”اب اس شعبے سے غیرملکیوں کو نکالنا پڑے گا“سعودی عرب نے ایک ایسا کام سعودی شہریوں کے حوالے کرنے کی تیاری پکڑلی جس سے لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار وابستہ ہے

”اب اس شعبے سے غیرملکیوں کو نکالنا پڑے گا“سعودی عرب نے ایک ایسا کام سعودی ...
”اب اس شعبے سے غیرملکیوں کو نکالنا پڑے گا“سعودی عرب نے ایک ایسا کام سعودی شہریوں کے حوالے کرنے کی تیاری پکڑلی جس سے لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار وابستہ ہے

  

جدہ(مانیٹرنگ ڈیسک) تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد سعودی عرب شدید مالی بحران کا شکار ہے اور اب اس کے لیے مزید ایک بری خبر آ گئی ہے۔پہلے ہی کاررینٹل سیکٹر کے 15فیصد کاروبار بند ہو چکے ہیں اوراب ماہرین و تجزیہ کاروں نے اس سیکٹر کے مکمل خاتمے کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سیکٹر میں لیبر قوانین کی خلاف ورزیوں، سعودی نوجوانوں کے محدودنوکری کرنے، ریکوری کے مبہم طریقہ کار، انتظامی قواعدوضوابط، ناقص نظام اور سپیئرپارٹس کی چوری کی وارداتوں کی بناءپر سرمایہ کار اس سیکٹر میں سرمایہ لگانے سے گریز کر رہے ہیں۔

اگر آپ ترکی یا مصر جانا چاہتے ہیں تو اس سے بہتر موقع پھر کبھی نہیں ملے گا کیونکہ۔۔۔

ماہرین کے مطابق اس سیکٹر میں غیرملکیوں کا غلبہ ہے۔جدہ میں 700کاررینٹل دکانوں پر غیرملکی کام کر رہے ہیں جن کا سرمایہ 70ارب ریال ہے۔ کئی سال قبل اس سیکٹر کو تارکین وطن کے لیے ممنوع قرار دینے اور اس میں 100فیصد سعودی شہریوں کو نوکریاں دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس پر اب تک عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ سعودی کونسل کے کمیشن برائے ٹرانسپورٹ کے سربراہ البصامی کا کہنا ہے کہ ” اس سیکٹر میں غیرملکیوں کے غلبے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں سعودی نوجوان نوکری کرنے پر رضامند نہیں ہوتے ۔ یہاں جتنے سعودی کام کر رہے ہیں وہ صرف انتظامی عہدوں پر ہیں۔ اس سے نیچے کی تمام نوکریاں غیرملکیوں کے پاس ہیں۔ بہت سے غیرملکی کار رینٹل کے کاروبار کے مالک بھی ہیں ۔“

مزید :

عرب دنیا -