جبری گمشدگی:اقوامِ متحدہ میں پیش کردہ رپورٹ جھوٹی ثابت ہونے کا خطرہ

جبری گمشدگی:اقوامِ متحدہ میں پیش کردہ رپورٹ جھوٹی ثابت ہونے کا خطرہ

  

اسلا م آ با د(آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے حکومت کو اقوامِ متحدہ کے نظر ثانی اجلاس میں پاکستان کی جانب سے انسانی حقوق کی صورتحال میں کے حوالے سے رپورٹ میں رد و بدل کرنے کی کوشش سے خبر دار کردیا۔اپنے ایک انٹر ویو میں سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا(بقیہ نمبر39صفحہ7پر )

تھا کہ خواجہ محمد آصف کی سربراہی میں پاکستان کا 14 رکنی وفد اقوامِ متحدہ کے یونیورسل پریوڈک ریویو (یو پی آر) کے اجلاس میں شرکت کیلیے سوئٹزرلینڈ کے شہر جینوا جائے گا جہاں وہ اجلاس کے دوران انسانی حقوق کی صورتحال پر قومی رپورٹ کو پیش کریں گے اور اس کا دفاع بھی کریں گے۔اقوامِ متحدہ کے یو پی آر اجلاس میں ممبر ممالک اپنے اپنے ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال کے حوالے سے رپورٹ پیش کریں گے اور ملک میں گزشتہ اجلاس کے دوران کیے جانے والے وعدوں کے مطابق انسانی حقوق کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کی وضاحت بھی دیں گے۔سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ یو این پی آر کا گزشتہ اجلاس پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں ہوا تھا جس میں پاکستان نے ملک میں جبری گمشدگی کو جرم قرار دینے پر رضامند ظاہر کی تھی تاہم اس مرتبہ خواجہ آصف کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ میں یہ مسئلہ موجود ہی نہیں ہے۔تاہم انہوں نے تجویز دی کہ یہ بہتر ہوگا کہ اس اجلاس میں پاکستان دوٹوک اعلان کرے کہ وہ رواں برس کے اختتام تک ملک میں جبری گمشدگی کو جرم قرار دے دے گا۔ ملک میں یہ دعوے کرنا کہ پاکستان میں توہین مذہب کا قانون غیر امتیازی ہے اور اس کے ذریعے اب تک کسی کو سزا نہیں ہوئی، ’واضح جھوٹ‘ ہے۔ ہمیں ایمان داری کے ساتھ قبول کرنا ہوگا کہ منصفانہ طریقے سے توہین مذہب کے قانون کا نفاذ ایک چیلنج ہے جسے ریاست حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -