طوطا کہانی (2)

طوطا کہانی (2)

  

نظام کی اصلاح کے لئے خاطر خواہ فنڈز کی ضرورت ہوگی، جس کا انتظام ملکی اور غیر ملکی وسائل سے ہو سکتا ہے۔تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ کرکے سکولوں کی حالت زار کو بہتر کیا جائے۔یہ سب کرنے کے لئے ایک تعلیمی کمیشن تشکیل دیا جائے جو تعلیمی نظام کی بہتری کے لئے تجاویز تیار کرے۔ اس ضمن میں وسائل کے حصول سے لے کر پورے نظام کی از سر نو تشکیل تک کے سارے مراحل اسی کمیشن کے ذمے ہوں۔حکومت کی رضا مندی حاصل کرکے یہ کمیشن نظام کی تصحیح کے لئے قوانین میں ترامیم تجویز کرے ،جس سے موجودہ سسٹم کی خامیوں اور قباحتوں کو دور کیا جائے۔اس ساری ایکسرسائز میں وسائل کی فراہمی سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ہمارے ماہرین معاشیات سرجور کر بیٹھیں اور وسائل مہیا کرنے کے ذرائع کی نشاندہی کریں۔اس سے قبل ایک سادہ سی تجویز ،جس پر اتفاق رائے ہے ،وہ غیر ضروری اخراجات پر کنٹرول ہے، جس کا اہتمام ہونا ضروری ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس کی وصولی کا ایسا نظام نافذ کیا جائے کہ ہر استطاعت رکھنے والا شخص ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ہمارے سامنے ایشیاء میں ملائیشیا اور جاپان دو ایسی مثالیں ہیں جو مشعل راہ ہو سکتی ہیں۔

جاپان رقبے اور جغرافیائی لحاظ سے پاکستان جیسا ہی ملک ہے جو ابتدائی طور پر زرعی تھا، اس کی فی کس آمدنی اور تعلیمی خواندگی کی شرح ہم سے مختلف نہیں تھی، لیکن جاپانی قوم نے جلد ہی سمجھ لیا کہ قوم کی ناخواندگی دور کرکے ہی اسے بڑی قوم بنایا جا سکتا ہے۔ جاپانیوں نے اپنی زراعت کے شعبے کو جو کہ پاکستان کے مقابلے میں کمزور تر تھا، اس قدر ترقی دی کہ اس سے قومی آمدنی میں جو اضافہ ہوا، اسے صنعتی شعبے کی ترقی کے لئے استعمال کیا گیا۔ اپنے نظام تعلیم کو اس طرح استوار کیا کہ اس سے ایسا تعلیم یافتہ اور تکنیکی ماہرین کا طبقہ تیار کیا، جس نے جاپان کو جدید ترقی کی راہ پر ڈال دیا۔ آج جاپان کو دنیا کے تیسرے بڑے صنعتی ملک کا درجہ حاصل ہے۔ ملائیشیا نے بھی اسی طرح اپنے نظام تدریس کی اصلاح کرکے انقلاب برپا کیا اور ایشیا کے ٹائیگر کا خطاب حاصل کیا۔ان مثالوں کو ہمیں اپنے لئے مشعل راہ بنانا چاہیے۔یاد رہے ملائیشیا نے پاکستان کے پانچ سالہ منصوبوں کی طرز پر پلاننگ کرکے بے مثال ترقی کی ہے، لیکن اس میں سب سے بڑا کمال ان کی تعلیمی نظام کی اصلاح ہے۔ہم ایسا کیوں نہ کر سکے؟ قیادت کے بحران نے ہمیں اندھیروں میں الجھائے رکھا،جس سے قومی وحدت اور یکجہتی کو نقصان کے ساتھ نظام تعلیم کے انحطاط میں بھی اضافہ ہوا۔آج بھی اگر ہم صرف اپنے تعلیمی سسٹم کی اصلاح کرلیں تو جلد ہی دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں شمار ہو سکتے ہیں، کیونکہ ٹیلنٹ سے بھرپور اس قوم کا کوئی دوسری قوم مقابلہ نہیں کر سکتی۔

اقتصادی اہداف کے حصول کے لئے اپنی ضرورت کے مطابق نظام تعلیم کی تشکیل سے ہم سرخرو ہو سکتے ہیں، لیکن اس ترقی کے لئے ایک پلان تشکیل دینا پڑے گا۔صحت، انصاف کی فراہمی، بے ایمانی سے نجات، بے روزگاری میں کمی، دہشت گردی کی بیخ کنی، صنعتی ترقی کے لئے مناسب پلاننگ اور ٹیکس وصولی کے نظام میں اصلاحات درکار ہوں گی جو ہمارے اپنے تعلیم یافتہ افراد ہی انجام دے سکتے ہیں، کیونکہ باہر سے آکر ان مشکلات پر قابو پانے میں کوئی ہماری مدد نہیں کر سکتے۔یہ اصلاحات اس وقت تک نافذ نہیں کی جا سکتیں، جب تک ہمارے قومی تعلیمی نظام سے یہ کام کرنے کے لئے افراد مہیا نہ ہوں گے۔جمہوری روایات کا فروغ جس کی سب سے زیادہ دہائی دی جاتی ہے، اسی وقت ممکن ہوگا جب ہم خود ایسے افراد پیدا کریں گے جو ہمارے ان خوابوں کو تعبیر دے سکیں۔بیروزگاری کے عفریت کا مقابلہ بھی تعلیم عام کرکے ہی کیا جا سکتا ہے اور ایسی تعلیم جو ہماری اپنی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔

ہمیں قیادت کے فقدان کا سامنا کئی دہائیوں سے درپیش ہے۔ یہ بحران اس وقت تک حل طلب رہے گا،جب تک ہم ہر شہری کے لئے تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرکے ایک پڑھی لکھی قوم نہیں بن جاتے۔ ہمیں جو چیلنج درپیش ہیں، ان کا مقابلہ ایک خواندہ قوم ہی کر سکتی ہے۔ہم نے بہت وقت ضائع کر لیا، اب اصلاح کا بیڑہ اٹھا لینا چاہیے۔اگرچہ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے، لیکن اس سے عہدہ برآ ہونے کے لئے کمر کس لینی چاہیے اور اپنے لئے ایک صحیح رخ کا تعین کر لینا ضروری ہے۔ہمارے پاس نابغہ ء روزگار ماہرین تعلیم موجود ہیں جو اس ضمن میں اپنا قومی فرض پورا کر سکتے ہیں۔فوری اور دور رس اقدامات سے ایسا ہونا ناممکن نہیں ہے۔اس ضمن میں قومی قیادت کا متحد ہونا بھی ضروری ہے، جس کا اس وقت فقدان نظر آ رہا ہے۔اگر اس فقدان پر قابو نہ پایا گیا تو وقت کا پہیہ اسی رفتار سے آگے بڑھتا جائے گا اور ہم اس لکیر کو پیٹتے رہیں گے ،جس کو کئی دہائیوں سے پیٹ رہے ہیں۔ہمیں طوطا مینا کی کہانیوں سے باہر نکل کر حقیقت اور عملی دنیا میں آنا پڑے گا، کیونکہ تعلیمی میدان میں اس وقت ہم دنیا سے کئی دہائیاں پیچھے ہیں، اگر ایسا نہ ہو سکا تو ہمارے پاس نہ کوئی طوطا رہے گا اور نہ ہی کوئی مینا، جس سے مزید کہانیاں جنم لے سکیں۔(ختم شد)

مزید :

کالم -