ملکی معیشت کی ترقی خواتین کی بہتر کاروباری مواقع فراہم کرنے سے مشروط ہے

ملکی معیشت کی ترقی خواتین کی بہتر کاروباری مواقع فراہم کرنے سے مشروط ہے

  

شازیہ سلیمان کا تعلق لاہور کے پڑھے لکھے کاروباری گھرانے سے ہے جنہوں نے لاہور کالج فار ویمن یو نیورسٹی سے پو لیٹیکل سائنس میں ماسٹرکی ڈگری حاصل کر نے بعد کاروبار کی دنیا میں قدم رکھا اور آج نہ صرف پاکستان میں بلکہ انٹر نیشنل سطح پر کارور کر رہیں ہیں ۔شازیہ سلیمان لاہور کے پو ش علاقے میں لر ننگ پریری پری سکول کے ساتھ ساتھ2011سے انٹر گلوب ٹر یو لز اینڈٹورز کے نام سے کاروبار کر رہی ہیں اور دنیا بھر کے خوبصورت ممالک میں سیرو سیاحت کی غرض سے خواتین اور فیملیز کے ٹورز لے کر جاتی ہیں اور آج کامیاب ویمن بزنس کے حوالے سے معروف ہیں ۔شازیہ سلیمان کے شوہر ڈاکٹر سلیمان سلطان ہیں جو ایک سینئر سی ایس پی آفیسر ہیں ۔ شازیہ سلیمان کا کہنا ہے کہ آج کامیاب کاروباری خاتون ہونے کے پیچھے میر ے سر تاج اور میر ی فیملی کا ہاتھ ہے جنہوں نے ہر موڑ پر میر ی حو صلہ افزائی کر تے ہوئے مجھے محنت اور بس محنت کی تلقین کی۔شازیہ سلیمان سپورٹس میں دلچسپی رکھتی ہیں جنہوں نے سٹو ڈنٹ دور میں مختلف کھیلوں میں حصہ لیا ۔شازیہ سلیمان پنجاب لائبریری فاؤ نڈیشن کی بورڈ آف گورنر ز کی ممبر ،انرویل کی سینئر ممبر ، یو ایس ایڈ کی ایلو مینائی ممبر اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ایگزیکٹو کمیٹی کی ممبر ہیں ۔ شازیہ سلیمان 2016-17میں ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی صدر منتخب ہوئیں اور خواتین کے حقوق بلند کر نے سمیت خواتین میں کاروباری شعور اجاگر کر نے کے لیے گراں قدر خدمات سر انجا م دیں ہیں۔

پاکستان کی 54فیصد آبادی کا تناسب خواتین پر مشتمل ہے جس میں سے بر سر روزگار خواتین مجمو عی تعداد کا ایک فیصد بھی نہیں بنتی جبکہ کاروباری خواتین تو آٹے میں نمک کے برابر ہیں تاہم ملازمت پیشہ خواتین کی تعداد ضرور زیادہ ہے لیکن وہ بھی کل آباد کا ڈیڑھ یا دو فیصد ہیں۔جب سے خواتین کے تعلیمی اور تر بینی اداروں میں اضافہ ہوا ہے پروفیشنل خواتین کی تعداد بھی آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے ۔تمام تر اقدامات کے باوجو د خواتین ملکی معاشی یا معاشرتی ترقی میں تاحال وہ کردار ادا نہیں کر پا رہیں ہیں جس کی ملک و قوم کو فی الوقت ضرورت ہے ۔محتر مہ بے نظیر بھٹو جب پاکستان کی وزارت عظمی کے عہدے پر فائز ہوئیں تو خیال ظاہر کیا جارہا تھا کہ اب خواتین کو ترقی کے مزید مواقع میسر آئیں گے اور وہ معاشرے کی مفید شہری کے طور پر دکھائی دیں گیں لیکن بوجوہ ایسا نہ ہو سکا اور زندگی کی دوڑ میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ آنے کی بجائے خاصے فاصلے پر ہی رہیں۔بعض معاشرتی رکاوٹیں ایسی ہیں جو خواتین کو آگے بڑھنے میں حائل دکھائی دیتی ہیں اس میں مختلف ادوار میں بر سر اقتدار آنے والی حکومتوں کا بھی بڑا عمل دخل رہا ہے جوعورتوں کو ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر نے کی طرف مائل ہی نہیں کر سکیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کاروباری خواتین کو مساوی حقو ق و مواقع فراہم کر نے کے لیے سر کاری سر پر ستی کی جائے اورایسی خواتین جن میں تمام تر صلاحیتیں اور خصو صیات ہونے کے باوجو دان کو گھر گھرستی میں زنگ کھائے جارہا ہے ان کی مثبت اور تیز سوچ سمجھ کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ان میں مذید نکھار پیدا کرنا ہو گا اور خواتین کو کاروبارکرنے کی جانب راغب کر نے کے لیے نہ صرف سیمینار کا انعقاد بلکہ خواتین کے شعور کو اجاگر ٹھوس حکمت عملی اپنا نا ہو گی جس کے لیے اقتدار کے ایوانوں سے جدوجہد کا آغاز کرنا ہو گاتاکہ پاکستان کی خواتین بھی کاروباری سر گر میوں میں دلچسپی لیتے ہوئے نہ صر ف اپنے اور اہلخانہ کی مالی ضرورتوں کو باآسانی پورا کر سکیں بلکہ بین الاقوامی مارکیٹوں میں تجارت کر کے ملک کے لیے کثیر زرمبادلہ کما سکتیں ہیں۔

روزنامہ پاکستان کی جانب سے بزنس پاکستان کے لیے ملکی و بین الاقوامی سطح پر بزنس کر نے والی خاتون شازیہ سلیمان سے خصوصی ملاقات کی گئی جس میں انہوں نے پاکستانی خواتین میں موجو د پو ٹینشل اور حکومت کی جانب سے کاروباری خواتین کو خاطر خواہ ریلیف نہ ملنے پر تفصیلی انٹر ویو دیا ۔شازیہ سلیمان ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی مرکزی رہنماء اور سابق صدر ہیں جن کا کہنا ہے کہ پاکستانی خواتین میں بہت پو ٹینشل موجو د ہے جو کسی بھی شعبہ میں اپنی صلاحیتوں کا لو ہا منوا سکتیں ہیں جبکہ ملکی معیشت کی تر قی کا راز کاروباری خواتین کو بہتر تجارتی سہو لیات فراہم کر نے میں مضمر ہے بدقسمتی سے پاکستان میں کاروباری خواتین کے لیے تجارت کے مواقع نہ ہو نے کے برابر ہیں جبکہ اس کے مقابلہ میں تر کی اور یورپین ممالک میں خواتین کے لیے بہتر ین ٹر یڈ سنٹر ہے ۔پاکستان میں کاروبار ی خواتین کے رجحان میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکو مت .پنجاب سرمایہ کاری بورڈ اینڈ ٹریڈ TDAPکو جگائے اور بنکنگ ٹرانزیکشن ٹیکس کو فی الفور موخر کر تے ہوئے معاشی پالیسیوں میں اصلاحات کر ے جبکہ فیملی بزنس سسٹم کو فروغ دے اور خواتین کے لیے تر قی کی طرز پر تجارت کے مواقع فراہم کیے جائیں ۔انہوں نے بتایا کہ ویمن چیمبر کی بنیاد 2003میں رکھی گئی جس کے بعد ہزاروں کاروباری خواتین ویمن چیمبر کی رجسٹر ڈ ممبرز ہیں جو مختلف کاروبار میں اپنی پہچان اور بہتر طر یقہ سے روزگار کما رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروباری خواتین کے لیے حکو متی اقدامات ناقص ہیں جبکہ خواتین کو کاروبار کر نے کے لیے اپنی فیملیز کے افراد سے منفی رجحان کا سامنا کر نا پڑتا ہے ۔جس کے باعث دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں کاروباری خواتین کو وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ اس وقت پاکستان میں زیادہ تر خواتین گھروں میں بزنس کر رہی ہیں جن میں مختلف کاروبار شامل ہیں تاہم انٹر نیٹ پر کاروبار ی سر گر میاں پاکستان خواتین کی دلچسپی کا باعث بن رہی ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ .پنجاب سرمایہ کاری بورڈ اینڈ ٹریڈ کے اشتراک سے ویمن چیمبر نے تر کی سمیت مختلف ممالک میں ہو نے والی انٹر نیشنل نمائش میں شر کت کرتے ہیں جہاں پرپاکستانی کاروباری خواتین کو عزت بخشی جاتی ہے اور کاروباری خواتین نے گارمنٹس ، ٹیکسٹائل ، میڈ یسن ، جیمز اینڈ جیو لری ، ٹورازم ، سر جیکل ، کاسمیٹکس اور جیمز اینڈ جیو لری کے سٹالز لگائے جاتے ہیں ۔پاکستانی کاروباری خواتین کو اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے نئی منڈیاں اور بزنس مین کمیو نٹی سے روابط بڑھانے کی ضرورت ہے جس سے اس بات کا قو ی امکان ہے کہ پاکستانی خواتین تر کی میں اپنی مصنو عات کو فروغ دے کر ملک کے لیے کثیر زر مبادلہ کمائیں گی۔انھوں نے کہا کہ .پنجاب سرمایہ کاری بورڈ اینڈ ٹریڈ کے ساتھ کاروباری خواتین کا کو ٹہ ماضی میں مختص تھا جس کو ختم کر دیا گیا ہے انھوں نے کہا کہ خواتین کو حکومتی سر پر ستی کی اشد ضرورت ہے کیو نکہ کاروبار ی خواتین اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے مر د حضرات کی خو شامد نہیں کر نا چاہتیں۔جس کے لیے حکومت کو ٹھوس اقدامات اٹھانے چائیے تاکہ پاکستانی کاروباری خواتین بھی آزادانہ طر یقہ سے اپنے کاروبار کو فروغ دے سکیں۔شازیہ سلیمان کا کہنا تھا کہ حکومت معاشی ترقی کے دعوے کر رہی ہے لیکن برآمدات میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ویمن چیمبر آف کامرس کے بارہ سو سے زیادہ ممبران ہیں جن کو سب سے بڑا مسئلہ سرمائے کی کمی کا ہے اور حکومتی ادارے خواتین کے مسائل پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔سرکاری سطح پر جو نمائشوں کے لئے وفود جاتے ہیں ان میں بھی خواتین کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ خواتین کو ان کے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے معاشی خود مختاری دیں اور ایسا ماحول دیں جس میں خواتین بلا تفریق مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں جس کے لیے وزارت خزانہ و تجارت کواپنی پالیسیوں میں تسلسل لانا چاہئے اور خواتین کو آسان شرائط پر قرضے ملیں اور برآمدی شعبے میں زیادہ مواقع دیئے جائیں۔

شازیہ سلیمان نے کہا کہ ایکسپورٹس بڑھانے کے لیے ریجنل ٹریڈ کو بڑھانے پر توجہ دینی ہوگی جس میں وزارت تجارت کو اپنا کردار ادا کر نا ہوگاجبکہ کاروباری خواتین کی بڑی تعداد اپنی تیار کر دہ اشیاء کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کی خواہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ جن ممالک نے ایکسپورٹس کو ترقی دی ہے اس کی بنیادی وجہ ان کی ریجنل ٹریڈ ہے لیکن چونکہ ہم نے اس طرف توجہ نہیں دی اس لیے ہماری ایکسپورٹس کم ہورہی ہیں۔ شازیہ سلیمان نے کہا کہ ریجنل ٹریڈ کے ذریعے ایکسپورٹس کو کئی گنا بڑھایا جاسکتا ہے لہذا حکومت ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کرے جو پاکستانی ایکسپورٹس کو بڑھانے میں مدد کریں گے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ مقامی صنعتکاروں کی مشکلات دور کرے تاکہ وہ ملک کی ترقی میں حکومت کے ہم قدم کردار ادا کرنے کے قابل ہوسکیں۔ایک سوال کے جواب میں شازیہ سلیمان نے کہا کہ پاک چین آزاد تجارتی معاہدہ پاکستان میں معاشی انقلاب ،چین کی منڈیوں تک باآسانی رسائی ،زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور تجارتی خسارہ کم ہونے سے غیر ملکی سر مایہ کاری بڑھے گی جس کے دوررس مثبت نتائج حاصل ہونگے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ وزارت تجارت کاروبای خواتین کے لیے ایکسپورٹ پالیسی میں نرمی لاتے ہوئے ریلیف دے تاکہ کاروباری خواتین بھی پاک چین آزاد تجارتی معائدہ سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ملکی معیشت میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی مثبت کاوش کے باعث اب پاکستانی اشیاء چین کی اہم منڈیوں میں فروخت کیلئے دستیاب ہونگی جس سے نہ صرف برآمد کنندگان فائدہ اٹھائیں گے بلکہ پاکستانی انڈسٹری کا پہیہ بھی گھومے گا ۔انہوں نے کہا کہ چین اقتصادی راہداری منصوبہ و منصوبہ کی راہ میں انڈسٹریل زونز کے قیام سے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کا رخ پاکستان کی طرف ہوگیا ہے اور دنیا بھر سے بڑی بڑی اور معروف کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کررہی ہیں لہذا وزارت تجارت سرمایہ کاروں کیلئے بہترین ماحول کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ شازیہ سلیمان نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت کمرشل و گھریلو صارفین کومہنگی بجلی کے ساتھ ساتھ اضافی الیکٹرسٹی ڈیوٹی، پی ٹی فیس، انکم ٹیکس،جنرل سیلز ٹیکس،ایکسٹرا ٹیکس، نیلم جہلم سرچارج ٹیکس کی شرح میں پچاس فیصد تک کمی کرے تاکہ پاکستان کو صنعتی لحاظ سے ایشیاء کا ٹائیگر بنانے کا خواب شرمندہ تعبیرہو سکے۔

شازیہ سلیمان نے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدراور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ سے جہاں درآمد کنندگان کو مالی نقصان کا سامنا کر نا پڑتا ہے وہیں ملکی معیشت پر بھی منفی اثرات رونما ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ روپے کے مقابلہ میں ڈالر کی قدر میں ایک روپے اضافہ سے ملک میں قرضوں کے بوجھ میں57ارب روپے کا اضافہ ہوتا ہے۔شازیہ سلیمان نے کہا کہ ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کرنے کے لئے سخت ترین اقدامات کئے جائیں اور اسے 100روپے تک لایا جائے کیونکہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے حکومتی قرضوں میں بھی اربوں روپے کااضافہ ہوجاتا ہے لہذا ایسے اقدامات کیے جائیں جن کے باعث ادائیگیوں میں تواز ن قائم ہو اور تجارتی خسارہ میں کمی ہو اس لیے حکومت ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کرنے کیلئے مزید سخت اقدامات کرے۔

شازیہ سلیمان نے کہا کہ ملک میں جاری سیاسی ابتر صورتحال سے غیر ملکی سرمایہ کاری پر قدغن جبکہ ایکسپورٹ کا گراف مذید نیچے گرنے سے صنعتکاروں میں تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ درآمدات میں اضافہ ملکی معیشت کیلئے نقصان دہ ہے بیرون ممالک سے اشیاء کی آمد سے ملکی اشیاء کی مانگ میں کمی سے سینکڑوں صنعتوں کا پہیہ رک گیا ہے جس سے لاکھو ں مزدو ربے روزگار ہو رہے ہیں ۔شازیہ سلیمان نے زور دیا ہے کہ وفاقی حکومت برآمدات میں اضافے کے لیے تھنک ٹینک اقدامات اٹھائے اور تجارتی خسارہ میں کمی کیلئے علاقائی تجارت کو فروغ دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی سالانہ ایکسپورٹ 34ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے بد قسمتی سے پاکستان کی ایکسپورٹ ناقص پالیسی کے پیش نظر 25ملین سے کم ہو کر 20ملین کے قریب رہ گئی ہے ۔ شازیہ سلیمان نے کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے عالمی کاوشوں میں پاکستان برابرکا شراکت دار ہے جس میں پا ک فوج کے ہزاروں جوانوں نے قربانیاں دے کردہشت گر دوں کے عزائم کو خاک میں ملایا اور خطے میں امن کی فضا قائم کی ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکو مت وقت بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے امریکہ سمیت دنیا بھر کے ممالک میں تجارتی راہ ہموار کرے ۔ گزشتہ روز جار ی کر دہ بیان میں شازیہ سلیمان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجہ میں ہزاروں پاکستانیوں نے لازوال قربانیاں پیش کی ہیں اورجانوں کے نذرانوں کے ساتھ ساتھ کھربوں ڈالرکے معاشی نقصانات کا بھی سامنا کیا ہے اور یہی پیغام پاکستان بین الاقوامی قیادت کو دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حوالے سے صدرٹرمپ کی انتظامی پالیسی حقائق پرمبنی ہونی چاہئے اور پاک امریکہ دونوں ممالک کو اعتماد کے فقدان کو ختم کرنا چاہئے اور امریکی پالیسی سازوں کو چاہئے کہ وہ خطے اور بالخصوص افغانستان میں دیرپا امن واستحکام کیلئے پاکستان کی کاوشوں کو پیش نظررکھیں۔انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقہ امریکہ سمیت دنیا بھر کے ممالک کی منڈیوں تک آسان رسائی چاہتا ہے تاکہ برآمدات کے فروغ سے پاکستان کے صنعتی شعبے کو ترقی دی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے پلیٹ فارم سے ملکی کاروباری خواتین کو بین الاقوامی نمائشوں میں" ٹریڈ فری "کی اجازت دے کر جہاں کاروباری مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں وہیں وومن انٹر پینورجی ڈی پی کی شرح میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خواتین میں بہت پوٹینشل موجو د ہے جو ہوم ٹیکسٹائل ، جیولری ،ملبوسات اور ہینڈی کرافٹ میں مہارت رکھتی ہیں اگر ٹی ڈیپ ایسی خواتین کو پلیٹ فارم مہیا کر کے کاروبار کے مواقع فراہم کر ے تو پاکستانی کاروبای خواتین دنیا بھر میں ہو نے والی نمائشوں میں اپنی مصنوعات کے سٹالز لگا کر جی ڈی پی کی گروتھ میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں

مزید :

ایڈیشن 2 -