اخوت ہیلتھ سروسز کے زیر اہتمام شوگر کے عالمی دن کے موقع پرمیڈیکل کیمپ وآگاہی سیمینار کا انعقاد

اخوت ہیلتھ سروسز کے زیر اہتمام شوگر کے عالمی دن کے موقع پرمیڈیکل کیمپ وآگاہی ...
اخوت ہیلتھ سروسز کے زیر اہتمام شوگر کے عالمی دن کے موقع پرمیڈیکل کیمپ وآگاہی سیمینار کا انعقاد

  

لاہور(مشرف زیدی سے )اخوت ہیلتھ سروسز، ٹاؤن شپ لاہور میں ذیابیطس ’’ شوگر‘‘ کے مرض سے آگاہی کے سلسلہ میں شوگرکاعالمی دن منایا گیا۔ عالمی یوم ذیابیطس کے موقع پر صوبائی دارالحکومت لاہور میں اخوت ہیلتھ سروسز‘ ٹاؤن شپ کے زیر اہتمام ذیا بیطس ایک سیمینار بعنوان ’’اسلامی طرز زندگی اور ذیابیطس‘‘ کا بھی انعقاد کیا گیا ۔ پروگرام کا افتتاح ذیا بیطس ٹائپ ون میں مبتلا کمسن بچوں نے کیا ۔ اس موقع پر مختلف فارما سیو ٹیکل کمپنیز کے تعاون سے ہزاروں لوگوں کے شوگر ٹیسٹ، کولیسڑول ٹیسٹ،اے بی آئی (خون کی شریانوں کا ٹیسٹ ) گردوں کے ٹیسٹ ،بی ایم آئی ، ہڈیوں کا معائنہ ، پاؤں کا معائنہ ،HBAICکے ٹیسٹ مفت کئے گئے اور الااحسان آئی ہسپتال کے ذریعے مریضوں کی آنکھوں کا فری معائنہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ انسولین کے فوائد ‘ استعمال اور غذا کے متعلق معلومات فراہم کی گئیں۔سیمینار کی صدارت اخوت کے بانی چےئرمین ڈاکٹر امجد ثاقب نے کی ‘ جبکہ مہمانوں میں سینئر اینکر سہیل وڑائچ اور پاکستان کی پہلی خاتون ڈھول پلئیر عرشمہ تھیں۔ڈاکٹر اظہار الحق ‘ڈاکٹر طاہر رسول‘ڈاکٹر عباس رضا‘ڈاکٹر عمران حسن‘ڈاکٹر اسرار الحق طور‘ڈاکٹر ماہ لقا مقصود‘ڈاکٹر اعزاز مند نے اظہار خیال کیا۔

ڈاکٹر طاہر رسول( اخوت ہیلتھ سروسز)نے کہا ہے کہ پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ سے زائد افراد اس مرض کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس کے بچاؤ کے متعلق ہنگامی سطح پر آگاہی فراہم نہ کی گئی تو یہ مرض مزید تیزی سے پھیلتا جائے گا۔ہمارے شہروں میں اس مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ شہری آبادی کو دیہات میں رہنے والوں کی نسبت 5گُنا زائدخطرہ ہے ۔ اخوت ذیا بیطس سینٹر نے گزشتہ کئی سالوں میں سینکڑوں مریضوں کے پاؤں کو کٹنے سے بچایا ہے ۔ ڈاکٹر سید عباس رضا (پاکستان اینڈو کرائن سوسائٹی)نے کہا کہ ذیابیطس کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اس کی وجہ سے ہارٹ اٹیک ، فالج ، آنکھیں اور پاؤں متاثر ہوتے ہیں ۔ شوگر کا مریض اپنے پاؤں کی حفاظت چہرے سے بھی زیادہ کریں اور سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں ۔ روزانہ تیس منٹ تک تیزپیدل چلنے سے ٹائپ 2کا خطرہ تیس فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ڈاکٹر عمران حسن نے کہا کہ ذیابیطس کی وجہ سے ہر آٹھ سکینڈ بعد ایک فرد کی موت اور مزید دو افراد کو یہ مرض لاحق ہورہا ہے۔ ذیابیطس کی وجہ لائف سٹائل،موٹاپا اور فاسٹ فوڈ کا بکثرت استعمال ہے ۔ ڈاکٹر ماہ لقا مقصودنے کہا حاملہ خواتین کو اپنی شوگر اور بلڈ پریشر ضرور چیک کروانا چاہیے اور انہوں نے ذیابیطس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے حاضرین کو آگاہ کیا۔ ڈاکٹر اسرارالحق طور نے کہا کہ ٹائپ ون کا واحدعلاج انسولین ہے اور ٹائپ ون کے بچے شوگر کو کنٹرول کر کے صحت مند اور نارمل زندگی گذار سکتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ ورزش اور متوازن غذا کے ذریعے نہ صرف ذیابیطس کے خطرے کو کم سے کم کر سکتے ہیں بلکہ اس کے خلاف جنگ جیت بھی سکتے ہیں کیو نکہ کم غذا آپ کھاتے ہیں جبکہ زیادہ کھانا آپ کو کھا جاتا ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر اعزاز مند(نیفرالوجسٹ)نے کہا کہ اگر شوگر کو مناسب کنٹرول نہ کیا جائے اور لاپرواہی برتی جائے تو اس سے گردوں کے امراض میں ا ضافہ ہو جاتا ہے ڈائیلسس کرونے والے افراد میں 50فیصد مریض شوگر کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں جس سے ان کے خاندان معاشی مسائل میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ ڈ اکٹر امجد ثاقب نے کہا کہ اخوت ہیلتھ سروسز نے اب تک تقریباً ایک لاکھ سے زائد افراد کو مفت علاج ، ادویات ، انسولین ، اوربیماریوں سے بچاؤ کی معلومات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے کہا اخوت فٹ کلینک شوگر کی وجہ سے پیدا ہونے والے زخموں کی ایک معیاری اور جدید علاج گاہ ہے۔

شوگر کے عالمی دن کے موقع پر حکومت اور فیصلہ سازی کا اختیار رکھنے والے تمام اداروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذیابیطس کر مرض کو کنٹرول کرنے میں مثالی کردار ادا کریں ۔ سہیل وڑائچ نے اخوت ہیلتھ سروسز کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شوگر کے خلاف جنگ اکیلا ادارہ نہیں جیت سکتا ہمیں متحد ہو کر اس پر کام کرنا ہو گا۔ ہمیں شوگر کا علاج صرف مستند معالج سے ہی کروانا چاہیے۔ شرکاء کو قرعہ اندازی کے ذریعے گلو کو میٹر اور دیگر انعامات بھی تقسیم کئے گئے ۔

مزید :

لاہور -