سیاست کرکٹ کا میدان نہیں

سیاست کرکٹ کا میدان نہیں
سیاست کرکٹ کا میدان نہیں

  



چار ہزار سال قبل رومنوں نے کھیلوں کو نئی جدت عطا کی، بڑے بڑے سٹیڈیم تعمیر کئے، جس کے کھنڈرات کہ اپنی شان و شوکت کے ساتھ آج بھی موجود ہیں رومن بادشاہوں نے کھیلوں سے دنیا کو صحت مند مقابلوں کا رجحان دیا۔ شہزادوں نے مقابلوں کے بل بوتے پر اپنی من پسند شہزادیاں حاصل کیں، نامور شہزادیوں اور ملکاؤں نے جان لیوا مقابلے کروا کر طاقتور جیون ساتھی حاصل کئے۔ بادشاہوں کے کھیل میں صحت مند سیاست کا عمل دخل بھی رہا ہے۔ عمران خان 70ء کی دہائی میں کرکٹ کی دنیا میں وارد ہوئے اور 80 ء کی دہائی میں کرکٹ کے ہیرو بننے میں کامیاب ہوئے عمران خان کا کوئی سیاسی بیک گراؤنڈ نہیں تھا لیکن بطور کرکٹ ہیرو انہیں وی آئی پی کا درجہ ملا ملک کے صدر، وزیر اعظم ان کی عزت کرتے تھے اور بڑے لوگوں سے ان کا ملنا جلنا رہتا تھا۔

پاکستانی حکمرانوں کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھ کر عمران خان کے دل میں بادشاہ بننے کی خواہش پیدا ہوئی جسے عملی جامہ پہنانے کے لئے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں آنے کا اعلان کیا۔ دنیا کی تاریخ کے مطابق 99 فیصد فلم سٹار، سپورٹس سٹار ریٹائرمنٹ کے بعد کامیاب سوشل ورکر بنتے ہیں نہ کہ سیاست دان، عمران خان 90 کی دہائی میں ورلڈ کپ کے فاتح بنے، فاتح بننے کے بعد کسی شہزادی کو حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے، البتہ ایک شاہی قبیلے کی خاتون کو شریک حیات بنانے میں ضرور کامیاب ہو گئے جس کے بعد ان کے معاشی حالات میں کافی بہتری آئی۔ 70ء کی دہائی میں فرانس کے پاکستانی سفارت خانے کی ایک محفل میں پاکستانی سفیر کو بینظیر کے کھانے کی پلیٹیں لگاتے دیکھا جو کہ وزیر اعظم بھٹو کی بیٹی تھیں تو ان کے دل میں وزیر اعظم بننے کی خواہش نے بہت زور پکڑا جنرل پرویز مشرف نے صدر بننے کے بعد عمران خان کو وزیراعظم بنانا چاہا لیکن ان کی ناپختگی دیکھ کر فیصلہ مؤخر کر دیا اس کے بعد عمران خان نے اقتدار حاصل کرنے کے لئے بھرپور سیاسی سرگرمیاں شروع کر دیں اور انتھک محنت کرنے کے بعد نوجوانوں اور خواتین کو اپنے دھرنوں اور جلوسوں میں فوج کے کچھ خیر خواہوں کی مدد سے متوجہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

جب عمران خان نے دھرنے کا پروگرام بنایا تو سیاسی پختگی نہ ہونے کی وجہ سے سیاسی یتیم طاہر القادری کو ساتھ ملا لیا جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے مریدوں کو مبارک باد دے کر ملک سے فرار ہو جاتے ہیں۔ عمران کے دھرنا پروگرام کو اسی سیاسی یتیم نے بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ سیاست موقع پرستی کا دوسرا نام ہے جب ان کے دھرنوں اور جلسوں میں عورتوں کی تعداد زیادہ بڑھنے لگی تو اسے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے ہٹ دھرمی کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے تمام حلیف سیاسی جماعتوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا ان کے قریبی ساتھی بھی ان کا ساتھ چھوڑ گئے نتیجتاً انہیں نوازشریف کے استعفے کا مطالبہ چھوڑنا پڑا جس سے وہ سیاسی طور پر بہت کمزور ہو گئے۔ عمران خان کو ڈائریکٹ وزیر اعظم بننے کی خواہش نے انہیں دھرنوں اور جلسوں میں اپنے آپ کو وزیراعظم کہنے پر بھی مجبور کر دیا۔ کسی بھی چیز کی خواہش کرنے کو روکا نہیں جا سکتا۔

عمران خان نوجوان لڑکے اور لڑکیوں میں بہت زیادہ پاپولر ہیں انہیں چاہئے کہ وہ ان میں سیاسی شعور پیدا کریں خیبرپختونخوا کی حکومت پر خاص توجہ دے کر ان کے مسائل حل کریں غربت میں کمی لائیں، تعلیم کے شعبہ پر توجہ دیں۔ اسلام آباد میں جہاں دھرنا دیئے ہوئے ہیں انہی کی ’’ناک‘‘ کے نیچے ابھی تک فرنٹیئر ہاؤس کا بورڈ لگا ہوا ہے، اگرچہ یہ سی ڈی اے کی ذمہ داری ہے، مگر وہ توجہ تو دِلا سکتے تھے، بجائے پارلیمینٹ ہاؤس اور ٹی وی سٹیشن توڑنے کے فرنٹیئرہاؤس کے بورڈ کا نام تبدیل کرائیں جس سے عملی اقدامات ثابت ہوں۔ اپنی صلاحیت و طاقت کا ملک کے مفاد میں استعمال کریں نا کہ نوجوانوں کو سول نا فرمانی کا درس دیں۔ اور نہ ہی ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنیں۔

عمران خان کو میری تحریر ناگوار لگے گی لیکن خدارا قوم کے حالات بہتر کرنے میں مثبت کردار ادا کریں اور مذاکرات سے معاملات کو اپنے حق میں اور قوم کے لئے بہتری کی طرف لائیں۔ نواز شریف اور شہباز شریف کو چاہئے کہ وہ اپنے کاروبار کو توسیع دینے کی بجائے عوام کے مسائل کی طرف زیادہ توجہ دیں اور بہتر وزیروں اور مشیروں کو موقع دیں۔ اپنی ٹیم پر اعتماد کریں، کمزور خارجہ پالیسی کو بہتر کریں اور تمام وزارتیں اپنے پاس رکھنے کی بجائے ہر محکمہ میں قابل وزیر لگائیں۔ ایک انسان کے صرف دو ہاتھ اور دو پیر اور ایک دماغ ہی ہوتا ہے۔دیگر پاکستانی قوموں کو بھی حکومت میں شامل کریں۔ تاکہ سیاست دانوں میں عدم تحفظ کم ہو اور سب مل کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں صرف معاہدوں سے ترقی نہیں ہوتی، جذبے والے انسان معاہدے پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں اور قومیں ترقی کرتی ہیں۔

مزید : کالم