ناحق  جینے کا حق  نہ چھینو

ناحق  جینے کا حق  نہ چھینو
ناحق  جینے کا حق  نہ چھینو

  

حکومت اور عوام لازم و ملزوم ہیں اور جمہوری  آئینہ کے بھی یہی دو  رخ ہیں- ایک پہ حکومت اور دوسرے رخ پہ  عوام نظر آتی ہے – اگر میں یہ لکھوں کہ اچھی ، بری جمہوری حکومت کے بھی یہی دو ذمہ دار  ہیں تو بے جا نہ ہوگا - یہ بھی ایک مسلمہ  حقیقت ہے کہ اچھی عوام اچھے حکمرانوں کو ہی جنم دیتی ہے اور پھر یہ دونوں ایک دوسرے کو  ملکی قوانین کے تابع بناتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں- حکومت اگر قانون بناتی ہے تو ریاست اس پہ عمل درآمدکرواتی ہے – محمود و ایاز پہ نافذ ہوتی ایک ہی شق جب مساوات و برابری کے مناظر کو  اجاگر کرتی ہے تو فلاحی ریاست کا وجود  ظہور پذیر ہوتا ہے- ایک دوسرے کو بھولے اسباق  و   اقرار  کی یاد دہانی اور غلط راستوں کے تعین پہ ہوتی تنقید  اس ریاست کی روح  کہلاتی ہے اور خوشحال جمہور اس کا ثمر ہوتا ہے- جب  یہ اوصاف  نظر انداز ہوتے ہیں تو ہمیں اس معاشرے میں انسانی شکل میں بستے حیوان ایک دوسرے کا حق مارتے اور لوٹ مار کرتے نظر آتے ہیں-

 قوم انسانوں کی ایک منظم جماعت کا نام ہے جس پہ حقوق العباد اور حقوق اللہ کا نفاذ سراسر انسانی بہتری کا ہی پیامبر  ہے لیکن جب اسی معاشرے میں حقوق اللہ کی ادائیگی میں مصروف  اپنے جوتے کے متعلق زیادہ فکر مند ہو اور فلاح انسانی کے لئے رکھے گلاس زنجیر سے بندھے ہوں تو  اس معاشرے کی اقدار اور زبوں  حالی کا اندازہ لگانا چندا ں مشکل نہیں ہے- جا بجا پھیلی گندگی اور در و دیوارِ وطن پہ کی گئی نقش کاری کیا کسی معاشرے کی ذہنی  صلاحیتوں کی آئینہ دار نہیں ہے – سڑکوں  پہ بے ہنگم ٹریفک  اور در آتی لاقانونیت پہ گالم گلوچ کیا اس  کے افراد کےاخلاق و کردار کا اظہار نہیں ہیں - کسی کھانے کی محفل میں  کھانے پہ حملہ آور ہوتے شرکائے بزم  اپنے اند رکے چھپے اطوار و خصائل کو بیان نہیں کرتے بس ایک نظرِ بینا کا سوال ہے –

  سیاست اور جمہوریت کا لبادہ اوڑھے کچھ طاقتور اور  بد طینت   عناصر کے حصار  میں مقید پاکستان اپنے اوائل سے ہی ایک اور تحریک ِ

آزادی کا طلب گار ہے- یہ عناصر نہ تو خوشحال ، پڑھا لکھا ،مثبت سوچ اورتنقید کا جمہور چاہتے ہیں اور نہ  ہی  اپنے طرزِ سیاست پہ کسی اٹھی انگلی کو برداشت کرتے ہیں- یہ میرے وطن کی بد قسمتی ہے کہ اس کی باگ ڈور ایسے کاروباری لوگوں کے ہاتھوں میں رہی ہے جنہوں نے  اس کی آڑ  میں اپنے کاروبار کو جائز ناجائز دونوں ہی طریقوں سے خوب دوام بخشا ہے- ملکی خزانے کا بے  دریغ استعمال ہو یا  ٹیکس چوری، حکومتی اداروں کی ارزاں نیلامی ہو یا  بیرونی قرضوں کا کمر توڑ بوجھ، بنیادی حقوق کا  استحصال ہو یا پامالی، تعلیم اور صحت کے شعبہ جات کو کاروباری انڈسٹری بنانے  کوئی فارمولا ہو یا عوام کو غربت اور مہنگائی میں جکڑنے کی کوئی سعی ان کے رنگے ہاتھ عوام کو بد حال کر رہے ہیں جبکہ ان کے جاہ و حشمت کے  کلیسا رو بہ ترقی آسمانوں کو چھو رہے ہیں- لوٹے سرمائے کو بیرون ممالک منتقل کرنے میں  یدِ طولی ٰ حاصل کئے ہوئے  پاک دھرتی کے  یہ مالک  ملکی معیشیت کی شہ رگ میں اپنی جڑیں کچھ ایسے پیوست کیے ہوئے ہیں کہ  ملکی سیاست و جمہوریت انہی کا اثاثہ و میراث نظر آتی ہے- الیکشن کے نتائج ہو ں یا  انتخاب لڑنے کا دھندہ و فن جیت ان کی مہارت کا وہ  جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ  کوئی ان کی ہوا  کو بھی نہ چھو سکے- ہر داؤ پیچ اور چالاکی  میں طاق یہ بے باک حاکم  کچھ ایسے خود غرض ہیں کہ پاؤں میں بچھے جانے والے اقتدار سنبھالتے ہی پولیس کی سخت نگرانی میں گاڑیوں کےایک عالیشان جلو  کی صورت ایسی شان سے گزرتے ہیں کہ  کوئی شاہی خاندان بھی اس  پہ رشک کرے- اپنی عوام کے چہروں پہ دھول اڑاتے جب  یہ حاکم  ان کو ان کی اصل اوقات دکھاتے ہیں تو کچھ جز بز کرنے والے الفاظ ہونٹوں میں ہی دبا لیتے ہیں کہ کہیں کسی توہین کے مستوجب نہ ٹھہرا لئے جائیں-

اس حقیقت سے بھی کب انکار ہے کہ اس دھرتی کو لوٹنے والے کب سے لوٹ مار میں مصروف ہیں لیکن اس کی کوکھ میں چھپے خزانے ہیں کہ پھر بھی اپنے باسیوں کی  داد رسی کے لئے   کچھ نہ کچھ  دان کرتے  ہی رہتے ہیں- بے شک خدا نے اس سر زمینِ پاک کو وہ  نعمتیں عطا کی ہیں کہ جن کا جتنا بھی شکر ادا ہو کم ہے- سونا اگلتی زمینیں  - قدرتی وسائل کی فراوانی، سنگلاخ پہاڑ، بہتے دریا، موجیں مارتا سمند ر ،دور دور تک بچھے ساحل ،ہر قسم کا موسم  اور ہر قسم کا آب و دانہ- کمی ہے تو ایک  اچھے سچے لیڈر کی – کسی موزے تنگ کی، کسی نیلسن منڈیلا کی ، چون لائی کی یا کسی ادرگان کی جو اس کے عوام کی  سرشت میں چھپی اس جوالہ مکھی کو ہوا دے سکے کہ   جو اس کے مقدروں میں سیاسی  و جمہوری  انقلاب  لا سکے- حق گوئی و بیباکی کی مثال بنی یہ عوام اپنے حکمرانوں کو ان کے بھولے اقرار یاد دلا سکے جو وہ منتخب ہونے سے پہلے بار بار  ان کے سامنے دھراتےرہے  ہیں اور بے شک مثبت تنقید   کے حق کا درست استعمال  ہی  کامیاب مستقبل  کی ضمانت ہے – ان  حالات میں چپ رہنا اور ظلم سہنا  ایک ظالم کی اعانت سے کم نہیں ہے  - اپنے قومی فرائض پوری تندہی سے کما حقہ  ادا کیجئے اور اپنے جائز حقوق کے لئے آواز اٹھائیے کیونکہ زندہ قومیں اپنے جذبات اور خیالات کے اظہار سے ہی  جانی پہچانی جاتی ہیں – وہ جو آپ کے حقوق کی بابت کسی شک و شبے کا شکار ہیں ان کے غیر جمہوری رویوں پہ ضرور تنقید کیجیئے  اور ان کو ان کے اقرار  اور دیے گئے حلف میں ایسے باندھ لیجیئے کہ اس پاک دھرتی کا ہر باشندہ مساوی حقوق کے ساتھ جیئے-

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ