ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 9

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 9
ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 9

  

محل کا آخری حصہ اور ٹیرس

بادشاہ کی رہائش اور دیگر مقاصد کے لیے بنائی گئی متعدد تعمیرات اسی آخری حصے میں موجود تھیں ۔ تاہم مجھے سب سے زیادہ محل کا وہ آخری حصہ پسند آیا جو پہاڑ ی کے سرے پر بنا ہوا تھا اور جہاں سے بحیرہ مرمرہ کا دلکش منظر دیکھا جا سکتا تھا۔ یہاں ایک مسجد بنی ہوئی ہے جس میں ہم نے ظہر اور عصر کی نمازیں ادا کیں ۔ مسجد کی کھڑ کی سے بھی سمندر کا نظارہ کیا جا سکتا ہے ۔ مسجد کی دیوار سے متصل لکڑ ی کی نشستوں پر میں دیر تک بیٹھا رہا اور سمندر کو دیکھتا رہا۔سچی بات ہے کہ اس جگہ نے اتنا گہرا تاثر پیدا کیا تھا کہ اس کے اثر سے میں نکل نہیں پا رہا تھا۔ کبھی انھی جگہوں سے سلطان محمد فاتح، سلطان سلیم اورسلیمان عالیشان جیسے انسانی تاریخ کے طاقتور ترین حکمرانوں نے سمندر کو دیکھا ہو گا۔ کبھی اسی مقام سے حورم سلطان جیسی حسین اور چالاک عورت نے اپنی عظمت اور بڑ ائی کا احساس کیا ہو گا۔ کتنے ہی عظیم بادشاہ اور فاتحین اور ان کی منظور نظر خواتین حسیناؤں نے ہماری طرح ان جگہوں پر انتہائی خوبصورت شاموں کا نظارہ کیا ہو گا۔ کیسے کیسے سازشی، ذہین، حسین، طاقتور اور حوصلہ مند کردار یہاں آئے اور رخصت ہوگئے ۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 8 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں یہاں آ کر سن ہو گیا تھا۔ ایک ٹرانس، ایک اثر تھا جس سے میں باہر نہیں آ رہا تھا۔ کتنی دیر میں مسجد میں بیٹھا یہی سوچتا رہا۔ کتنی دیر میں مسجد کے سائے میں بچھی نشست پر اسی فکر میں رہا۔ کتنی دیر میں ٹیرس کے آخر میں کھڑ ے ہوکر سمندر اور سامنے موجود استنبول کے حسین منظر کو اپنی آنکھوں میں سمیٹ کر ماضی، حال ، مستقبل کی کہانی سمجھنے کی کوشش کرتا رہا۔یہ جگہ سترہ صدیوں سے دنیا کے طاقت ور ترین حکمرانوں کا مرکز تھی۔ مگر اب وہ حکمران کہاں ہیں ؟ اب ان کی طاقت و قوت کہاں ہے ؟ اب ان کا جاہ و جمال کہاں ہے ؟

میرے سامنے نیلے آسمان اور نیلے سمندر میں ایک ہی طاقت ور کی حکمرانی تھی۔ ایک ہستی کا جمال و کمال تھا۔ اسی نے کرم کیا اور اپنے انبیاء کو انسانیت کو یہ سمجھانے بھیجا کہ یہ دنیا دھوکے کے سوا کچھ نہیں ۔ حقیقت وہی ہے جو ہزار ہا انبیا نے اور سب سے بڑ ھ کر سرکار دوعالم خاتم الانبیا نے دنیا کو سمجھائی ہے ۔ان کا پیغام قرآ ن مجید کی شکل میں آج تک ہمارے پاس موجود ہے ۔ یہ جگہ اس پیغام کو سمجھنے کے لیے بھی بہترین ہے کہ دنیا دھوکہ ہے اور آخرت اصل زندگی ہے ۔یہ جگہ جہاں ہر روز دنیا بھر کے ہزاروں لاکھوں سیاح آتے ہیں ، ہمیں پیغام دیتی ہے کہ اب ختم نبوت کے بعد دنیا کو یہ پیغام پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے ۔ مدعو چل کر اب داعی کے پاس آ رہا ہے ۔ مذہب کی بنیاد پر نفرت کا زمانہ ختم ہو چکا ہے ۔ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا یہ بہترین موقع ہمیں میسر ہے ۔

آہ! مگر کیا کیجیے کہ شیطان نے امت اور اس کی قیادت کو غیر مسلموں کی نفرت میں مبتلا کر کے اپنی ذمہ داری سے مکمل غافل کر دیا ہے ۔ سیاست اور اقتدار ان کے سر پر سوار ہے ۔ وہ قرآن میں اللہ کا یہ وعدہ بھول گئے ہیں کہ اقتدار ایمان و عمل صالح کے نتیجے میں دے دیا جاتا ہے ۔یہ اپنی ذات میں کوئی ہدف ہے نہ کوئی ذمہ داری۔

ترکی کا یہ سفر ابھی جاری ہے ۔ جنت نظیر اس جگہ میں ابھی کچھ دیر اور قیام ہے ۔ مگر قیام کا مقصد شاید آج حاصل ہو چکا تھا۔

نائٹ کروز اور استنبول کی روشنیاں

اگلے دن ہمیں استنبول سے گوریم جانا تھا جو کہ کپوڈوکیا کے علاقے میں واقع تھا۔ اسی شام ثنا وہاں سے لوٹ کر آئی۔ہمارا وائی فائی کے ذریعے مستقل آپس میں رابطہ تھا اور اس کے ذریعے سے ہمیں وہا ں کی تفصیلات معلوم ہوتی رہی تھیں ۔ان لوگوں کو اگلے دن دبئی چلے جانا تھا۔ چنانچہ ایک دن کے لیے ان لوگوں نے ہمارے ہی ہوٹل میں کمرہ بک کرالیا تھا۔بچے ساتھ تھے اور ایک دفعہ پھر ایک دوسرے سے مل کر بہت خوش تھے ۔ یہ طے پایا کہ فیری کی سواری کی جائے ۔ کیونکہ رات میں سمندر سے شہر کی روشنیاں بہت خوبصورت لگتی تھیں ۔ اس مقصد کے لیے متعدد ڈنرکروز باسفورس میں تیرتے پھرتے تھے ۔ مجھے ان میں جانے میں بڑ ی دلچسپی بھی تھی۔ ٹاکسم اور کباتش دونوں جگہ ایسے کروز کے بارے میں معلومات کیں ، مگر معلوم ہوا کہ ڈنر کے سا تھ خواتین کا نیم عریاں ثقافتی رقص ان تمام کروزکا لازمی حصہ تھا۔یہ چیز سیاحوں کے لیے بڑ ی باعث کشش ہوتی ہے ، مگر ہمارے لیے یہ کروز میں بیٹھنے کی خواہش میں ایک رکاوٹ بن گئی۔ اس کے نعم البدل کے طور پر رات میں فیری کے لیے روانہ ہوئے ۔ اس سے بھی کسی حد تک یہ مقصد حاصل ہو سکتا تھا۔

فیری کا آسان طریقہ یہ تھا کہ استنبول کے ایشیائی حصے میں واقع ا سکودر نامی ڈسٹرکٹ میں جایا جائے ۔چنانچہ ہم ٹاکسم سے کباتش روانہ ہوئے اور وہاں سے ا سکورد کی فیری میں سوار ہوگئے ۔ رات ہونے کی وجہ سے فیری خالی پڑ ی ہوئی تھی۔کسی کشتی یا جہاز کا کنارے سے ہٹ کر سمندر میں جانا، ساحل کو بتدریج دور ہوتا ہوا دیکھنا ایک بڑ ا ہی پرلطف نظارہ ہوتا ہے ۔خاص کر رات میں جب ساحل سے دور ہوتے ہوئے شہر کی روشنیاں بتدریج نگا ہوں کے دائرے میں سمٹتی چلی آئیں تو یہ ایک بہت خوبصورت منظر ہوتا ہے ۔استنبول ایک گنجان آباد شہر ہے جس کی آبادی تقریباً ڈیڑ ھ کروڑ ہے ۔ باسفورس کی پٹی کے آرپار پہاڑ یوں پر آباداس شہر کی روشنیاں سمندر سے بہت نمایاں نظر آتی ہیں ۔یہ بلاشبہ ایک دلکش نظارہ تھا۔کشتی چلنا شروع ہوئی تو سرد ہواؤں نے ہمیں اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔پانی اس وقت سیاہ نظر آ رہا تھا مگر فیری کی روشنی میں آگے بڑ ھتی کشتی کے عین نیچے سفید جھاگ اڑ اتا نیلگوں پانی اب سیاہی کے ا ثر سے سبزی مائل نظر آ رہا تھا۔ سمندر کا ایک اور اہم منظر نیلی روشنیوں سے جگمگاتا اور ایشیا اور یورپ کو آپس میں ملاتا باسفورس برج تھا۔جبکہ کباتش کے ساحل پر پیلے رنگ کی روشنیوں میں نہائی ہوئی ایک اہم عمارت سلطان عبد الحمیدکا بنایا ہوا ڈولمبا محل تھا جو کہ توپ کاپی کے بعد خلفاء کی رہائش گاہ بنا۔ اُس رات ہم ٹھنڈی یخ ہوا میں اس منظر سے خوب محظوظ ہوئے ۔ کچھ دیر دوسرے کنارے پر رک کر ہم واپس لوٹ آئے ۔

آخرت کا پانا کھونا اور موت کی آہٹ

اگلے دن دوپہر میں ہم سب ایک ہی ٹیکسی میں ائیرپورٹ کے لیے روانہ ہوئے ۔ پانچ بجے ہمیں گوریم روانہ ہونا تھا جبکہ شام سات بجے ثنا کی دبئی روانگی تھی۔ ائیر پورٹ کافی دور تھا اور راستے میں بہت رش تھا۔ہماری فلائٹ کا وقت کافی قریب آ گیا تھا۔ ہم دوگھنٹے کے سفر کے بعد مقررہ وقت سے کچھ پہلے بمشکل تمام ائیرپورٹ پہنچے ۔جلدی جلدی ثنا، تنزیل اوربچوں کو الوادع کہا اور ڈومسٹک لاؤنج کی طرف لپکے ۔ جبکہ یہ لوگ آگے انٹرنیشل لاؤنج کی طرف بڑ ھ گئے ۔

ان دونوں بہنوں نے ساتھ مل کر یہ پروگرام بنایا تھامگر سفر میں بمشکل تمام ایک دن ہی ہمارا ساتھ رہا۔یہیں سے یہ سبق ملتا ہے کہ زندگی میں تمام فیصلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں ۔ اس دنیا میں ہمیں ارادہ کرنے کا اختیار ہے ۔ موثر وہی فیصلہ ہوتا ہے جسے اللہ چاہے ۔ لیکن اس دنیا میں ہمیں ایک اور عظیم موقع دیا گیا ہے ۔ وہ یہ کہ آنے والی دنیا کا ہر فیصلہ ہم کرسکتے ہیں ۔ قرآن کہتا ہے کہ وہاں تمھارے لیے وہی ہو گا جو تمھارا دل چاہے گا اور تمھیں وہی ملے گا جو تم مانگو گے ۔ اس حقیقت کو ہم جان لیں تو دنیا کے کھونے اور پانے کے بجائے آخرت کے کھونے اور پانے پر ساری توجہ ملحوظ رہے ۔ اس لیے کہ اُس روز جو کھویا وہ کبھی نہیں ملے گا اور جو پالیا وہ کبھی نہیں کھوئے گا۔

ہمیں ایک طرف یہ عظیم موقع ملا ہوا ہے کہ ابدی زندگی کی بادشاہی حاصل کریں اور دوسری طرف ایک خوفناک حقیقت یہ ہے کہ یہ موقع کسی وقت بھی اچانک غیر متوقع طور پر ختم ہو سکتا ہے ۔ اس کا تجربہ ہمیں جہاز میں اس طرح ہوا کہ لینڈنگ سے کچھ پہلے اچانک جہاز نے غوطہ کھایا اور تیزی سے نیچے ہونے لگا۔ محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً دل اچھل کر گلے کو آ گیا۔ لینڈنگ سے قبل جہاز اتنا نیچے آ چکا ہوتا ہے کہ سنبھلے کے لیے بہت کم وقت ہوتا ہے ۔

مجھے ایک دفعہ ایک پائلٹ نے جو جہاز کے ایسے ہی حادثے سے بچے تھے یہ بتایا تھا کہ اتنے نیچے منٹوں میں نہیں ۔ بلکہ سیکنڈ وں میں کام تمام ہوجاتا ہے ۔ مگر اللہ نے کرم کیا اور چند لمحوں میں جہاز پائلٹ کے کنٹرول میں آ گیا اور وہ تیزی سے جہاز کو اوپر اٹھاتا چلا گیا۔میں نے زندگی میں بہت ہوائی سفر کیے ہیں ، بہت ناہموار پروازیں دیکھی ہیں مگر ایسا تجربہ کبھی نہیں ہوا۔

ہم اس صورتحال سے نکلے تو میں نے اپنے بیٹے کو جو اس صورتحال کو بالکل نہیں سمجھا تھا یہ بتایا کہ ہمارا جہاز نیچے گر رہا تھا۔ بابا نے دعا کی تو اللہ میاں نے ہماری مدد کے لیے اپنے فرشتے بھیج دیے جنھوں نے جہاز کو واپس ٹھیک کر دیا۔اس میں کیا شک ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی عنایت اور مداخلت کے بغیر اس جہاز کا واپس اوپر اٹھنا ممکن نہ تھا۔

گوریم کے غار والے ہوٹل

الحمدللہ جہاز ائیرپورٹ پر ساتھ خیریت کے اترگیا۔یہ نواشیر ائیر پورٹ تھا جو کہ کپوڈوکیا کے علاقے میں واقع ایک چھوٹا سا صوبہ ہے ۔ ہمیں اسی صوبے کے قصبے گوریم جانا تھا۔ جہاز سے پیدل چل کر ہم لاؤنج میں آئے جو کسی بس کے ٹرمنل جتنا چھوٹا تھا۔اس چھوٹے سے لاؤنج سے نکل کر باہر آئے تومیں سوچ رہا تھا کہ فنڈا کو کیسے تلاش کیا جائے ۔کیونکہ اسریٰ کی بات ہم کو پوری طرح سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ مگر باہر ایک شخص میرے نام کا بورڈ لیے کھڑ ا تھا۔ ہم مطمئن ہوگئے کہ چلو فنڈا مل گیا۔کچھ دیر بعد فنڈا ہمیں لے کر روانہ ہوا۔ائیر پورٹ پر اترتے اور باہر نکلتے ہوئے ہم نے ثنا کے اس تاثر کی تصدیق پائی جس سے اس نے ہمیں فون پر مطلع کیا تھا کہ کپوڈوکیا ایک انتہائی پرسکون جگہ ہے ۔ راستہ میں کچھ کھیت چٹانیں اور کچھ قصبات جتنے بڑ ے شہر گزرے ۔ سڑ ک پر ٹریفک بالکل نہ تھا۔ قصبات میں لوگ نہ تھے ۔ ہر جگہ اسی سکون کا احساس گہرا ہوتا چلا گیا۔

مغرب کے لگ بھگ ہم گوریم پہنچنے ۔ یہ ایک چھوٹا سا قصبہ یا ٹاؤن تھا جس کی کل آبادی بمشکل دو ہزار نفوس تھی۔ کپوڈوکیا کی ساری سیاحتی سرگرمیاں کا مرکز ہونے کی بنا پر اس قصبے میں بکثرت ہوٹل تھے ۔زیادہ ترہوٹل غاروں کے اندر بنے ہوئے تھے اور Caveہوٹل کہلاتے تھے ۔یہاں آنے والے بیشتر سیاح مغربی ممالک سے تھے اور بڑ ے شوق سے ان غار والے ہوٹلوں میں رکتے تھے ۔تاہم میں نے اس ایڈوانچر کے بجائے بڑ ے ، کشادہ اور کھلے ہوئے ہوٹل میں قیام کو ترجیح دی۔

اس کا سبب یہ تھا کہ اس سے قبل ہم ملائیشیا کے سفر میں لنکاوی کے حسین جزیرے میں اپنا قیام اسی طرح کے ایڈوانچر میں خراب کر چکے تھے ۔وہاں ہوٹل میں کمروں کے بجائے جنگل میں تنہا تنہا بنے ہٹ میں سے ایک میں رہائش ملی۔ اسے شاید مغربی لوگ تو بڑ ا انجوائے کرتے ہوں ، مگر پہلی رات ایک عجیب سے جانور کا کمرے میں نکل آنے ، اس کے بعدانتہائی خوفنا ک بارش اور جنگل میں مکمل تنہائی کے احساس میں اہلیہ پوری رات جاگیں اور میں بھی نہ سوسکا۔ تب سے ہم نے ایسے کسی ایڈوانچر سے توبہ کر لی تھی۔چنانچہ یہاں انھوں نے غاروں میں رہنے کے بجائے جدید طرزکے بنے خوبصورت ہوٹل میں قیام کو ترجیح دی جو گوریم کے قصبے سے ذرا باہر واقع تھا۔

اللہ کی خصوصی عنایت

ہم ہوٹل پہنچے تو ریسیپشن پر موجود لڑ کی نے بڑ ی خوش دلی سے ہمارا استقبال کیا۔وہ ہمیں ہماری بکنگ کے مطابق ہوٹل کی اصل عمارت سے باہر بنے ولاز کی طرف لے گئی۔ یہ اچھے صاف ستھرے اور کشادہ ولاز تھے ، مگر اس وقت مغرب ہو چکی تھی۔ اندھیراپھیل رہا تھا۔ اول تو یہ ہوٹل قصبے سے باہر۔ پھر یہ ولا ہوٹل سے باہر۔پھرہوٹل میں بھی ہمیں کوئی دوسرا مہمان نظر نہیں آیا۔ ہر طرف سناٹا تھا۔ اس لیے رات میں یہاں ٹھہرنے کے تصور سے کچھ وحشت ہوئی۔

اس سے قبل کے ہم کچھ کہتے ہ لڑ کی خود ہی بولی کے آپ کو میں دوسرا کمرہ بھی دے سکتی ہوں ۔ہم نے کہا وہ بھی دکھایں ۔ چنانچہ وہ ہمیں لے کر واپس ہوٹل آئی۔راہداری سے گزرتے ہوئے اندازہ ہوا کہ کچھ لوگ ہوٹل کے کمرو ں میں مقیم ہیں ۔ ہمیں کچھ اطمینان ہوا۔وہ ہمیں پہلی منزل پر واقعہ ایک بڑ ے سوئٹ میں لے گئی۔ یہ سوئٹ بہت بڑ ا کشادہ اور آرام دہ تھا جس میں بیڈروم کے علاوہ ایک لاؤنج بھی تھا۔ لاؤنج کے آگے ایک گیلری تھی جہاں سے سامنے دور تک کا منظر نظر آتا تھا جبکہ کمرے کی وسیع کھڑ کی سے داہنی طرف ، ہوٹل کا سوئمنگ پول، بڑ ا سا لان اور آگے دوردور تک کامنظر نمایاں تھا۔

ہم دل ہی دل میں اللہ کے شکر گزار تھے کہ اس نے بلاتردد ہمیں ایک بہترین رہائش عطا کر دی ۔ورنہ وہاں اندھیرے اور تنہائی کے احساس سے بہت مشکل ہوتی۔دوسری طرف ہوٹل والے بکنگ سے ہٹ کر کوئی چیز نہیں دیتے اور دیتے ہیں تو اس کے اچھے خاصے اضافی پیسے وصول کرتے ہیں ۔یہاں ہمیں اسی سستے کرائے میں بہت مہنگا کمرہ مل رہا تھا۔اگلے دن فجر کے لیے اٹھے تو دیکھا کہ اس کمرے کی کھڑ کی اور گیلری کے سامنے ہی بلون یا غبارے اڑ تے ہیں جو خود بہت دلچسپ تجربہ تھا۔ جبکہ دور دور تک فیری چمنی کی منفر د پہاڑ یاں ، بلند نیلگوں آسمان، ہوٹل کا کشادہ اور سرسبز لان اور نیلا سوئمنگ پول اردگرد کسی اور عمارت کا نہ ہونا یہاں کے ہر منظر کو انہتائی حسین بنادیتا ہے ۔کمرے میں رہ کر بھی ان مناظر کو دیکھتے رہنا جنت میں رہنے کا تجربہ معلوم ہوتا تھا۔

بے اختیار دل میں احساس ابھرا کہ کاش کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہمارے گھٹیا اعمال اور ناقص پونجی کے باوجود جنت کے اعلیٰ درجات بلا استحقاق عطا کر دیں تو ان کے لیے کیا بعید ہے ۔سچی بات یہ ہے کہ رب کی رحمت کے سوا ہم گناہ گاروں کا کوئی سہارا ہی نہیں ۔ ان ربی رحیم ودود۔

فنڈا کا لطیفہ

یہ سوئٹ دکھاکے اس لڑ کی نے ہماری شکل دیکھی جس پر پہلے ہی لکھا تھا کہ ہمیں یہی کمرہ چاہیے ۔ چنانچہ وہ ہمیں لے کر دوبارہ نیچے لوٹی تاکہ ہمارا اندراج کر کے چابی ہمیں دے دے ۔ سارے کاموں سے جب فارغ ہوگئے تو آخر میں میں نے اس مہربان لڑ کی سے پوچھا کہ اس کا نام کیا ہے ۔اس نے ترنت جواب دیا کہ اس کا نام فنڈا ہے ۔

ہم ایک دم ششدر رہ گئے ۔ ہم ائیر پورٹ وین کے بھاری بھرکم چھ فٹے بڑ ے میاں کو فنڈا سمجھے تھے ۔ جبکہ اصل فنڈا یہ نرم و نازک ، خوش اطوار، ہمیشہ مسکراتی اور تعاون پر آمادہ یہ خوبصورت لڑ کی تھی۔ اس بات پر سب سے زیادہ مزہ میرے بیٹے کو آیا۔ اس کے لیے تو یہ ایک لطیفہ بن گیا کہ ہم فنڈا کو کیا سمجھے تھے اوردرحقیقت وہ کیا نکلی ۔

فنڈا نے بتایا کہ اسریٰ نے ہوٹل فون کر کے اسے بتادیا تھا کہ پاکستان سے اس کے مہمان آئے ہیں ۔ ترکی والے خاص کر دیہاتی پس منظر کے لوگ اہل پاکستان سے محبت کرتے ہیں ۔فنڈا نے اس تمام عرصے میں اس محبت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ ہر پہلو سے وہ ہمارے ساتھ تعاون کرتی رہی۔اس کا رویہ کسی ایسے میزبان کا تھا جس کے اپنے گھر مہمان آئے ہوں ۔واپس آتے وقت بھی اس نے بڑ ی اپنائیت سے ہمیں رخصت کیا۔ وہ ہمارے لیے اٹھ کر اپنی جگہ سے باہر آ گئی تھی۔میں نے فنڈا سے رخصت ہوتے وقت اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے بہت دعا دی۔اس نے ہر قدم پر ہمارے ساتھ بہت تعاون کیا تھا۔(جاری ہے )

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 10 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

سیرناتمام -