ہمہ جہت شخصیت پروفیسرمشکور حسین یاد کا انتقال پُر ملال

ہمہ جہت شخصیت پروفیسرمشکور حسین یاد کا انتقال پُر ملال

  

علم و ادب اور درس و تدریس کے حوالے سے ہمہ جہت شخصیت پروفیسرمشکور حسین یاد 92 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ مرحوم کی نمازِ جنازہ آج بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی۔ مشکور حسین یاد نے صاحبِ طرز انشائیہ نویس، منفرد مزاح نگار،شگفتہ شاعر اور ایک شفیق استاد کی حیثیت سے جو شاندار خدمات انجام دیں، وہ ناقابلِ فراموش ہیں، جنہیں طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ مرحوم نے اپنی زندگی میں تین نسلوں کو اپنی خدمات سے فیض یاب کیا جبکہ آنے والی نسلیں بھی انہیں بہت دیر تک یاد رکھیں گی۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی سے نوازا۔ مشکور حسین یاد طویل عرصے تک گورنمنٹ کالج لاہور میں اردو ادب پڑھاتے رہے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ ان کی تصنیف ’’آزادی کے چراغ‘‘ کو بہت زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ جس میں انہوں نے تقسیم ہندو پاک کے موقع پر ہندوؤں اور سکھوں کے ہاتھوں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی تفصیل بڑی درد مندی سے بیان کی ہے ، ان کا خاندان بھی متاثرین میں شامل تھا ۔ مرحوم نے انشایئے اور مزاحیہ مضامین لکھ کر اپنے شاندار اسلوب سے سب کو متاثر کیا۔ ان کی مزاحیہ شاعری کے کئی مجموعے شائع ہوئے وہ روز نامہ ’’پاکستان‘‘ میں طویل عرصے تک کالم لکھتے رہے جبکہ حالاتِ حاضرہ پر ان کے منظوم کلام کو خاص و عام نے پسند کیا۔ مشکور حسین یاد کئی جریدے بھی مرتب کرتے رہے۔ ہفت ر وزہ ’’پکار‘‘ ماہنامہ ’’زعفران‘‘ اور ’’چشمک‘‘ کے ایڈیٹر کی حیثیت سے انہوں نے یاد گار نمبر شائع کئے اور اپنی شاندار تخلیقات بھی ان میں شامل کرتے رہے۔ نظم و نثر دونوں میں ان کا طرز تحریر بے حد متاثر کن رہا ۔ تہذیب و فن کے حوالے سے ادبی حلقوں میں انہیں ہر دور میں سراہا جاتا رہا۔ مرحوم نے ہمیشہ نہایت ذمے دارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے اپنی خدمات کو منوایا۔ ان کے ہزاروں شاگرد تھے، جو فارغ التحصیل ہونے کے بعد بھی ان سے فیض حاصل کرتے رہے۔ ایسی یادگار خدمات انجام دینے والے پروفیسر، ادیب اور شاعر کے انتقال سے علم و ادب کے شعبے میں جو خلا پیدا ہوا ہے وہ طویل عرصے تک پر نہیں ہو سکے گا۔ دعا ہے مرحوم کے درجات کی بلندی کے ساتھ ساتھ پسماندگان اور متاثرین کو صبرِ جمیل عطا ہو (آمین)

مزید :

اداریہ -