سموگ اورسیاسی روگ

سموگ اورسیاسی روگ
سموگ اورسیاسی روگ

  

کچھ دن سے پہلے تک میڈیا پر شرمین عبید چنائے کے بیانات اور سموگ کا بہت چر چارہا ہے ۔یہ دونوں موضوع خاص زد عام ہیں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ سموگ کا موضوع اس وقت ٹاپ پر ہے جس نے نے شرمین عبید کی بہن کو بھیجی ہوئی فرینڈ ریکوسٹ بھی ذہن سے محو کر دی جس نے ہراسمنٹ کے معنی ہی بد ل رکھ دیئے ہیں۔لیکن سموگ کی جو ہراسمنٹ ہے وہ فیک نہیں بلکہ یہ ایک حقیقت ہے اس کے ذمہ دار ہم ہیں ۔بات پھر وہی ہے ۔اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے والی ہماری قوم کی یہ پرانی عادت ہے ۔قوم میں صرف عوام نہیں حکمران جماعت بھی شامل ہے ۔خیر سموگ جس نے ہماری فضا کو لپیٹا ہوا ہے یہ اپنا تعارف خود کروا دیتی ہے ۔دمہ کھانسی فلو ،گلے میں خارش ، آنکھوں میں جلن اور پھیپھڑوں میں درد اس کا خاصہ ہے ۔ سموگ میں اضافہ کا مطلب ان بیماریوں میں اضافہ ہے ۔سموگ ایک ایسی بھیانک عفریت ہے جس کے سبب ڈھاکہ میں سالانہ پندرہ ہزار لوگ موت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔بھارت بھی سالانہ اس عفریت کا شکار ہو تا ہے۔دنیا کے ٹاپ 150ممالک میں ترقی ،شعور اور گورننس کے حوالے سے نچلے 20ممالک(جن میں پاکستان بھی شامل ہے) کو چھوڑ کر تقریباً باقی تمام ممالک میں گاڑیوں کی سالانہ رجسٹریشن کا نظام رائج ہے ۔رجسٹریشن کی تجدید کروانے سے پہلے آپ کو اپنی گاڑی کی ٹیکنیکل انسپکشن کروانا ہو گی اس انسپکشن میں آپ کی گاڑی کی ظاہری کنڈیشن ،انجن کی حالت ،سائلنسر سے نکلتے دھوئیں کے اخراج ،ہیڈ لائٹس اور انڈیکیٹر کے ساتھ ساتھ ٹائروں کی کنڈیشن بھی چیک کی جاتی ہے۔ اگر ان میں کوئی ایک حصہ انسپکشن میں فعل ہو جائے تو آپ کی رجسٹریشن کی تجدید نہیں ہو سکتی اور آپ کو ورکشاپ بھیج دیا جائے گا اور پھر دوبارہ انسپکشن کروانا پڑے گی۔

اگر آپ یورپ ، امریکہ ، کینیڈا۔ آسٹریلیا اور خلیجی ممالک کا وزٹ کریں اور وہاں کی فضا پاکستان کے مقابلے میں مجموعی طور پر زیادہ صاف اور آلودگی سے

پاک لگے تو اس کی ایک اہم وجہ دھواں چھوڑتی گاڑیوں کی رجسٹریشن پر مکمل پابندی ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے ماحولیاتی فیکٹرز ،جن درخت سب سے اہم ہیں ان کا بھی خاص خیال رکھا جاتا ہے ۔پچھلے چند سالوں سے سموگ یعنی سموک اور فوگ کا مرکب ہر سال سردیوں کے آغاز میں لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں پر حملہ آور ہوتا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یہاں دھواں چھوڑتی گاڑیاں اور درختوں کی بے دریغ کٹائی ہے۔

سڑکیں بنانا کوئی کمال نہیں یہ کام تو کوئی چمار بھی کر سکتا ہے خاص کر اس وقت جب ہر پراجیکٹ میں اسے 50%کمیشن کی شکل میں ملتا ہو ۔اصل حکمرانی یہ ہے کہ آپ ادارے بنائیں پھر ان اداروں کے تحت ڈسپلن قائم کریں جو اوور آل نظام زندگی کو پہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوں ۔شریف برادران اور

پیپلز پارٹی 35سال سے اپنے اپنے صوبوں پر قابض ہیں لیکن سوائے اپنے کاروباری ادارے بنانے کے ان سے کسی ایک قومی ادارے کی تشکیل نہ ہو سکی

لیکن جب عمران خان نے اسی ماحولیاتی فیکٹر کو مد نظر رکھتے ہوئے پختونخواہ میں بیلن ٹری منصوبہ شروع کیا تو ان پٹواریوں ،ڈیزلوں اور ذرداریوں نے شیخیں مارنا شروع کر دیں۔مشہور مقولہ ہے کہ سیاست دان کو صرف اگلے الیکشن کی فکر ستاتی ہے جبکہ لیڈر کو قوم کی اگلی نسلوں کی فکر ہو تی ہے۔سیاست دانوں کی سیاست کا روگ مالی اور فضائی آلودگی کی صورت نظر آتا ہے۔اب خود حساب لگا لیں ہمارے ملک میں کون سیاست دان ہے اور کون لیڈر۔میں فقط اتنا جانتا ہوں اگر کوئی لیڈر ہوتا ہے سموگ کا ٹینٹوا دبا چکا ہوتا ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -