا  مرگِ  مفاجات
اور پھر اقبال تصوّف کے گہرے رنگ میں ڈوب کر یہ فرماتے ہیں تو سماں ہی بدل جاتا ہے
کبھی  اے  حقیقت  منتظر  نظر  آ   لباس  مجاز  میں 
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبین نیاز میں 
تو  بچا بچا  کے  نہ  رکھ  اسے  ترا  آئینہ  ہے  وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر  ہے  نگاہِ آئینہ ساز  میں 
میں جو سربسجدہ ہوا کبھی تو زمین سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں 
اقبال گل و بْلبل کا شاعر نہیں ہے۔ وہ فراق و ہجر میں تڑپانے کی بجائے انسان کو اْمید جانفزا اور حوصلے اور عزم کا درس دیتا ہے۔ وہ خودی کا ایک ایسا دلفریب اور سحر انگیز  پیغام دیتا ہے کہ زمانہ دم بخود ہے۔ خودی کا صیحح معنی اور مفہوم تلاش کرتے دہائیاں بیت گئیں: مگر اسے صرف خود شناس ہی سمجھ سکتا ہے۔ جس نے اپنی خودی چند مفادات کے تابع گروی رکھ دی اْسے اقبال کی خودی سی کیا لینا دینا۔ کیا خوبصورت پیغام ان اشعار میں اْن لوگوں کے لئے کہ جو دْنیاوی مراتب حاصل کرنے کے لئے اپنی عزّت اور خودی پر سمجھوتا کرتے ہیں۔
کسے   نہیں    ہے    تمنائے   سروری   لیکن 
خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے
بتوں سے تجھ  کو اْمیدیں  خدا  سے  نو اْمیدی
مجھے     بتا    تو   سہی  اور    کافری  کیا   ہے
اور پھر اسی طرح ایک اور جگہ فرمایا
خودی میں گم ہے خدائی، تلاش کر غافل
یہی ہے تیرے لیے اب صلاح کار کی راہ
حدیث دل کسی درویشِ بے کلیم سے پوچھ
خدا  کرے  تجھے  تیرے  مقام  سے  آگاہ
اور پھر ہمارے مذہبی رویّوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کچھ یوں کہا کہ
یہ    ذکر    نیم  شبی،   یہ مراقبے،     یہ  سجود
تیری خودی کے نگہبان نہیں تو کچھ بھی نہیں 
خِرد نے کہہ  بھی  دیا  لا الہ   تو   کیا  حاصل
دل و نگاہ  مسلمان   نہیں   تو  کچھ  بھی  نہیں 
اور  پھر کہ 
قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں 
کچھ بھی  پیغامِ  محمّد  کا  تمہیں  پاس  نہیں 
عشق پر اقبال نے بڑے منفرد و جداگانہ اور دلفریب انداز میں طبع آزمائی کی
جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں 
ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ  مزا  ہی  نہیں 
اور
عقل عیّار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے
عشق بے چارہ نہ ملّا ہے، نہ زاہد، نہ حکیم،
علامہ اقبالؒ کی زیادہ موثر اور انقلابی شاعری اردو کے مقابلہ میں فارسی زبان میں ہے اور ہم فارسی سے نا بلد۔ شاید پاکستان سے زیادہ اقبال کو ایران میں پڑھا اور سمجھا جاتا ہے۔اقبال آنے والے زمانوں کا شاعر ہے۔ جب اقبال نے یہ کہا کہ، 
سبق ملا ہے معراج مصطفی ؐ سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں 
تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کی ایک دن انسان فلک کی رنگ برنگی کہکشاؤں سے گزرتا ہوا چاند اور مریخ پر ڈیرے ڈالے گا۔ اسی طرح جب اقبال نے یورپ کی ترقی کی آڑ میں وہاں کے قدیم تہذیب و تمدن کو لرزہ براندام دیکھا تو فرمایا کہ:
تمہاری تہذیب آپ اپنے خنجر سے خود کشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا نہ پائیدار ہوگا
اس طرح کی اور بھی پیشین گوئیاں اقوام عالم کے عروج و زوال کی داستانوں کی صورت میں اقبال کے ہاں جگہ جگہ ملتی ہیں۔سوشل میڈیا پر ہر ایک پوسٹ بغیر تحقیق کے فارورڈ کرنے والے دوستوں سے گزارش ہے کہ کم ازکم علامہ اقبال سے کچھ خصوصی رعایت برت لی جائے تا کہ فکر اقبال کے پیروکاروں کو ذہنی اذیت سے محفوظ رکھا جا سکے۔
٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -