خیبر ہاؤس کے افسران کا قبلہ درست کیا جائے‘ عوامی حلقے

خیبر ہاؤس کے افسران کا قبلہ درست کیا جائے‘ عوامی حلقے

  

خیبر ایجنسی ( بیورورپورٹ)خیبر ہاؤس کے اکاؤنٹنٹ اور پولیٹیکل محرر کے سر میں تکبر اور فرعونیت کا نشہ چڑھ کر بول رہا ہے ، ایک غریب کباب فروش کے رشتہ دار اب کروڑ پتی بن چکے ہیں، اضافی کمان کرنے سے پولیٹیکل محرروں کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں ، بعض پولیٹیکل محرروں نے عام لوگوں کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے جن کی توجہ صرف مال کمانے پر ہوتی ہے اور کبھی تحصیلوں کے اندر کام کر کے کسی کا کوئی مسئلہ حل نہیں کیا ہے خیبر ایجنسی کے عام لوگوں کا کہنا ہے کہ پو لیٹیکل ایجنٹ خیبرکیپٹن ریٹائرڈ خالد محمود کے ساتھ خیبر ہاؤس میں متعین دو تین ایسے با اعتماد ماتحت عملہ یعنی پولیٹیکل محرر کام کرر ہے ہیں جن کی وجہ سے کسی حد تک لوگوں کے مسائل پی اے خیبر کی میز تک پہنچائے جا سکتے ہیں اور ان کی کار کردگی سے لوگ مطمئن ہیں لیکن خیبر ہاؤس میں عرصہ دراز سے تعینات پولیٹیکل محرر مجاہد خان کو جب سے اکاؤنٹ سیکشن میں بیٹھا دیا گیا ہے تب سے اب تک ضرورت مند سائلین کی درخواستیں گم ہو جاتی ہیں اور کسی انتہائی مجبور انسان کی درخواست بھی مجاہد بابو کی میز سے آگے نہیں جاتی جس کی وجہ سے ایجنسی کے عام ضرورت مند لوگ ان کو بد دعائیں دیتے ہیں میڈیا سروے کے مطابق خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل محرروں نے اپنے بینک بیلنس میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے اور ان کا شمار کروڑ پتیوں میں ہونے لگا ہے اور جن میں سے بعض کے نا قابل بیان حد تک بہت زیادہ اثاثے ہیں ذرائع نے بتایا ہے کہ تکبر، غیر شائستگی اور فرعونیت کے لے مشہور مجاہد بابو نیب زدہ بھی ہیں تاہم اس بات کی ابھی تصدیق نہ ہو سکی خیبر ایجنسی کے کئی بااثر افراد نے میڈیا کو بتایا کہ خیبر ہاؤس کے کرپٹ اکاؤنٹنٹ اور تختہ بیگ چیک پوسٹ پر اضافی کمان کے مزے لینے والے مجاہد بابو کو اگر خیبر ایجنسی سے بے دخل کر دیا گیا تو یہ پی اے خیبر کیپٹن ریٹائرڈ خالد محمود کا بہت بڑا کا رنامہ ہوگا لوگوں کے مطابق کئی پولیٹیکل محرروں نے کبھی اس علاقے کے غریب عوام اور مجبور انسانوں کی جائز اور قانونی خد مت بھی نہیں کی ہے جن میں مجاہد بابو سر فہرست ہیں اور ایسے متکبر اور کرپٹ پولیٹیکل محرروں کو اگر ایجنسی بدر کیا جائے تو لوگ پی اے خیبر کو دعائیں دینگے اور یا پھر ان کو منافع بخش پوسٹوں سے ہٹا کر ان کو غیر پرکشش پوسٹوں پر تعینات کر کے ان سے قوم کی خدمت لی جائے تو بہتر ہوگا اس لئے کہ عام لوگوں کے مطابق ان کے غیر قانونی اور نا جائز اثاثے حد سے تجاوز کر چکے ہیں جن کی تحقیقات کی جانی چاہئے تاکہ ان کی اصلیت اور اثاثوں کا کھوج لگایا جا سکے جو با دشاہوں جیسے پر تعیش زندگی گزار رہے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -