آف سیزن اور آن سیزن مینجمنٹ فارمولے پر عمل کرنے سے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوگیا

آف سیزن اور آن سیزن مینجمنٹ فارمولے پر عمل کرنے سے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار ...

  

فیصل آباد(بیورورپورٹ )پنجاب میں آف سیزن اور آن سیزن مینجمنٹ فارمولے پر عمل کرنے سے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوا ہے جبکہ کپاس کے کاشتکاروں کو دی گئی تربیت سے نہ صرف کپاس کی پیداوار میں اضافہ بلکہ اس کا معیار بھی بہتر ہوا ہے نیزکپاس کی قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھنے کو ملا ہے جس سے کسان خوشحال ہوگا جو پاکستان کی خوشحالی کی ضمانت ہے ۔ محکمہ زراعت کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی کپاس کے اعلیٰ معیار اور کیڑوں سے محفوظ ہونے کی وجہ سے اس کو دنیا بھر میں پسند کیا جارہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہکپاس کی پیداوارمیں کمی کی وجوہات میں دیگر عوامل کے علاوہ کپاس کی غلط طریقہ سے چنائی بھی ہے جس سے کپاس کی کوالٹی اور معیار متاثر ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آلودگی سے پاک کپاس کے حصول کے لیے کپاس کی چنائی احتیاط سے کریں کیونکہ آلودگی سے پاک کپاس کی کوالٹی بہتر ہو تی ہے اور منڈی میں کپاس کے نرخ زیادہ ملتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت کی طرف سے خواتین کو کپاس کی چنائی کی تربیت فراہم کی گئی ہے وہ رہنما اصولوں پر عمل کریں، صاف ستھری اور معیاری کپاس کے حصول کے لیے محکمہ زراعت کی سفارشات اور احتیاطی تدابیر کو مدِّنظر رکھیں۔انہوں نے کہا کہ کپاس کی چنائی ہمیشہ اس وقت کریں جب کپاس سے شبنم کی نمی بالکل ختم ہو جائے کیونکہ اگر نمی والی کپاس کو گوداموں میں رکھ دیا جائے تو اس کے ریشے کا رنگ خراب ہو جا تا ہے اور گوداموں میں ضرورت سے زیادہ درجہ حرارت پیدا ہونے کی وجہ سے کپاس کے بیج کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چنائی کا صحیح وقت صبح 10 بجے کے بعد شروع ہو تا ہے۔ شام 4 بجے تک چنائی بند کردیں۔ کپاس کی چنائی کا درمیانی وقفہ 15 سے 20 دن رکھیں کیونکہ جلدی چنائی کرنے سے غیر معیاری اور کچا ریشہ حاصل ہو تا ہے۔ ایسی روئی مقامی اور عالمی منڈی میں بہت کم قیمت پر فروخت ہو تی ہے۔

مزید :

کامرس -