ملکی تاریخ کا ’’سب سے بڑا سیاسی اتحاد ‘‘ ابتداہی میں مشکلات سے دوچار

ملکی تاریخ کا ’’سب سے بڑا سیاسی اتحاد ‘‘ ابتداہی میں مشکلات سے دوچار
ملکی تاریخ کا ’’سب سے بڑا سیاسی اتحاد ‘‘ ابتداہی میں مشکلات سے دوچار

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی سربراہی میں جو پاکستان عوامی اتحاد تشکیل پایا ہے اس کی رکن جماعتوں کی تعداد 23 ہے، اس لحاظ سے اسے ’’پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی اتحاد‘‘ کہا جاسکتا ہے، کیونکہ اس سے پہلے کبھی کوئی اتحاد ایسا نہیں بنا جس میں بیک وقت اتنی زیادہ جماعتیں شامل ہوئی ہوں، اگرچہ اتحاد کی تشکیل کے اگلے ہی روز ایک دو جماعتوں نے اتحاد سے لاتعلقی کا اعلان کردیا ہے لیکن یہ جماعتیں اگر اتحاد میں نہ بھی ہوں تو بھی ’’سب سے بڑا اتحاد‘‘ ہونے کا اعزاز اس سے نہیں چھینا جاسکتا۔ جنرل پرویز مشرف کی جماعت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کی قومی اسمبلی میں نمائندگی موجود ہے اگرچہ یہ صرف ایک ہی نشست رکھتی ہے تاہم ان سترہ جماعتوں میں ضرور شامل ہے جو پارلیمنٹ میں موجود ہیں، باقی تمام جماعتوں کا مشترکہ اعزاز یہ ہے کہ ان کے پاس کسی بھی اسمبلی کی کوئی نشست نہیں، بہت سی جماعتیں تو ایسی ہیں جنہوں نے کبھی الیکشن لڑنے کا تکلف نہیں کیا، مثال کے طور پر ان جماعتوں میں سے ایک جماعت مسلم لیگ (کونسل) کہلاتی ہے جو ایک زمانے میں واقعی بڑی جماعت تھی، ایوب خان کے زمانے میں میاں ممتاز دولتانہ اور سردار شوکت حیات اس کے بڑے رہنما تھے، اور بھی بہت سے بڑے نام اس میں شامل تھے یہ حکمران کنونشن لیگ کے مقابلے میں حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت تھی میدانِ سیاست میں اس کا ڈنکا بجتا تھا، مرورِ ایام کے ہاتھوں اس جماعت پر زوال آگیا، لیکن آفرین ہے کہ ایک مردِ مجاہد نے جو خود تو امریکہ میں مقیم ہیں اس جماعت کو تنِ تنہا زندہ رکھا ہوا ہے۔ وہ سال چھ مہینے بعد پاکستان تشریف لاتے ہیں اور جتنا عرصہ یہاں ان کا قیام ہوتا ہے اتنے عرصے کے لئے وہ جماعت کو متحرک رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، ممکن ہے اس جماعت کی کوئی جنرل کونسل اور ورکنگ کمیٹی وغیرہ بھی ہو لیکن کبھی سنا نہیں کہ ان کے اجلاس بلانے کی ضرورت محسوس کی گئی ہو، کیونکہ جن جماعتوں کی ایسی کونسلیں ہوتی ہیں وہ اپنی جماعتوں کو کسی نہ کسی مشکل سے دوچار کئے رکھتی ہیں، مثال کے طور پر ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سر زمین پارٹی کے حالیہ وقتی اتحاد کے واقعہ کو یاد کرلیں، ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفےٰ کمال نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا اعلان کیا گیا کہ دونوں جماعتیں ایک منشور، ایک نشان اور ایک ہی نام سے انتخاب لڑیں گی، اگرچہ یہ وضاحت کھل کر نہیں کی گئی کہ دونوں جماعتیں باضابطہ طور پر باہم مدغم ہوں گی لیکن ایک سیاسی اتحاد کا تاثر تو ابھرا تھا جسے ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے ناکام بنا دیا، اور اپنے لیڈر فاروق ستار پر اتنا دباؤ ڈالا کہ وہ اس تابڑ توڑ دباؤ کی تاب نہ لاکر پارٹی قیادت سے مستعفی ہونے کا اعلان کرنے پر مجبور ہوئے، یہ تو ان کی معمر والدہ کا حوصلہ تھا جنہوں نے اپنے بیٹے کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کیا اور سعادت مند بیٹا ان کی بات نہ ٹال سکا لیکن مسلم لیگ کونسل جیسی جماعتیں خوش قسمت ہیں کہ ان کی نہ تو کوئی رابطہ کمیٹی ہے اور نہ ہی کوئی ایسی کونسل ہے جو اپنے قائد پر دباؤ ڈال کر کہہ سکے کہ وہ اتحاد میں کیوں شامل ہوئی ہیں۔ پھر بھی دو جماعتیں ایسی ہیں جنہوں نے عوامی اتحاد سے لاتعلقی کا اعلان کردیا ہے، ایک تو پاکستان عوامی تحریک ہے جس کا کمال یہ ہے کہ وہ بڑا دھرنا تو دے سکتی ہے اور ایسا اس نے ایک سے زیادہ بار ثابت بھی کیا ہے لیکن اگر ایک رکن اسمبلی منتخب کرانا پڑے تو اس کی جان پر بنی ہوتی ہے، ایک بار 2002ء میں ڈاکٹر طاہر القادری اس جماعت کی جانب سے رکن اسمبلی منتخب ہوگئے تھے کہا جاتا ہے کہ اس انتخاب میں انہیں اس وقت کے صدر پرویز مشرف کی سرپرستی حاصل تھی لیکن وہ زیادہ دیر تک اسمبلی کے ایوان میں نہ ٹھہر سکے اور 42 صفحات کا ایک خط سپیکر چودھری امیر حسین کو لکھ کر رکنیت چھوڑ دی، معلوم نہیں انہوں نے کیوں استعفا دیا لیکن بظاہر لگتا ہے کہ اسمبلی کی رکنیت ان کے مقام و مرتبے سے بہت ہیٹی تھی وہ ایوان میں بیٹھ کر اُکتا دینے والی بے روح اور بے معنی تقریریں نہیں سن سکتے تھے کیونکہ ان کا وقت بہت قیمتی تھا جسے اگر وہ تصنیف و تالیف کے کام میں صرف کرتے تو ان کی مولفہ کتابوں کی فہرست میں اضافہ ہوجاتا۔ تو خیر اب وہ جنرل پرویز مشرف کی سربراہی میں بننے والے اتحاد میں شریک نہیں، دوسری جماعت جس نے فی الحال اتحاد سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے وہ مجلسِ وحدت المسلمین ہے اور اس کا موقف یہ ہے کہ اس کے جو رہنما اغواء کئے گئے ہیں فی الحال ان کی ساری توجہ ان کی بازیابی پر ہے۔ حالانکہ اگر وہ اتحاد کے ساتھ مل کر اپنے رہنما کو بازیاب کرانے کی کوشش کرتے تو شاید جلد کامیابی ملتی، بہرحال یہ ان کی اپنی مرضی ہے، وہ جس طرح چاہیں سیاست کریں، البتہ اس جماعت کے بارے میں یہ بات اہم ہے کہ 2013ء کے الیکشن میں اس نے چار سو سے زائد امیدوار کھڑے کئے تھے۔ جن میں سے ایک بھی منتخب نہ ہوسکا، تیسری جماعت سنی اتحاد کونسل ہے جس کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان عوامی اتحاد کے ساتھ ’’غیر انتخابی اتحاد‘‘ میں شریک ہیں، البتہ ان کا انتخابی اتحاد نظام مصطفے متحدہ محاذ سے ہے۔ صاحبزادہ حامد رضا کے والد محترم صاحبزادہ فضل کریم دو بار مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے لیکن 2013ء کے انتخاب سے بہت پہلے انہوں نے مسلم لیگ ن سے اپنا راستہ الگ کرلیا تھا۔ بعد میں ان کا انتقال ہوگیا اور سنی اتحاد کونسل کی سربراہی حامد رضا کے سپرد ہوگئی، اب دیکھنا ہوگا کہ سیاسی جماعتوں کی رکنیت کے حساب سے ملک کا سب سے بڑا اتحاد اگلے انتخابات میں کیا کردار ادا کرتا ہے کیونکہ تین جماعتوں کے اعلانِ لا تعلقی کے باوجود بھی وہ سب سے بڑا اتحاد ہے۔

سب سے بڑا اتحاد

مزید :

تجزیہ -