علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے واٹس ایپ کے ذریعے بیوی کو طلاق دے دی

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے واٹس ایپ کے ذریعے بیوی کو طلاق دے دی
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے واٹس ایپ کے ذریعے بیوی کو طلاق دے دی

  

علی گڑھ ( ڈیلی پاکستان آن لائن) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک پروفیسر خالد بن یوسف نے سپریم کورٹ کے روکنے کے باوجود واٹس ایپ کے ذریعے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ بھارت کے شہر علی گڑھ میں پیش آیا جہاں میاں بیوی کے درمیان اختلافات کا یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا، سپریم کورٹ نے خالد بن یوسف کو اپنی بیوی کو طلاق دینے سے باز رہنے کا حکم دے رکھا تھا لیکن اس کے باوجود یونیورسٹی پروفیسر نے سپریم کورٹ کی حکم عدولی کرتے ہوئے واٹس ایپ کے ذریعے اپنی بیوی یاسمین کو طلاق دے دی۔پرفیسر خالد کا کہنا تھا کہ اس نے ڈاک کے ذریعے طلاق کے کاغذات یاسمین کو بھیجے تھے لیکن اس نے کاغذات وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا، اس وجہ سے مجھے واٹس ایپ پر ہی طلاق دینا پڑی۔

یہ بھی پڑھیں:لاہور ہائیکورٹ،مریم نواز کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کل تک ملتوی

یاسمین نے یونیورسٹی وائس چانسلر اور انتظامیہ سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ خالد کو طلاق دینے سے باز رکھنے کے معاملے میں اس کی مدد کریں لیکن کسی نے بھی یاسمین کی مدد نہ کی اور اس کے شوہر نے واٹس ایپ پر ہی یاسمین کو طلاق دے ڈالی، میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے تین بچوں کی ماں یاسمین نے کہا کہ وہ اپنے شوہر کی بے رخی کی وجہ سے پائی پائی کی محتاج ہو گئی ہے لہذا اگر اسے انصاف نہ ملا تو وہ اپنے بچوں سمیت خودکشی کر لے گی۔

مزید :

بین الاقوامی -