’’رجل‘‘ کی تلاش

’’رجل‘‘ کی تلاش
 ’’رجل‘‘ کی تلاش

  

سرکاری محکموں میں لوگ ریٹائر ہوتے ہیں اور نئے لوگ ان کی جگہ لے لیتے ہیں یہ ایک روٹین کا عمل ہے، لیکن ہمارے لئے ایسا لگتا ہے ہ کوئی چیز بھی روٹین نہیں رہی نیب کے سابق چیئرمین سیاسی جماعتوں میڈیا اور سپریم کورٹ کی طرف سے شدید تنقید کی زد میں رہے ہیں۔

ان کے بارے میں کیا کچھ نہیں کہا گیا لیکن چودھری قمر زمان کے بیانات اور تقریروں سے لگتا تھا کہ وہ کرپشن کے خلاف مشن کے طورپرکام کررہے ہیں اور تنقید کا انہوں نے کوئی اثر نہیں لیا جب ان کی ریٹائرمنٹ کا وقت قریب آیا تو ملک ایک بحرانی کیفیت میں مبتلا ہو گیا۔

میڈیا میں بحث چھڑ گئی کہاگیا کہ اب پھر مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی مک مکا کے ذریعے اپنے مطلب کا بندہ لائیں گی لیڈر آف اپوزیشن کی تبدیلی کی کوششیں شروع ہو گئیں لیکن یہ ممکن نہ ہوا،لہٰذا اس سارے شور و غوغا کے باوجود موجودہ طریق کار کے تحت نئے چیئرمین کا انتخاب کرلیاگیا ہے اور توقع کے خلاف فیصلہ مناسب وقت میں کرلیاگیا۔

نئے چیئرمین نیب چونکہ سپریم کورٹ کے جج رہے ہیں اس لئے عوامی سطح پر ان کے خلاف کوئی زیادہ تحفظات ظاہر نہیں کئے گئے سیاسی پارٹیوں نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔البتہ عمران خان نے انتہائی محتاط انداز میں ان کا خیرمقدم کیا ہے ۔

انہوں نے براہ راست فوری طورپرتو کوئی اعتراض نہیں کیا، لیکن بعد میں رائے بدلنے کی پوری گنجائش رکھ لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان کی کارکردگی دیکھیں گے اور ساتھ ہی ایک دھمکی بھی دے دی کہ اگر نواز شریف کے ساتھ وی آئی پی ٹریٹمنٹ کیا گیا تو وہ عوام کو سڑکوں پر لائیں گے

۔یہاں ان کا روئے سخن نیب اور عدالت کی طرف تھا۔ اب جسٹس جاوید اقبال کا امتحان ہے کہ وہ اپنے منصب کے تقاضوں اور سیاسی پارٹیوں کی توقعات کے درمیان توازن پیدا کرنے میں کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں ایک اور مسئلہ بھی درپیش ہوگا وہ یہ کہ سپریم کورٹ نے سابق چیئرمین کو کافی برا بھلا کہا کیا اب بھی نیب کی طرف سے کسی کمی یا کوتاہی پر عدالت کا موجودہ چیئرمین کے بارے میں وہی رویہ ہوگا؟ اور پھر سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف مقدمات کی نگرانی کے لئے ایک جج کو نگران مقرر کیا ہوا ہے کہ اب بھی ایسا ہی ہوگا۔

ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے وہ یہ کہ ہمارا معاشرہ اتنا زوال پذیر ہے کہ اب ہم ایمانداری کی توقع صرف اعلیٰ عدلیہ کے جج سے ہی رکھتے ہیں۔زندگی کے باقی شعبوں سے گویا قوم مکمل طور پر مایوس ہوچکی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے ایک تقریب میں ایک واقعہ سنایا۔ کسی بین الاقوامی فورم میں ہمارے ایک جج کے تقرر کا معاملہ تھا وہاں پر پاکستان کے نمائندے نے جج صاحب کی موزونیت کے حق میں جو تقریر کی اُس میں زیادہ زور ایمانداری پر تھا۔

انتخاب کرنے والے پینل کے چیئرمین نے کچھ مزید کریدا وہ غالباً جج صاحب کی کسی خاص شعبے میں تجربے یا مہارت کے بارے میں پوچھنا چاہتے تھے ۔ ہمارے نمائندے نے اپنی جوابی تقریر میں اس طرح کی تو کوئی بات نہ بتائی، بلکہ پھر دیانتداری کا ذکر کر دیا۔

چیئرمین نے نیم مزاحیہ انداز میں کہا کہ کیا بددیانت جج بھی ہوتے ہیں۔ مطلب یہ کہ دیانتداری تو ایک طے شدہ بات ہے ،جو جج میں ہونی ہی چاہئے یہ کوئی قابلِ ذکر خصوصیت نہیں۔ چیئرمین کو کیا پتہ تھا کہ ہمارے ہاں یہ جنس خاصی نایاب ہے۔

اگر کوئی کمیشن بنانا ہو تو اس کا سربراہ جج ہوگا۔ الیکشن کمیشن کا سربراہ بھی جج ہے پہلے بھی 2013ء کے انتخابات کے لئے ہم نے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لئے ایک جج فخر الدین جی ابراہیم کو تلاش کیا تھا لیکن پھر بھی دھاندلی کا شور مچا دیا۔

اب عمران خان موجودہ چیف الیکشن کمشنر کو جو سپریم کورٹ کے ایک سابق جج ہیں، نواز شریف کا بندہ قرار دے چکے ہیں۔ اگرچہ اپنے کہے پر معافی بھی مانگنا پڑی۔2013ء کے الیکشن کے دوران نگران حکومت کا سربراہ بھی ہم نے ایک جج کو بتایا،لیکن آج کوئی ان کے نام سے بھی شاید واقف نہیں۔

کافی وقت گزرنے کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لئے صرف ذاتی دیانتداری اور غیر جانبداری کافی نہیں،بلکہ اتنے بڑے کام کے لئے انتظامی صلاحیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے،لہٰذا آئندہ کے لئے طے کرلیاگیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے لئے سول سرونٹ بھی موزوں رہے گا،ہمارے پڑوسی مُلک بھارت میں برسرِ منصب سول سرونٹ ہی الیکشن کی نگرانی کرتا ہے اور وہاں تو نگران حکومت کابھی کوئی تصور نہیں، ضروری انتظامی اختیارات انتخابات سے کچھ عرصہ پہلے الیکشن کمیشن کو تفویض کردیئے جاتے ہیں۔

پچھلے انتخابات کے نتیجے میں یہ تقریباً ثابت ہوچکا ہے کہ ہمارے یہاں نگران حکومت کا بھی کوئی خاص فائدہ نہیں بس کچھ لوگوں کا حکومت میں آنے کا چسکہ پورا ہوجاتا ہے اور سیاسی لوگوں کو مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے کا موقع مل جاتا ہے۔

نیب جنرل پرویز مشرف کی تخلیق ہے اوراب تقریباً اتفاق رائے پایاجاتا ہے کہ اُن کے دور میں اسے پولیٹیکل انجینئرنگ کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے اس وقت اس کے چیئرمین کا انتخاب براہ راست صدر صاحب کرتے تھے۔

لیکن اب ہم ایک قدم آگے آئے ہیں اب چیئرمین کا انتخاب وزیراعظم اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اتفاق رائے سے کرتے ہیں اور عدم اتفاق کی صورت میں معاملہ قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی کو ریفر کیاجاتا ہے،جس کے 12 ارکان میں سے نصف اپوزیشن سے ہوتے ہیں بظاہر یہ طریقہ کار کافی معقول ہے، لیکن افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ یہ بات زبان زد عام ہے کہ پچھلے دو چیرمینوں کا تقرر ایک بزنس ٹائیکون نے کرایا تھا۔

ایک تجویز یہ رہی ہے کہ نیب کے چیئرمین کا انتخاب سپریم کورٹ کا چیف جسٹس کرے، لیکن اس میں وہی قباحت ہے کہ کسی کوتاہی کی صورت میں سپریم کورٹ چیئرمین کے لئے کوئی منفی ریمارکس دے تو یہ اپنے انتخاب کو رد کرنے کے مترادف ہو گا۔

نئے احتساب کمیشن کی تشکیل کا مسودہ آج کل پارلیمنٹ کی کمیٹی میں زیرغور ہے توقع کرنی چاہئے کہ نئے قانون میں بہت سی خامیوں کو دور کرلیاجائے گا۔

اسی طرح ہمارا آرمی چیف ریٹائرہوتاہے تو پوری قوم کے لئے ایک مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے۔کم ازکم چھ ماہ پہلے میڈیا میں یہ بحث بڑے زور و شور سے چل نکلتی ہے کہ اب موجودہ آرمی چیف کو توسیع دی جائے گی یا نیا آرمی چیف مقرر کیا جائے گا۔

عموماً تو یہی ہوا ہے کہ کئی آرمی چیف توسیع پاتے رہے۔جنرل راحیل شریف کے عہدے میں توسیع کے لئے بھی کئی مہینے بڑی زور دار تحریک چلتی رہی ہے۔ مارشل لاء میں تو آرمی چیف خود ہی اپنی توسیع کا فیصلہ کرتا ہے، لیکن نئے آرمی چیف کا انتخاب کئی بار بڑے بحرانوں کا سبب بنتا رہا ہے۔

یہاں بھی موزوں آدمی کی تلاش میں حکمرانوں نے بڑے بلنڈرز کئے ،کبھی ہمیں موزوں آدمی آٹھویں نمبر پر ملا، کبھی پانچو یں پر، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ فیصلہ غلط ہوگیا۔

اب چناؤ پہلے تین جرنیلوں تک آگیا ہے جو کچھ مناسب ہے۔ہر آنے والے آرمی چیف کی ہم تعریف کرتے ہیں اوراسے ’’ پروفیشنل سولجر ‘‘قرار دیتے ہیں لیکن بعد میں طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں ۔مجھے تو ڈر ہے کہ جسٹس جاوید اقبال کہیں ’’عزت سادات‘‘ بھی نہ گنوا بیٹھیں۔

دراصل یہ مسئلہ صرف چیئرمین نیب کا نہیں،بلکہ یہ ہمارا قومی مسئلہ ہے ۔سپریم کورٹ کے معاملے میں ہم نے سنیارٹی کا اصول اختیار کرکے یہ مسئلہ حل کرلیا ہے ورنہ اس میں بھی فوراً الزام لگ جاتا ہے کہ چیف جسٹس فلاں کا بندہ ہے دراصل ہم ایسی شخصیت پر شدید الزامات لگا کراسے یہ گنجائش ہی نہیں دیتے کہ وہ اپنے آپ کو غیر جانبدار ثابت کرے۔

دانشور کہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ قحط الرجال کا شکار ہے اور یہ بات بڑی حد تک صحیح بھی ہے،لیکن پھر بھی ہرعہدے کے لئے ہم کسی ’’رجل‘‘ کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ہم شاید یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ مجموعی طورپر ہماری قوم اخلاقی پستی کا شکار ہے۔

مزید :

کالم -