کوٹ لکھپت: 18سالہ لاپتہ نوجوان کی تشدد زدہ لاش قصور سے برآمد

کوٹ لکھپت: 18سالہ لاپتہ نوجوان کی تشدد زدہ لاش قصور سے برآمد

  

لاہور(نامہ نگار) کوٹ لکھپت کے علاقے سے تین روز قبل پرسرار طور پر لاپتہ ہونے والے 18سالہ نوجوان کی تشدد زدہ لاش قصور شہر سے مل گئی ، پولیس نے لاش قبضہ میں لیکر پوسٹ مارٹم کے لئے مردہ خانے منتقل کر دی ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ کوٹ لکھپت کے علاقے قائد ملت کالونی کے رہائشی محنت کش نذیر احمد کا بیٹا انور جمعہ کے روز گھر سے تیار ہو کر چنگ چی رکشہ پر قصور جانے کے لئے نکلا ، رات گئے تک گھر واپس نہ آیا تو اس کے والد نے پریشان ہو کر تھانہ کوٹ لکھپت سے رابطہ کیا جس پر ایس ایچ او تھانہ کوٹ لکھپت عاطف ذوالفقار نے نذیر احمد کی مدعیت میں اس کے بیٹے انور کے اغواء کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کرکے تلاش شروع کر دی ۔ گزشتہ روز ایس ایچ او تھانہ کوٹ لکھپت عاطف ذوالفقار نے مغوی انور کے والد نذیر احمد کو تھانے میں بلوایا اور اس کے بیٹے کے بارے میں دریافت کیا مگر اس کے والد نے بتایا کہ اس کا بیٹا نہیں ملا ۔ اس دوران نذیر احمد کو تھانہ صدر قصور کے اہلکار کو فون آیا اور اس نے بتایا کہ ان کے بیٹے کی لاش کھیتوں سے ملی ہے جس پر ایس ایچ او تھانہ کوٹ لکھپت عاطف ذوالفقار مغوی کے والد نذیر احمد اور نفری کے ہمراہ قصور گیا اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے لاش کو اپنی تحویل میں لیا ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نے مقتول انور کے گلے میں آزاربند کا پھندا بنا کر وحشیانہ تشدد کرکے گلا دباکر آنکھ میں فائر مار کر قتل کر دیا اور لاش کو کھیتوں میں پھینک کر فرار ہو گئے ۔ مقتول چار بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھا ، مقتول کے والد نے پولیس کا بتایا کہ اس کے رشتے دار قصور میں رہائش پذیر ہیں شبہ ہے کہ وہ ان کو ملنے آیا اور قتل کر دیا گیا ہے پولیس نے لاش قبضہ میں لیکر پوسٹ مارٹم کے لئے مردہ خانے منتقل کرکے تفتیش شروع کر دی ہے ۔

مزید :

علاقائی -