دھاندلی کے بیج کہاں سے آتے ہیں؟

دھاندلی کے بیج کہاں سے آتے ہیں؟
دھاندلی کے بیج کہاں سے آتے ہیں؟

  

ہمارے ملک میں مسائل کی کمی نہیں مگر تازہ ترین مسائل تین ہیں جن کے نام سن سن کر عوام کے کان پک گئے ہیں اور ان تینوں کی ایجاد کا سہرا ہمارے کپتان کے سر ہے، ان میں سرفہرست دھاندلی ہے مگر وہ دھاندلی بالخصوص جو 2013ء کے عام انتخابات میں کہیں سے آن گھسی تھی، دوسرا مسئلہ’’دھرنیات‘‘ کا مسئلہ ہے جو پہلے تو صرف دھرنا یا خالی دھرنا ہوتا تھا مگر اب یہ دھرنیات کہلانے کا مستحق ہو چکا ہے، کیونکہ طویل عرصہ تک جاری رہنے کے باعث، قسم قسم کی رونقوں کے طفیل اور تیسرے اب شہر شہر بستی بستی پھیل جانے کے سبب اسے دھرنیات کا نام دینا زیادہ مناسب ہو گا، خاص کر اس لئے بھی کہ کپتان صاحب کے شریکِ سفر پیرِ ددھرنیات جناب ڈاکٹر طاہر القادری بھی واپس آ کر دوبارہ سے اس کارِ خیر میں ہاتھ بٹانے، روحانی قوت مہیا کرنے اور رونقیں دوبالا کرنے کا اعلان فرما چکے ہیں’’درد دل میں ہے پھر مہمان خدا خیر کرے‘‘!

الیکشن میں دھاندلی کا دعوی تو ایک عالمگیر بیماری بن چکی ہے، جہاں جہاں الیکشن ہوتا ہے وہاں دھاندلی کا پایا جانا بھی لازمی ہے، ایک دھاندلی کرتا ہے تودوسرے کے خلاف دھاندلی ہوتی ہے یا کی جاتی ہے، بڑے بڑے جمہوری ملکوں میں بھی دھاندلی پائی جاتی ہے، لبھورام کا بھارت بھی جمہوری ہونے کا دعویدار ہے (دعویدار اس لئے کہ جہاں چھوت چھات اور طبقاتی تقسیم ہو وہاں جمہوریت محض دعوی ہے اور جہاں تمام مذاہب کے لئے پر امن بقائے باہمی ممکن نہ ہو وہاں سیکولرزم کا دعوی ایک فریب ہے اور اب تو ہندتوا کے علمبردار سب کو ہندو بنانے کے لئے کھل کر سامنے آ گئے ہیں!)امریکہ اور برطانیہ میں بھی دھاندلی کی پکار سنی جا سکتی ہے مگر چند دن، چند ہفتے یا زیادہ سے زیادہ چند ماہ کے بعد خاموشی چھا جاتی ہے، ہمارے ہاں بھی گذشتہ پون صدی سے ہر الیکشن میں دھاندلی کی پکار سنی جاتی ہے، جو بھی جیت گیا اس نے دھاندلی کی اور جو بھی ہارا اس کے ساتھ دھاندلی ہو گئی مگر یہ سب کچھ وقتی ہوتا تھا، مگر اب کے دھاندلی کے خلاف تو واویلا نہیں قیامت کا ہنگامہ برپا ہے اور ڈیڑھ سال سے جاری ہے جس نے دھرنے کا علم بلند کر دیا اور اب یہ دھرنیات میں بدل گیا ہے، اگر اس کا تدارک نہ ہوا تو دھرنیات کو آفات کا رنگ بھی دیا جا سکتا ہے شاید اس کی وجہ نرمی اور چپ کا روزہ ہو!

پاکستان میں کوئی سیاسی جماعت جمہوری انداز میں منظم ہے ہی نہیں(یہاں ہم مذہبی سیاسی جماعتوں کی بات نہیں کر رہے)خالص سیاسی جماعتیں سب غیر منظم اور غیر جمہوری ہیں۔بانی پاکستان مسلم لیگ کو باقاعدہ منظم کر کے ایک فعال اور مضبوط سیاسی جماعت بنانے کا موقع نہ پا سکے، نہ آزادی سے پہلے اور نہ آزادی کے بعد چنانچہ تحریک آزادی میں اکیلے تھے، آزادی کے بعد بھی زندگی نے مہلت نہ دی اسی لئے مسلم لیگ قائداعظم کی وفات کا صدمہ بھی نہ سہہ سکی، ایک ہی تھپیڑے سے بکھر گئی ور موقع پرست ہر طرف سے اٹھنے لپکنے اور مسلم لیگ کی ملکیت کے دعوے کرنے لگے، کانگرس میں جانے کے بجائے اسی وقت مسلم لیگ کی قیادت انہیں مل جاتی تو آج ہماری تاریخ مختلف ہوتی!

اگر پاکستان کے سیاسی سفر کا راستہ جمہوریت ہے(اور یقیناًہے کیونکہ یہ ملک مسلمانوں کے جمہوری ووٹ کی پیداوار ہے)اس لئے آج بھی پاکستانی مسلمان اپنے ملک کو متفقہ ووٹ سے جمہوری ملک بنا سکتے ہیں بشرطیکہ اس جمہوری سفر میں عام مسلمان کو آزادانہ و شفاف رائے دہی کا موقع مل سکے، تو بھی کچھ موذی بیماریوں کا علاج لازمی بلکہ بے حد ضروری ہے جو جمہوریت کے لئے مہلک ہیں جن میں سے ایک قانون کا احترام اور اس پر پورا پورا عمل ہے ہمارے ہاں قانون کی خلاف ورزی ایک فیشن اور وقار یا پریسٹیج کا معاملہ بن گیا ہے ، ہر کوئی قانون پر عمل کو اپنی توہین اور کمزوری بلکہ بے بسی تصور کرتا ہے، عجیب تریہ بات ہے کہ ہر کوئی اپنے مخالف یا غیر کے لئے قانون پر عمل کروانے اور دوسرے کو عبرتناک سزا دلوانے کاداعی ہوتا ہے، جمہوریت کے لئے دوسری بیماری بلکہ زہر قاتل وہ وڈیرہ شاہی ہے جو ہم پر گورا سامراج مسلط کر گیا ہے، مسلم ہندوستان کی تمام زمینیں خراجی اور حکومت وقت یا بیت المال کی ملکیت تھی جس پر 1857ء کے بعد انگریزی سامراج نے قبضہ کر لیا اور پھر اسے حلوائی کی دکان اور ناناجی کی فاتحہ کا منظر بنا دیا.

جس جس نے مغلوں سے غداری کی، گورے کے لئے جاسوسی کی یا چاپلوسی اور خوشامد کی اسے جاگیردار بنا دیا گیا، غدار خوشامدیوں کا یہی ٹولہ وڈیرہ شاہی ہے، وڈیرہ شاہی کا یہی ٹولہ پاکستان کی اراضی پر قابض ہے، اسی ٹولے نے انگریزی سامراج کو دوام بخشنے کے لئے یونینسٹ پارٹی بنائی، تحریک پاکستان کے راستے کا بھاری پتھر بن گیا، ہوا کا رخ بدلتا دیکھ کر اسی خوشامدی اور موقع پرست ٹولے نے1939ء میں شاعر مشرق کی امیدوں پر پانی پھیر نے کے بعد مسلم لیگ کو ہائی جیک کر لیا، 1946ء میں اسی وڈیرہ شاہی ٹولے نے ہندو کانگرس کی مدد سے پنجاب میں مسلم لیگ کی حکومت نہ بننے دی پھر 1948ء میں پاکستان کو ہائی جیک کر لیا اس وقت سے اب تک فرعونی مزاج نوکر شاہی اور کرسی پرست جرنیل شاہی کو بھی ناکام بناتے ہوئے ایک نیا ٹولہ پیدا کر لیا ہے یہ ٹولہ ہے نام نہاد صنعت کار و سرمایہ دار ٹولہ، اس طرح وڈیرہ شاہی اور سرمایہ داری کے محدود کلب نے ملک کے تمام وسائل اور ذرائع پیداوار پر قبضہ کر رکھا ہے جبکہ ملک کی نوے فی صد آبادی کے غریب اور درمیانہ طبقہ کے لوگ عسرت و تنگدستی کی زندگی پر مجبور ہیں! ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ملکی وسائل پر قابض لوگ ٹیکس اور قومی خزانے کے سرکاری واجبات بھی ادا نہیں کرتے بلکہ صرف غریب ملازمین اور متوسط طبقہ کے لوگ ہی ادا کرتے ہیں اور ظلم کی حد یہ ہے کہ سرکاری خزانے میں یہ رقم بھی قرضوں کی شکل میں اوپر کا طبقہ نکلوا لیتا ہے اور پھر قرضے معاف کرا کر ہڑپ کر جاتا ہے!

لیکن ظلم عظیم یہ ہے کہ ملک کی سیاسی باگ ڈور بھی وڈیرہ شاہی اور اوپر والے زرپرست سرمایہ دار طبقہ کے ہاتھ میں ہے، سیاست و حکومت بھی وڈیرہ شاہی اور سرمایہ داری کی آمریت نے اپنے ہاتھ میں لے کر حالات واردہ میں کسی قسم کی تبدیلی کے تمام راستے بند کر دیئے ہیں،غریب طبقات صرف جعلی الیکشن کے ایندھن کے طور پر استعمال کے قابل رہ گئے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ سیاست و حکومت اوپر کے طبقات کا کھیل اور دل بہلانے کے میدان بن کر رہ گئے ہیں، وڈیرے اور سرمایہ دار ان عام لوگوں کے ووٹ خریدتے ہیں یا ڈرا دھمکا کر اپنے حق میں کر لیتے ہیں، اس لئے کتنے بھی الیکشن ہوں یا آزادانہ اور شفاف انتخاب کے دعوے اور اعلان ہوتے رہیں اوپر وہی آئیں گے جو ہمیشہ سے آتے ہیں، غریب کو تو ٹکٹ ہی نہیں دیا جاتا تو اصل خرابی نام نہاد سیاسی پارٹیوں کی آمرانہ لیڈرشپ ہے، چونکہ ان پارٹیوں کی تنظیم ہوتی ہے نہ عام ارکان کی کوئی رائے ہوتی ہے، بس پارٹی لیڈر کا لفظ ہی ان کا قانون ہوتا اور اس کی رائے ہی آخری فیصلہ ہوتا ہے ، جماعتی عہدے تک اسی کے ہاتھ میں ہوتے ہیں، وہی نامزد کرتا ہے تو یہ ہے وہ نرسری جہاں مشاورت اور جمہوریت کے بجائے آمریت جنم لیتی ہے اور پرورش پاتی ہے، یہی نرسری ہے جہاں دھاندلی کے بیج تیار ہوتے ہیں! اس لئے جب تک سیاسی جماعتیں باقاعدہ منظم نہیں ہوتیں، جب تک ان کے داخلی انتخابات نہیں ہوتے اور جب تک پارٹی لیڈر کی آمریت ہی سب کچھ ہے اس وقت تک دھاندلی ہی دھاندلی رہے گی جمہوریت خواب ہی رہے گا! لہٰذا الیکشن کمشن کا یہ بھی فرض ہونا چاہئے کہ اپنی نگرانی میں پارٹی الیکشن بھی کروائے اور اس کے بغیر کسی پارٹی کو عام الیکشن میں شرکت کی اجازت نہ دی جائے!

مزید :

کالم -