جدید گاڑیوں کی طلب بڑھنے سے کار اسیسریز کی مانگ بھی بڑھ گئی:ایس ایم نوید

جدید گاڑیوں کی طلب بڑھنے سے کار اسیسریز کی مانگ بھی بڑھ گئی:ایس ایم نوید

  

لاہور(اے پی پی ) پاکستان میں نئی اور جدید گاڑیوں کی مانگ میں اضافہ کی وجہ سے کار اسیسریز کی مانگ بھی بڑھ گئی،چینی کمپنیوں نے مکینیکل پارٹس، کار اسیسریز اور الیکٹرک موٹر پارٹس کی صنعت میں مشترکہ سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کر دیا،آٹو موٹیو پالیسی 2016-2021 کے تحت پلانٹ قائم کرنے کی صورت میں غیر ملکی سرمایہ کار کو پاکستان میں ایک بار تمام پلانٹ مشینری زیرو ڈیوٹی پر درآمد کرنے کی اجازت ہو گی،پانچ سال کی مدت تک لوکل پارٹس پر10فیصد جبکہ غیر ملکی مشینری پارٹس پر25 فیصد سبسڈی دی جائے گی۔ پاک چین جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ایس ایم نویدنے اے پی پی کو بتایا کہ ملک میں کے آٹوموبئیل اور بلڈنگ انفراسٹرکچر سیکٹر میں موجود مشترکہ سرمایہ کاری کے امکانات موجود ہیں جبکہ پاکستان میں آٹو موٹیوز کی صنعت سب سے ترقی کرتی صنعتوں میں سے ایک ہے جوکہ 4فیصد ملکی جی ڈی پی کی حصہ دار ہے اور18 لاکھ افراد کو روز گار مہیاکر رہی ہے۔ ایس ایم نوید نے بتایا کہ نئی اور جدید گاڑیوں کی مانگ میں دن بہ دن اضافہ کی وجہ سے کار اسیسریز کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ چین میں ان اشیاء کی بہت بڑی مانگ ہے جس کے تحت وسیع پیمانے پر کارخانے قائم کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ان اشیاء کی بہت بڑی مانگ کے پیش نظر اس صنعت میں اشتراک کے روشن امکانات موجود ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ چینی طرز کے جدید کارخانے پاکستان میں بھی قائم کئے جائیں گے جس کی بدولت پاکستان کے آٹو سیکٹر کے معیار میں بہتری آئے گی اور قیمت میں کمی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیوں نے پاکستان میں چائنہ ٹاؤن کی تعمیر میں بھی گہری دلچسپی ظاہر کی ہے ۔

جہاں ابتدائی طور پر پاکستان میں موجود چینی سرمایہ کاروں اور ماہرین کو رہائش فراہم کی جائے گی لیکن بعد ازاں اس رہائشی ماڈل کو پاکستانی عوام کیلئے بھی عام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین چیمبر چائنہ ماڈل ٹاؤن کے قیام کیلئے پہلے سے ہی کوشاں ہے تاکہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں زیادہ سے زیادہ چینی سرمایہ کاری لائی جا سکے۔ انہوں نے تجویز دی کہ کنسٹرکشن کی صنعت کو فروغ دینے کیلئے ضروری ہے کہ پہلے عوام کے سامنے ایک رہائشی ماڈل پیش کیا جائے اور بعد ازاں مانگ کے تحت اس رہائشی ماڈل کو عوام کیلئے بھی تعمیر کیا جائے۔

مزید :

کامرس -