کراچی: ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

کراچی: ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
 کراچی: ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

  

آج کل اسٹیبلشمنٹ کا ذکر پھر زوروں پر ہے۔ کئی عام پاکستانی تو اسے ایک ایسی خاتون سمجھتے ہیں جو چھلا وے کی طرح کبھی اِدھر اور کبھی اُدھر اٹھکیلیاں کرتی دکھائی دیتی ہے۔

شیدا ریڑھی والا اکثر اس کے بارے میں سوال پوچھتا ہے، مگر مَیں اسے جب سمجھا نہیں پاتا تو اسے اسی تندور والی کی مثال دیتا ہوں جو اس کے گھر کی پشت پر بیٹھی ہے اور سارا دن روٹیاں لگانے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی شکایتیں بھی لگاتی رہتی ہے اور لگائی بجھائی کی بھی ماہر ہے۔

شیدا بڑا خوش ہوا کہ اسے اسٹیبلشمنٹ مل گئی، لیکن جب سے اس نے کراچی میں ایم کیو ایم اور پی ایس پی کے درمیان نورا کشتی دیکھی ہے یہ پوچھ پوچھ کر ہلکان ہو رہا ہے کہ وہاں بھی کیا کوئی تندور والی دونوں کے درمیان لڑائی کرا رہی ہے؟ مَیں ابھی اس سے مغز خوری کر کے آیا ہوں، اسے سمجھانا اتنا ہی مشکل ہے، جیسے مصطفےٰ کمال کے لئے فاروق ستار کو سمجھانا مشکل ہو چکا ہے، کیونکہ جب تک کوئی دل سے بات سمجھنا نہ چاہے، اسے کون سمجھا سکتا ہے۔

خیر اب تو میرا حال بھی یہی ہے کہ مجھے کراچی میں اسٹیبلشمنٹ کی حکمت عملی کی سمجھ نہیں آ رہی۔ جب سے مصطفےٰ کمال نے یہ انکشاف کیا ہے کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ نے فاروق ستار سے ملاقات کے لئے کہا تھا۔

اس وقت سے مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آ سکی کہ جب اسٹیبلشمنٹ نے یہ سب کچھ کرایا ہے، جسے لوگ اس دن رشتے اور نکاح کا نام بھی دے رہے تھے تو پھر اچانک یہ کیا ہوا کہ اگلے دن فاروق ستار اس دولہے کی طرح ثابت ہوئے جو ولیمے والے دن گھر سے بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔

کیا وہ اتنے ہی بے بس اور لائی لگ تھے کہ بر وقت رشتے سے انکار نہیں کیا اور جب نکاح ہو گیا، پریس کانفرنس میں سب کچھ کہہ سن لیا تو بغل گیر ہونے کے بعد رخصتی لے کر گھر گئے، تب پتہ چلا کہ ان سے تو بہت بڑا ہاتھ ہو گیا ہے۔اب سارا نزلہ بے چاری اسٹیبلشمنٹ پر گرایا جا رہا ہے، لیکن اس روز دلہن کا انتظار کرنے والے دولہے کو کوئی کچھ نہیں کہہ رہا۔

یہ کیسی لیڈر شپ ہے جس کا اپنا کوئی دماغ ہی نہیں اور اسے اپنی انگلیوں پر نچانے والے آسانی سے اپنا کام دکھا جاتے ہیں۔ کراچی میں جو کچھ بھی ہوا ہے، بے معنی اور بے مقصد نہیں ہوا ، اسے صرف اس سادگی سے نہیں دیکھنا چاہئے کہ ایم کیو ایم اور پی ایس پی میں ضم ہونے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

صاحبو! معاملہ یہ نہیں۔ یہ تیر جس نے بھی چلایا ہے، اس نے اس سے کئی شکار کئے ہیں۔ یہ تو آنے والے دنوں میں علم ہو گا کہ آخر اس سارے کھیل کا مقصد کیا تھا؟ تاہم یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ایم کیو ایم ایک ایسی جماعت بن چکی ہے جو اپنے مرکز اور رہبر کی راہ دیکھ رہی ہے۔

مصطفےٰ کمال کی یہ بات بہت اہم ہے کہ کراچی میں جو کچھ ہوا، وہ چٹ منگنی پٹ بیاہ کی کوئی صورت نہیں تھی۔ اس کے لئے سات آٹھ ماہ سے مذاکرات جاری تھے اور ان مذاکرات میں صرف فاروق ستار ہی نہیں،بلکہ رابطہ کمیٹی کے کئی ارکان بھی شامل ہوتے تھے۔

ان کے اس دعوے کی ابھی تک فاروق ستار سمیت کسی نے تردید نہیں کی۔ کیا یہ سب کچھ بھی اسٹیبلشمنٹ کرا رہی تھی۔ اگر جواب اثبات میں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ایم کیو ایم اسٹیبلشمنٹ کی ہدایات پر عمل کر رہی تھی۔ان مذاکرات کا دونوں طرف سے کسی نے ذکر نہیں کیا، اگر اسٹیبلشمنٹ ایم کیو ایم کو اتنی ہی ناپسند تھی تو یہ سب کچھ وہ کیوں کرتی رہی۔ایم کیو ایم اور پی ایس پی کے درمیان اتحاد کرانا تو کوئی ایسی بات ہی نہیں تھی، اصل مسئلہ تو غالباً یہ تھا کہ ایم کیوا یم کو ضم ہونے پر آمادہ کیا جائے۔

وہ لگتا ہے کہ فاروق ستار کی حد تک آمادہ ہو بھی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پریس کانفرنس میں مصطفےٰ کمال کی سب باتیں فاروق ستار سنتے رہے اور کسی نکتے پر بھی انہیں نہیں ٹو کا۔ مصطفےٰ کمال نے واشگاف الفاظ میں مہاجر سیاست اور ایم کیو ایم ختم کرنے کا اعلان کیا، فاروق ستار خاموش بیٹھے رہے۔

وہ مصطفےٰ کمال کی بات چیت کے بعد مائیک پکڑ کر اختلاف کا اظہار بھی کر سکتے تھے،جو انہوں نے نہیں کیا اور بعدازاں خیر سگالی کے لئے مصطفےٰ کمال سے بغل گیر بھی ہوئے۔اب جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ اس ساری مشق کا حاصل وصول کیا ہے؟ تو کچھ باریک نکتوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔

ایم کیو ایم پاکستان کا ہمیشہ یہ دعویٰ رہا ہے کہ اس کا لندن والی ایم کیو ایم اور الطاف حسین سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس دعوے کی قلعی کھولنے کے لئے ایک ایسا ٹیسٹ ضروری تھا، جس سے یہ پتہ چل سکے کہ فاروق ستار از خود فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں یا نہیں؟ اس سارے کھیل میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ایم کیو ایم آج بھی اپنے بانی کے مہاجر کارڈ کے ہاتھوں میں یرغمال بنی ہوئی ہے۔

ایم کیو ایم کو ختم کرنے کی بات چند گھنٹوں میں اس لئے یوٹرن میں بدل گئی کہ لندن سے گرین سگنل نہیں ملا۔ ایم کیو ایم پاکستان اور اس کے چیئرمین فاروق ستار بری طرح اس ٹیسٹ میں ناکام ہو گئے اور یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ ایم کیو ایم صرف ایک ہی ہے، اسے دو ناموں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔

اگر دوسرے زاویے سے دیکھیں تو اس سارے ڈرامے کا مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار کی پارٹی پر گرفت کو مضبوط کیا جائے۔ اس تاثر کو گہرا کیا جائے کہ پارٹی میں فاروق ستار کے مقابلے میں کوئی متبادل قیادت نہیں اور دوسرا یہ کہ اب ایم کیو ایم پاکستان کے قائد صرف فاروق ستا رہی ہیں یہ ان کا سیاسی قد بڑھانے کی ایک کوشش بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اب ایم کیوا یم پاکستان کو الطاف حسین کی شراکت کے بغیر سنبھال سکتے ہیں۔

مجھے نہیں لگتا کہ اسٹیبلشمنٹ اگر اس سارے کھیل میں فریق ہے تو وہ کوئی ایسا کام کرنا چاہتی تھی کہ کراچی کی سیاست کے اسٹیک ہولڈرز تبدیل ہو جائیں،بلکہ میرا خیال ہے کہ اس عمل کا مقصد یہ تھا کہ کراچی کی فضا میں ایک فکری تبدیلی لانے کی کوشش کی جائے۔ عوام کو ایسا پیغام دیا جائے کہ وہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ مہاجر سیاست نے انہیں کیا دیا ہے اور کیا نقصان پہنچایا ہے؟

غور کیا جائے تو اس نکتے پر اب کراچی میں بحث شروع ہو چکی ہے۔ یہ پیغام بھی مل گیا کہ کراچی کو مستقل امن دینا ہے تو لسانی بنیادوں پر سیاست کو دفن کرنا پڑے گا۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ حقیت بھی سامنے آ چکی ہے کہ خود مہاجروں کے نمائندے اب مہاجر کارڈ نہیں کھیلنا چاہتے، کیونکہ الطاف حسین کا یہ نظریہ مہاجروں کے لئے فائدے کی بجائے نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔

ایم کیو ایم کے پی ایس پی کے ساتھ بیٹھ کر پریس کانفرنس کرنے اور اس میں فاروق ستار کی طرف سے ایک نشان ، ایک جھنڈے اور ایک نام سے انتخابات میں حصہ لینے کی جو بات کی گئی، اس نے پی ایس پی کا سیاسی قد بڑھا دیا ہے اور یہ تاثر پیدا ہو چکا ہے کہ پی ایس پی بھی کراچی کی اسٹیک ہولڈر ہے۔ گویا اب کراچی میں ایک لکیر کھینچ دی گئی ہے کہ وہاں مہاجروں کے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جو مہاجر سیاست کے خلاف ہیں۔

پہلے کراچی میں یہ تقسیم موجود نہیں تھی۔ وہاں مہاجر رہنماؤں کے اندر ایسا کوئی نہیں تھا جو یہ کہنے کی جرأت کرتا کہ مہاجروں کے نام پر سیاست نے ہمیں لاشوں کے سوا کچھ نہیں دیا، اس کا فائدہ صرف لندن میں بیٹھے ہوئے الطاف حسین کو ہوا۔ مصطفےٰ کمال اور ایم کیو ایم سے نکلے ہوئے سرکردہ رہنماؤں کی طرف سے یہ بیانیہ اور اس کا فاروق ستار کے ساتھ بیٹھ کر اظہار، اسٹیبلشمنٹ ہو یا مصطفےٰ کمال، ان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کراچی میں جو کچھ ہوا وہ پرویز مشرف کو ایک نئی جماعت کا سربراہ بنانے کی کوشش تھی، یعنی یہ کہ جب پی ایس پی اور ایم کیو ایم ضم ہو جاتیں تو انہیں سربراہی کے لئے پرویز مشرف کا انتخاب کرنا پڑتا۔

میرے نزدیک اس آئیڈیے میں کوئی جان نہیں۔ پرویز مشرف کی تو اپنی جماعت موجود ہے، مگر وہ پاکستان واپس آنے کی پوزیشن میں نہیں، انہیں اسٹیبلشمنٹ کیسے گرین سگنل دے سکتی ہے کہ وہ اچانک واپس آ جائیں اور کراچی میں بیٹھ کر سیاست کریں؟ میرے خیال میں یہ ایک وقتی ڈرامہ تھا۔

جس سے جو مقاصد حاصل کرنا مقصود تھے وہ حاصل کر لئے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کیوں چاہے گی کہ کراچی میں مہاجروں کا ووٹ بینک یکجا رہے۔

بہتر تو یہی ہے کہ ان کا ووٹ بنک تقسیم ہو جائے تاکہ کراچی کی سیاست میں تبدیلی لائی جا سکے۔ اس لئے پی ایس پی اور ایم کیو ایم میں اتحاد یا ان کا انضمام مقصد نہیں تھا، مقصد غالباً صرف یہ تھا کہ اس وقت جو لوگ مہاجروں کے نام پر سیاست کر رہے ہیں،ان کی اصلیت کو سامنے لایا جائے، جس میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کی جا چکی ہے، اب آگے آگے دیکھئے کیا ہوتا ہے۔

مزید :

کالم -