چین، روس اور پاکستان : طاقت کی نئی تکون؟

چین، روس اور پاکستان : طاقت کی نئی تکون؟

  

دنیا ایک بار پھر Bipolar World بننے جا رہی ہے۔ چین، روس، پاکستان اور کئی وسطی ایشیائی ریاستیں ایک طرف اور امریکہ، یورپی یونین، جاپان اور ان کے ایشیائی اتحادی دوسری طرف۔ یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہوگی، لیکن جو ممالک فیصلہ نہیں کر پائیں گے۔ ان کے لئے پریشانی ہو سکتی ہے۔ اگر ہم آج کی عالمی سیاست کی بساط پر مہروں کی چال بغور دیکھتے رہیں تو احساس ہوتا ہے کہ حال ہی میں روس اور پاکستان کے تعلقات میں گرم جوشی پیدا ہو رہی ہے جو سرد جنگ کے دوران سرد مہری کا شکار رہے ہیں۔ چین بھی پاکستان کا ایک بہترین اور قابل اعتماد دوست ہے جو ہمیشہ اور ہر معاملہ میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور دونوں کا تاریخی Rival بھارت ہے۔ یہ بھی پاکستان چین دوستی کے بندھن کی مضبوطی کی ’’ایک‘‘ وجہ ہے۔ روس اور چین کی طرف سے پاکستان کی عسکری اور سیاسی، معاشی امداد ایک نئی تکون بننے جا رہی ہے۔ مغرب کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کے بعد روس نے ایشیا اور بالخصوص پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے پر نئی حکمت عملی ترتیب دی ہے۔

*۔۔۔اس ضمن میں سب سے پہلے پاکستان کو اسلحہ کی فروخت پر اپنی ہی عائد کردہ پابندی کو ختم کیا اور سردجنگ کے ان Rivals کے درمیان جدید ترین اسلحہ پاکستان کو مہیا کرنے کا ایک تاریخی معاہدہ ہوا، جس میں معلومات کا تبادلہ، ڈیفنس، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اور افغانستان کے معاملے پر یکساں موقف اختیار کرنا بھی شامل ہے۔

*۔۔۔روس پاکستان کو ڈیفنس اور توانائی کے شعبے میں تعاون مہیا کرے گا اور پاکستان روس سے MI-35 لڑاکا ہیلی کاپٹر خریدنے پر مذاکرات کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ پاکستان روس سے JF-17 لڑاکا جہازوں کے لئے RD-93 انجن خریدے گا۔JF-17 لڑاکا طیارے چین اور پاکستان کا مشترکہ منصوبہ ہے، جس میں روس بھی شامل ہو جائے گا۔ مزید براں روس کی سرکاری کمپنی Rostekh Corporationپاکستان میں 680 میل لمبی گیس پائپ لائن تعمیر کرے گی جو 2017ء تک مکمل ہوجائے گی اور اس پر 2.7ارب ڈالر لاگت آئے گی۔

*۔۔۔ ’’میرے دشمن کا دشمن میرا دوست ہے‘‘۔۔۔ چین اور روس کے درمیان ماضی بعید میں تعلقات کی نوعیت خوشگوار نہیں رہی ہے، لیکن امریکی بالادستی کے خلاف اور امریکی World Orderتبدیل کرنا دونوں کو قریب لانے کی بڑی وجہ ہے۔South China Sea کے معاملے پر چین کی ملکیت کا دعویٰ اور امریکی اتحادیوں کی مخالفت نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ کریمبیا پر روس کا قبضہ اور یو کرائن کے مشرقی صوبہ میں روسی افواج کی موجودگی مغرب کے ساتھ کشیدگی کا باعث بنی۔ اس نے بھی صدر پیوٹن کو نئے اتحادی بنانے پر مجبور کیا۔ ان عوامل نے یہ نئی تکون بنانے کی راہ ہموار کی۔ چین تو ایک عرصہ سے پاکستان میں سرمایہ کاری کررہا ہے اور چین سے اسلحہ کا سب سے بڑا خریدار پاکستان ہے۔ اب پاکستان نے چین سے آٹھ 520 آبدوزیں خریدنے کا معاہدہ بھی کیا ہے۔ ساتھ ساتھ اسلام آباد میں ایٹمی ری ایکٹر کی تعمیر میں بھی معاونت کررہا ہے۔چین اور روس دونوں کے لئے واشنگٹن ایک چیلنج ہے اور دونوں امریکی بالادستی کے خلاف ہیں۔ پاکستان کو بھی اپنے ازلی دشمن بھارت کے خلاف مضبوط اتحادیوں کی ضرورت ہے۔

*۔۔۔ ان حالات کے تناظر میں چین، روس اور پاکستان ایک دوسرے کے لئے اچھے ساتھی ہیں۔ روس چین اور پاکستان کو جدید عسکری Technology فراہم کر سکتا ہے۔ توانائی کے بحران کے خاتمہ کے لئے تعاون کرسکتا ہے۔ چین کی معیشت بہت مضبوط ہے۔ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر اسے ایک موثر سرمایہ کار بنا رہے ہیں۔ پاکستان کو ان دونوں کی ضرورت ہے۔ دونوں کو پاکستان کی ضرورت ہے۔

*۔۔۔ کیا ہم "Bio Polor" دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں یا ایک ایسا بین الاقوامی نظام قائم ہو جائے گا، جس میں "Globalization" کا رجحان مضبوط ہوگا؟ یہ امریکہ پر بھی منحصر ہے کہ جن ’’سخت حالات‘‘ سے دوچار ہے۔ اس سے بطریق احسن عہدہ برا ہو سکے گا؟ بہرحال یہ بات اب طے ہے کہ کوئی ایک ملک پوری دنیا کے حالات پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔

*۔۔۔ امریکی صدارتی انتخاب بھی اگلے سال ہو رہے ہیں۔ اس میں دونوں پارٹیوں کے امیدواروں کا نشانہ روس اور چین ہیں، لیکن وہ اس حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ امریکہ کو اب نئے حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا ہوگا۔ طاقت کا توازن رکھنا ہوگا۔امریکن ایمپائر کا خواب حقیقت نہیں بن سکتا۔

مزید :

کالم -