جمہوریت

جمہوریت
 جمہوریت

  

پاکستان میں کچھ نہ کچھ ایسا ہوتا ہی رہتا ہے جو دنیا میں عموماً نہیں ہوتا۔ دنیا میں ایسے بہت کچھ کی سوچ بھی نہیں ہوتی جو پاکستان میں اچانک ہو جاتا ہے۔

آج کا پاکستان بھی حسب معمول تاریخ کے نازک دور سے گزر رہا ہے اور اس مشکل وقت میں ہماری بدقسمتی دیکھیئے کہ طاقت اور اقتدار ان کے ہاتھ میں ہے جن کی طاقت اور اقتدار نظر بھی نہیں آ رہا۔ عجیب سراسیمگی کا ماحول ہے نہ کسی کو یہ پتہ حاکم کون ہے نہ حکومت کہیں دکھائی پڑتی ہے۔

ہماری قسمت میں ہی ایسا کیوں لکھا ہے۔ ہمارے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ہر آٹھ دس برس کے بعد جمہوری تسلسل لڑکھڑانے لگتا ہے اور اکثر زمین بوس بھی ہو جاتا ہے۔

ہماری جمہوریت میں آخر ایسی کیا خرابی ہے کہ وہ اپنا بوجھ خود سنبھال ہی نہیں پاتی اور سیڑھیوں کے لئے ان اطراف دیکھتی ہے جہاں نہیں دیکھنا چاہئے۔ ہمارا مزاج تو بہر حال جمہوری ہی ہے۔

ہر مرتبہ ہم بہت کاوش اور کوشش کر کے جمہوریت بحال کرواتے ہیں اور پھر وہی ڈھاک کے تین پات دنیا کے پاس ہم سے ایسا کیا مختلف ہے کہ ہم لڑکھڑا کر گر پڑتے ہیں اور دنیا جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے اور اکثر ممالک تو جمہوریت کے سرپر ہی کھڑے ہیں۔

مروجہ اصول کے مطابق جمہوریت کا جواز عوام کی رائے اس کی مضبوطی عوام سے تعلق اور عوامی امنگوں کے مطابق کاروبارِ حکومت چلانا ہے۔ قائدین و حکومتی زعما کا ایماندار ہونا جمہوری حکومتوں کے مطابق کاروبارِ حکومت چلانا ہے۔

قائدین و حکومتی زعما کا ایماندار ہونا جمہوری حکومتوں کے لئے جسم میں خون جتنا ہی اہم ہوتا ہے۔ عوامی رائے کا اظہار چونکہ الیکشن کے ذریعے ہوتا ہے لہٰذا اس پروسیس پر سب کا یہ اعتماد کہ ان کی رائے ایمانداری اور غیر جانبداری سے جمع کر کے نتائج کا اعلان ہو نا بہت ہی ضروری ہے۔

عوام کو آزادانہ اپنی رائے کے اظہار کا ماحول فراہم کیا جانا کہ کوئی انہیں اپنی رائے کے خلاف ترجیح کے لئے مجبور نہ کرے جمہوری عمل کی روح کہا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہے اور یقیناً ایسا ہی ہے تو پھر عوام و سیاسی جماعتیں، عدلیہ سرکاری محکمے اور سیکیورٹی ادارے سبھی اس اہم کام کے سرانجام دینے اور جمہوریت کی مضبوطی یا کمزوری کے لئے ذمہ دار قرار دیئے جا سکتے ہیں۔

اب دیکھتے ہیں کہ ہمارے یہاں کیا ہوتا ہے۔ جمہوری مزاج کا یہ حال ہے کہ خود اپنی جماعتوں کو بھی موروثی جائیدادوں کی طرح بچوں کو منتقل کر دیا جاتا ہے۔ رہی غیر جانبداری سے اپنی رائے کے اظہار کا موقع دینے کی بات تو حالت یہ ہے کہ پورا ملک انتخابی حلقوں میں منقسم ہے اور یہ صرف انتخابی حلقے نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہیں جہاں نافرمانی کرنے والے کو رہنے یہاں تک کہ زندہ رہنے کا حق بھی مشکل سے ہی ملتا ہے۔

جھوٹے مقدمات، جائیدادوں پر قبضوں، مار پیٹ، منصوبہ بند سرقہ زنی اور بعض حالات میں قتل جیسے انتہائی اقدام کے ذریعے عام لوگوں کو کینڈے میں رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

مضبوط لوگوں کے خلاف رائے دینا جان جوکھوں میں ڈالنا ہوتا ہے۔سرکاری و سیکیورٹی اداروں کی ایمانداری کا حال یہ ہے کہ حلقہ وائز ہو رہی اس زبردستی کی سرپرست پولیس ہی تو ہوتی ہے۔

جھوٹے مقدمات اور صاحب ثروت و اقتدار لوگوں کے ایما پر لوگوں کو ذلیل کرنا یہ محکمہ اپنے فرائض منصبی میں سمجھتا ہے۔ بقیہ سرکاری محکموں بالخصوص الیکشن کمیشن کے حالات ملاحظہ فرمائیں کہ 2013ء کے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات نے پچھلے چار برس سے بھی زیادہ عرصے سے اس ملک کی چولیں ہلا رکھی ہیں۔ الیکشن میں دھاندلی کی چار سو سے زیادہ شکایتیں درج ہوئیں اور طویل عدالتی لڑائی کے بعد بہت سے لوگ اپنے اور مخالفین کے ووٹوں کا نادرا سے تصدیق کا حکم نامہ بھی لینے میں کامیاب ہوئے۔

دنیا میں کہیں ایسا نہ ہوا ہوگا کہ پچاس پچاس ہزار ووٹ سے بھی زائد ووٹ غیر تصدیق شدہ نکل آئیں۔ دھاندلی کے الزامات پر جتنے ضمنی الیکشن اس بار ہوئے پاکستان میں شاید اس سے قبل مجموعی طور پر بھی نہ ہوئے ہوں گے۔

لوگوں سے تعلق کا یہ حال ہے کہ عوامی نمائندوں کے اجتماع یعنی پارلیمینٹ میں مقتدر اشرافیہ کی آمد ہنگامی حالات میں ہی ممکن ہوتی ہے نیشنل ایکشن پلان نامی دستاویز کی شقیں آج تک تشنۂ تکمیل ہیں۔ جدھر دیکھو ناکام منصوبوں یا غیر ترقیاتی منصوبوں کی بھرمار ہے کوئی تو یہ سوچ لے کہ کبھی کالا باغ بھی زیر غور منصوبوں میں تھا۔

چلیئے کالا باغ کو چھوڑیئے ۔ دیامر بھاشا کیوں ہماری نظروں سے گر گیا۔ ایسے حالات میں اگر تنقید ہوتی ہے تو الجھن کیسی؟ یہ نقاد میں بھی ہو سکتا ہوں۔ آپ بھی ۔ بطور پاکستانی ہم سب حالات سے متاثر تو ہوتے ہیں اور دنیا جہان میں جمہوریت گڈ گورننس کا مترادف سمجھی جاتی ہے اگر گڈ گورننس نہیں ہو گی جو ہماری ترجیحات میں شامل ہی نہیں تو پھر جمہوریت کو محض شور اور نعروں سے مضبوط نہیں کیا جا سکتا۔

مزید :

کالم -