مستقبل کی انفنٹری                 (2)

      مستقبل کی انفنٹری                 (2)
      مستقبل کی انفنٹری                 (2)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  جدید میدانِ جنگ میں بہت سی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔1971ء کی پاک بھارت جنگ سے اب تک وقت کے پل کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا۔ چوتھی عرب اسرائیل جنگ، افغانستان، ایران، عراق، فاک لینڈ اور خلیجی جنگیں سب 1971ء کے بعد ہوئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بیسویں صدی کے نصف آخر میں وار ٹیکنالوجی نے بڑی سرعت سے ترقی کی اور اس ترقی کو ترقی یافتہ ممالک نے عسکری پیداوار میں خوب خوب استعمال کیا۔ نئے ہتھیاری نظاموں کی ہلاکت انگیزی میں کسی کو کوئی شبہ نہیں اور نہ ہی عسکری ساز و سامان کی پیچیدگیوں میں کوئی شک ہے۔ ان تمام نے روایتی جنگ کا چہرہ بدلنے میں بہت بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ انہی جدید ہتھیاروں اور ساز وسامان کی بدولت عسکری تدبیرات بھی بدلیں اور نئے وار ڈاکٹرین بھی وضع ہوئے۔ اسی طرح افواج(اور انفنٹری) کی تنظیم میں بھی حسب ضرورت تبدیلیاں لانی پڑیں۔

مستقبلِ دیدہ میں اس سمت میں مزید انقلابی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ بہت سے ٹیکنالوجیکل بریک تھرو ایسے ہیں جن کی پیش گوئی بڑی آسانی سے کی جا سکتی ہے مثلاً:

1۔ٹینک اور اے پی سیز، حرکیت، فائر پاور اور پروٹیکشن کے ضمن میں بہت آگے نکل جائیں گی۔

2۔توپوں کی حرکیت اور رینج میں اضافہ ہوگا۔ ان کے گولوں کی ہلاکت انگیزی بڑھے گی۔خود متحرک (SP) آرٹلری میں مزید تبدیلیاں متوقع ہیں۔

3۔ میزائلوں کی اقسام، رینج اور ہلاکت انگیزی میں اضافہ ہوگا اور یہ پہلے سے زیادہ مہلک وار کر سکیں گے۔ وزن میں ہلکے اور رینج میں زیادہ ہوں گے اور کسی بھی ٹرانسپورٹ کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جائے جا سکیں گے۔

4۔انفنٹری کے ہتھیاری نظام مختلف النوع ہوں گے، وزن میں ہلکے لیکن رینج میں زیادہ۔ ان کا ایمونیشن بھی کم وزن ہوگا۔

5۔شبانہ آپریشنوں کا تقریباً خاتمہ ہو جائے گا۔ دن اور رات میں بہت کم فرق رہ جائے گا۔

6۔بارودی سرنگوں کی انواع و اقسام اور ان کو بچھانے اور اٹھانے کے طریقوں میں جدت آئے گی۔ پل سازی اور پل شکنی کے اسلوب بدلیں گے۔

7۔گن شپ ہیلی کاپٹر کا رول اسی طرح اہم ہوگا جس طرح جنگ عظیم دوم کے ابتدائی سالوں میں ٹینک کا تھا۔ بغیر پائلٹ کے جہاز عام ہو جائیں گے۔

8۔الیکٹرانک وار فیئرمیں محیرالعقول تبدیلیاں آئیں گی۔ کمپیوٹر اور سپر کمپیوٹر کا استعمال ہوگا اور میدانِ جنگ میں اس سے استفادہ کرنا معمول بن جائے گا۔

9۔سٹیلتھ ٹیکنالوجی کی بدولت بری، بحری اور فضائی آپریشنوں کا ناک نقشہ بدل جائے گا۔

10۔لاجسٹک سپورٹ سسٹم میں تبدیلیاں آئیں گی۔

سٹیٹ آف دی آرٹ ہتھیار اور ساز و سامان شاید دونوں ملکوں کے پاس نہ آ سکیں کہ اس کے لئے مزید نصف صدی تک انتظار کی ضرورت ہے۔ مغرب نے یہ اہلیت مسلسل محنت اور ریاضت سے حاصل کی ہے۔ پاکستان اور بھارت اگر دونوں اسی رفتار سے آگے بڑھیں تو بھی مغرب اور مشرق کے فاصلے پاٹے نہیں جا سکیں گے لیکن ان تمام جدید ہتھیاروں کا کچھ نہ کچھ فال آؤٹ تو ضرور ان ممالک کی افواج تک آئے گا اور چونکہ انفنٹری کا صیغہ حجم کے اعتبار سے زیادہ ہے اس لئے یہ اثرات انفنٹری پر زیادہ ہوں گے یا انفنٹری ان سے زیادہ متاثر ہوگی۔

عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ہم جیسے ترقی پذیر ممالک مغربی ترقی یافتہ ممالک سے کم از کم پچاس سال پیچھے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو مستقبل کی پاک بھارت جنگ اس معیار اور انداز کی ہو سکتی ہے جو پون صدی قبل دوسری عالمی جنگ کی صورت میں یورپ کے میدانوں میں لڑی گئی تھی۔ یہ جنگ اتنا طول تو نہ کھینچ سکے گی لیکن جو کچھ 1940ء میں سرزمین فرانس پر ہوا اور پھر 1943ء میں روس میں ہوا اس کا اعادہ (گوکہ کم پیمانے پر ہوگا) ہو سکتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل کی پاک بھارت جنگ کا اولیں مرحلہ اگر جدید ہتھیاروں اور تدبیرات سے مملو اور مسلح ہو گا تو اس کا آخری راؤنڈ انفنٹری فارمیشنوں کا رہینِ احسان ہوگا۔

پاکستان کی طرف سے حملے کی صورت میں جنگ کے ابتدائی مراحل میں اگر ٹینک اور میکانائزڈ فارمیشنوں کو اولیت حاصل ہوگی تو فالو اَپ انفنٹری کا رول فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ دشمن کی عمق (Depth) میں جو آپریشن ہوں گے ان کی تعداد اور حجم بہت زیادہ ہو سکتا ہے کہ ایک تو دونوں روایتی حریفوں کے مابین بین الاقوامی سرحد سینکڑوں ہزاروں میل طویل ہے اور دوسرے ابتدائی بریک تھرو کے بعد یلغاری افواج کو دور دراز علاقوں میں پھیل کر لڑنا ہوگا جو کشمیر اور جموں کے پہاڑی علاقوں سے لے کر مشرقی پنجاب کے میدانوں، راجستھان کے صحراؤں اور رن آف کچھ کی دلدلوں تک پھیل سکتے ہیں۔ مختلف النوع سرحدی علاقوں کی ٹیرین کی وجہ سے دفاعی انداز (Defensive Posture) بھی مختلف ہوگا۔مثال کے طور پر میدانی علاقوں میں تو جو دفاعی اقدامات ہیں وہ یا قدرتی رکاوٹوں کے گرداگرد استوار ہیں یا انسان کی بنائی رکاوٹوں کے گرداگرد اور اس اعتبار سے ایک دوسرے سے زیادہ قریب اور ملحق ہیں جبکہ ریگستانی علاقوں میں بکھرے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان بڑے بڑے گیپ ہیں۔ یعنی صرف حساس اور اہم مقامات ہی پر دفاعی استحکامات (Fortifications)  تعمیر کئے جا سکتے ہیں، تاہم صحرائی بارڈر پر نہیں۔ اسی طرح شمالی علاقوں میں پہلے سے تیار شدہ دفاعی استحکامات جو کنٹرول لائن کے دونوں طرف پھیلے ہوئے ہیں ان کا اندازِ دفاع مختلف ہوگا۔

بھارت کی طرف سے حملے کی صورت میں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ بعض نفسیاتی وجوہ کی بناء پر ہمیں بعض شہری علاقوں کے نقصان کا غم نہیں ہونا چاہیے۔ قوم کو اس کے لئے تیار کرناسیاستدانوں اور میڈیا کا کام ہے۔ لہٰذا ہمارے دفاعی منصوبوں کو حسب حال اور حسب ضرورت لچکدار بنانا پڑے گا۔ تاہم چونکہ پاکستان کی جغرافیائی گہرائی کم ہے اس لئے ہم دفاعی نقطہء نگاہ یا دفاعی اسلوبِ جنگ پر تکیہ نہیں کر سکتے۔ ہمیں بہ امر مجبوری جارحانہ اسلوب اپنانا پڑے گا اور آخری بات یہ ہے کہ محض دفاع میں بیٹھ جانے سے جنگ تو نہیں جیتی جا سکتی۔ اس لئے دفاع کنندہ کو مناسب جوابی یلغار کی اہلیت پیدا کرنا پڑے گی۔(یہ بات بھی شاید واضح کرنی ضروری ہو کہ جوابی حملے اور جوابی یلغار کی اصطلاحوں کے معانی میں بہت فرق ہے۔ جوابی حملہ ان ریزروز کی مدد سے لانچ کیا جاتا ہے جو مقامی دفاعی اقدامات کا حصہ ہوتے ہیں اور اس طرح اس خاص محاذ کی صورت حال کو جوابی حملے کے بعد بحال کر لیا جاتا ہے جبکہ جوابی یلغار زیادہ کثیر اور بڑی فورس سے لانچ کی جاتی ہے اور اس کا مقصد دشمن کی سرزمین کے اندر گہرے مقصودات (Objectives) کا حصول ہوتا ہے۔) ان تمام آپریشنوں میں انفنٹری کا رول جس کلیدی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اس پر دورائے نہیں ہو سکتیں۔ حملہ اور دفاع دونوں صورتوں میں مستقبل کی انفنٹری فارمیشنوں کو جدید ہتھیاروں اور نادر تدبیرات سے مسلح کرنا از بس ضروری ہوگا۔ (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -