زرعی آلودگی،سموگ اور حفاظتی اقدامات

زرعی آلودگی،سموگ اور حفاظتی اقدامات
 زرعی آلودگی،سموگ اور حفاظتی اقدامات

  

گزشتہ چند دِنوں سے فضائی آلودگی کی ایک قسم جسے سموگ کا نام دیا گیا ہے، کی وجہ سے معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے ہیں۔ صحت عامہ کے بہت سے مسائل پیدا ہوئے ہیں اور سانس، پھیپھڑوں اور آنکھوں کی بیماریوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔

بالعموم فضائی آلودگی کی وجوہات فیکٹریوں، گاڑیوں کے ایندھن اور اِسی طرح کے دیگر ذرائع سمجھے جاتے تھے،لیکن موجودہ سموگ کی اہم وجہ زرعی شعبے کو قرار دیا جا رہا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ بھارتی پنجاب اور ہماری طرف سے بھی کاشتکار دھان کی باقیات کو تیزی کے ساتھ جلا رہے ہیں،جس کی وجہ سے پیدا ہونے والے دھوئیں نے سموگ کو جنم دیا ہے۔ماضی میں زراعت سے روزمرہ کی ضروریات پورا کی جاتی تھیں، آبادی کم تھی،قدرتی طریقوں سے زرعی پیداوار حاصل ہوتی تھی اور زراعت فضائی آلودگی کی بجائے ماحول کو خوشگوار بنانے میں اہم کردار ادا کرتی تھی،لیکن آبادی میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لئے زراعت کے جدید طریقے دریافت کئے گئے ہیں۔اس کے علاوہ اب زراعت غذائی ضروریات پوری کرنے کا نام ہی نہیں،بلکہ ایک کاروبار اور منافع کمانے کا ذریعہ بن چکی ہے۔

جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پیداوار میں تو ضرور اضافہ ہوا ہے،لیکن اس کی بدولت زرعی آلودگی کے بھی سنگین مسائل پیدا ہوئے ہیں۔اِن مسائل پر ماضی میں تو خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی،لیکن مستقبل میں اِن مسائل سے چشم پوشی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

زرعی پیداوار بڑھانے کے لئے کیمیائی کھادوں کے استعمال میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ کھادوں کے بے تحاشا استعمال سے امونیا اور نائیٹریٹ کی کافی مقدار زیر زمین سرایت کر جاتی ہے۔

یہ کیمیائی مادے جب پانی میں شامل ہوتے ہیں تو زیر زمین پانی کی کوالٹی کو متاثر کرتے ہیں اور یہ پانی انسانی صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ بن جاتا ہے۔

اس کے علاوہ فصلوں کے کیڑوں، بیماریوں اور جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے کیمیائی زہروں کے استعمال میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ زہر ایک طرف تو زیر زمین پانی کی کوالٹی پر اثر انداز ہوتے ہیں، دوسری طرف ان کے پودوں پر اثرات بھی دیرپا ہوتے ہیں اور انسان یا حیوان جب ان کا استعمال کرتے ہیں تو زہریلے اثرات کی وجہ سے بہت سی بیماریاں پیدا ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔

پھلوں اور سبزیوں پر کیمیائی زہروں کے بے تحاشا استعمال سے پھل اور سبزیاں استعمال کرنے والوں کے لئے صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

ان زہروں کے اثرات جانوروں میں موجود ہوتے ہیں اور جب انسان ان کا دودھ یا گوشت استعمال کرتے ہیں تو یہ اثرات اُن میں منتقل ہو جاتے ہیں۔اس کے علاوہ پولٹری فیڈ میں مضر صحت اجزاء مرغیوں کے گوشت کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہو سکتے ہیں،جن اجزاء سے فصلوں کے لئے کھادیں بنائی جاتی ہیں،اُن میں بھی بعض ایسے عناصر پائے جاتے ہیں،جو انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ہیں۔اُن میں بہت سی بھاری دھاتیں،مثلاً کیڈیم، فلورائیڈ،یورینیم موجود ہوتی ہیں۔اس کے علاوہ سٹیل انڈسٹری کی ایسی باقیات کو، جن میں زنک کی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے، بطور کھاد استعمال کیا جاتا ہے، یہ اور بھی خطرناک ہے،کیونکہ اس میں مرکری، لیڈ، آرسینک، کرومیم اور نکل جیسے عناصر موجود ہوتے ہیں، جو انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ہیں۔فصلوں کے کیڑوں اور بیماریوں کا مسئلہ بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

سائنس دان اب ان کے انسداد کے لئے نئے پودے اور کیڑے متعارف کرا رہے ہیں۔ اِس طریقے سے ان کیڑوں کا وقتی انسداد تو ممکن ہو جاتا ہے،لیکن بعد میں یہ پودے اور کیڑے خطرناک بھی ثابت ہو سکتے ہیں،اسی طرح پودوں میں جینیاتی تبدیلیاں کر کے اُن میں کیڑوں کے خلاف مدافعت پیدا کی جا رہی ہے۔

جینیاتی تبدیلیوں سے پودوں میں زہریلے جرثومے پیدا ہو جاتے ہیں جو کیڑوں کا انسداد کرتے ہیں،لیکن پودوں میں ان جینیاتی تبدیلیوں کے انسانی صحت پر کس طرح کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں،اِن پہلوؤں پر ابھی مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔

مثال کے طور پر کپاس کے چند کیڑوں کے انسداد کے لئے سائنس دانوں نے کپاس کے پودوں میں جینیاتی تبدیلی کر کے ان میں ایک زہریا بیکٹیریا پیدا کیا ہے،جس سے کپاس کے چند کیڑے تو کنٹرول ہو جاتے ہیں،لیکن اس کے کپاس کے بیج پر،جن سے تیل نکلتا ہے اور گھی تیار ہوتا ہے،کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ان پر مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ زراعت کے بعد لائیو سٹاک کا شعبہ اب تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق گرین ہاؤس گیسوں کا18 فیصد لائیو سٹاک کا شعبہ پیدا کرتا ہے۔ زرعی آلودگی کے مسئلے کی سنگینی میں اِن دِنوں مزید اضافہ دھان کی باقیات کو آگ لگانے کی وجہ سے ہوا ہے۔یہ مسئلہ انڈیا اور پاکستان مل کر ہی حل کر سکتے ہیں۔

اِس سلسلے میں حکومت، کاشتکاروں اور محکمہ زراعت کو تعاون کرنا چاہئے۔ محکمہ زراعت کاشتکاروں کی رہنمائی کرے کہ دھان کی باقیات کو آگ لگانے کی بجائے اسے زمین میں دبا کر کھاد تیار کریں اور زمین کی زرخیزی بڑھائیں۔

حکومت دھان کی باقیات کو زمین میں دبانے کے لئے کاشتکاروں کو رعایتی نرخوں پر زرعی مشینیں فراہم کرے تو آئندہ سال کاشتکار دھان کی باقیات کو کم سے کم آگ لگائیں گے،جس سے سموگ کی شدت میں کمی آئے گی۔

اس سلسلے میں بھارتی حکومت سے بھی مذاکرات کئے جائیں اور انہیں بھی حفاظتی اقدامات پر آمادہ کیا جائے۔ زرعی آلودگی ہو یا فضائی آلودگی یا پھر سموگ کا مسئلہ ہو،یہ مسائل کوئی بھی مُلک تن تنہا حل نہیں کر سکتا۔ اِس ضمن میں عالمی تعاون درکار ہے۔ عالمی نہیں تو علاقائی تعاون کی تو فوری کوششیں کی جانی چاہئیں۔

مزید :

کالم -