مصا لحتی سنٹرز کا مقصد عدالتی پیچید گیوں سے بچاناہے، سعید اللہ مغل

مصا لحتی سنٹرز کا مقصد عدالتی پیچید گیوں سے بچاناہے، سعید اللہ مغل

  

رحیم یار خان (بیورونیوز) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن رحیم یارخان سعیداللہ مغل نے کہا ہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس سید منصور علی شاہ کے ویژن کے مطابق ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں نئی مثبت اور معیاری انقلابی اصلاحات پرمبنی (مصالحتی سنٹر) کے قیام کا مقصد لوگو ں کو عدالتی پیچیدگیوں،(بقیہ نمبر21صفحہ12پر )

پریشانیوں اور بھاری بھرکم اخراجات سے نجات دلا کر انہیں فوری اور سستا انصاف فراہم کرنا ہے۔ ضلع رحیم یارخان میں یکم جون سے فعال ہونے والے مصالحتی سنٹر اپنی پوری کامیابی کے ساتھ روا ں دواں ہے اور لوگ اس کے ثمرات سے بھرپور مستفید ہو رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع کونسل کے ہال میں مصالحاتی سنٹرز کی ضرور ت و افادیت بارے منعقدہ آگہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جس میں ڈپٹی کمشنر سقراط امان رانا، ڈی پی او ذیشان اصغر، سینئر سول جج ایڈمن شیخ فیاض حسین، سینئر سول جج شکیل احمد گورائیہ، سول جج مصالحاتی کورٹ، ملک منیر احمد ، سول جج سدرہ گل چوہدری، ممبر زپنجاب بار کونسل رئیس ممتاز مصطفی ایڈووکیٹ، سردار عبدالباسط خان، ایس پی انوسٹی گیشن شاہنواز چاچڑ، صدر ڈسٹرکٹ بار خادم حسین خاصخیلی، جنرل سیکرٹری نوید باجودہ،ایڈیشنل سیشن ججز عبدالرزاق،محمد ایاز ملک، خورشید انجم، مزمل موسیٰ سمیت میڈیا نمائندگان اور سول سوسائٹی کے افراد نے شرکت کی۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سعید اللہ مغل نے کہا کہ رحیم یارخان میں قائم مصالحتی سنٹر میں اب تک بھیجے گئے 253کیسز میں سے 179 کیسز میں فریقین میں صلح صفائی کرواکے انکے نسل درنسل چلنے والے مقدمات ختم کر دئیے گئے ہیں بلکہ ان کی آئندہ زندگی میں کامیابی اور خوشیوں کیلئے باقاعدہ صلح صفائی کے ذریعے دیرینہ دشمنیوں اور رنجشوں کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔جوڈیشل کمپلیکس رحیم یارخان میں قائم مصالحتی سنٹر میں فوجداری مقدمات بشمول قتل،اقدام قتل، دیوانی ، فیملی اور باہمی تنازعات کو بات چیت گفتگو اور مذکرات کے ذریعے دیرپامفید اور معیاری طریقے سے تصفیہ کرانے کا اہتمام ضلع کے ایوان عدل و انصاف میں ممکن بنا دیا گیا ہے جہاں غیر جانبدارانہ، باعزت، باوقار، پْرامن و تحفظ عدالتی معاونت والے خوشگوار ماحول میں ہر دو فریقین کی مشترکہ رضامندی کی روشنی میں تنازعات کا معیاری تصفیہ کرانا مصالحتی سنٹر کا کام ہے۔سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سقراط امان رانا، ڈی پی او ذیشان اصغر، ممبر پنجاب بار کونسل رئیس ممتاز مصطفی ایڈووکیٹ، صدر ڈسٹرکٹ بارخادم حسین خاصخیلی ودیگر نے کہا کہ مصالحتی عدالتوں کا قیام چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید منصور علی شاہ کا تاریخی اقدام ہے، اس نظام کی بدولت قابل راضی نامہ بیشتر زیر التواء فوجداری اور دیوانی مقدمات کو فریقین کی مرضی سے نمٹایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اندراج مقدمہ کی زیادہ تر درخواستیں تصفیہ طلب ہوتی ہیں جنہیں مصالحتی طریقے سے فوری طور پر نمٹایا جا سکتا ہے،تصفیہ طلب معاملات مصالحتی کمیٹی کے ذریعے حل کئے جائیں تو اس سے نہ صرف فوری انصاف کی فراہمی کا عمل مکمل ہو گا بلکہ عدلیہ پر مقدمات کا دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔اس موقع پر مصالحتی سنٹر کے سربراہ منیر احمد سلیمی نے کہا کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج رحیم یارخان سیعد اللہ مغل مصالحتی سنٹر کی براہ راست نگرانی، سرپرستی اور رہنمائی کر رہے ہیں۔ اور وہ روزانہ کی بنیاد پر اس مصالحتی سنٹر کی کارگردگی کا جائزہ لیتے ہیں۔جبکہ سینئر سول جج (ایڈمن)رحیم یارخان انتظامی معاملات کی دیکھ بھال اور مصالحتی مرکز میں ضرورت کے مطابق سہولیات میسر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔رحیم یارخان میں یکم جون سے 31 اکتوبر2017 تک کل 253 مقدمات جن میں قتل، اقدام قتل، دیوانی،کرایہ داری اور فیملی سمیت مصالحتی سنٹر بھیجے گئے جہاں مصالحتی سنٹر کے مصالحت کار جج منیر احمد سلیمی نے اپنے عدالتی فرائض انتہائی، غیر جانبداری، موثر اور معیاری انداز میں سر انجام دے کر 180 مقدمات میں فریقین کے درمیان صلح صفائی کروا کر نسل درنسل چلنے والے مقدمات کا خاتمہ کر دیااور مصالحتی مرکز میں 25 کیسز مصالحت کے لیے زیرالتواء ہیں۔اس مصالحت سنٹر میں فریقین کو انتہائی پْرسکون، باعزت ماحول فراہم کیا جاتا ہے اور انہیں باہمی رضامندی کے ساتھ تصفیہ کرنے کے لیے رہنمائی کی جاتی ہے۔اس موقع پر مصالحتی سنٹر سے مستفید ہونے والے درخواست گزار نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔سیمینار میں سول جج محمد عمران فاروق، ذوالفقار علی مزاری، قاضی احسن، محمد یامین، ساجدہ محبوب عالم جتوئی، محمد عظیم ناصر، وکلاء ایم جی ربانی، رمضان شمع، جام عبدالمجید مصطفائی، سلیم اللہ جتوئی، چوہدری اشرف مہاندرہ، راجی عبدالصمد خالد، عذرا قادر، شمسہ کنول، سیدہ بیلا اختر، غلام غوث خان کورائی، صنوبر عاشق، عبدالرب فاروقی، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر شفیق تبسم سمیت دیگر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -