اراضی ریکارڈ سنٹرز میں تعینات سٹاف کا اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کرنے سے انکار

اراضی ریکارڈ سنٹرز میں تعینات سٹاف کا اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کرنے سے انکار

  

لاہور(عامر بٹ سے)پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی انتظامیہ صوبے بھر کے اراضی ریکارڈ سنٹرز میں تعینات اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ سروس سنٹر انچارج سمیت دیگر سٹاف کے اثاثہ جات کی تفصیلات اکٹھی کرنے میں ناکام ہو گئی،اراضی ریکارڈ سنٹرز میں تعینات سٹاف نے اثاثہ جات کا ریکارڈ فراہم کرنے سے صاف انکار کر دیا،ہمارا سروس سٹرکچر بناؤ،پھر ریکارڈ فراہم کریں گے،سٹاف کا انتظامیہ کو دو ٹوک جواب،انتظامیہ کی جانب سے خاموشی اختیار کر لی گئی،روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے صوبے بھر کے صوبائی دفاتر میں ملازمین کے اثاثہ جات کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدائت کی گئی ہے اور اس حوالے سے چیف سیکریٹری پنجاب کیپٹن (ر)زاہد سعید نے پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ڈی جی کیپٹن (ر)ظفر اقبال کو بھی ہدایات کی تھیں کہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے اے ڈی ایل آرز ،سروس سنٹرز انچارج اور دیگر سٹاف کے اثاثہ جات کا ریکارڈ مرتب کیا جائے جس پر پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے صوبے بھر کے ملازمین کو اثاثہ جات کا ریکارڈ مرتب کیا جائے جس پر پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے صوبے بھر کے ملازمین کو اثاثہ جات فارم بھی تقسیم کر دیئے تاہم چار ماہ سے زائد عرصہ گرزجانے کے بعد بھی اراضی ریکارڈ سنٹر میں تعینات سٹاف سے اثاثہ جات کے حوالے سے انتظامیہ معلومات لینے میں ناکام نظر آئی ہے،ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اے ڈی ایل آرز اور سروس سنٹر انچارج کی کثیر تعداد نے اثاثہ جات کی معلومات مہیا کرنے کے حوالے سے انتظامیہ کے ساتھ ساتھ نئی شرائط رکھ دی،جس میں سر فہرست سروس سٹرکچر واضح کرنے اور مستقبل کرنے کا مطالبہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے،اس کے علاوہ سکیورٹی ،اورٹائم ،دیگر الاؤنسز ز اور سابقہ ادائیگیاں بھی کلیئر کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اس حوالے سے شرائط کی منظوری کے بعد اثاثہ جات کی تفصیلات مہیا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جس پر انتظامیہ صوبے بھر کے ملازمین کے یکجا موقف کے سامنے بے بس لاچار نظر آرہی ہے دوسری طرف پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے شعبہ ایچ آر کی ڈائریکٹر مس نادیہ چیمہ کا کہنا ہے کہ سٹاف کی کمی کے باعث تاخیر ضرور ہوئی ہے مگر اراضی ریکارڈ سنٹر سٹاف کی جانب سے آنے والی شرائط قابل قبول نہ ہیں اثاثہ جات فارم کی تفصیلات اور ریکارڈ ہر صورت لیں گے،اس حوالے سے آئندہ سخت اقدامات اٹھائیں گے بصورت دیگر ریکارڈ فراہم نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کاآغاز کر دیا جائے گا۔

مزید :

صفحہ آخر -