سعودی عرب کا وہ علاقہ پہلی مرتبہ عوام کے لئے کھولنے کا فیصلہ جہاں آج سے پہلے کسی کو جانے کی اجازت نہ تھی، کونسی جگہ ہے؟ جان کر آپ کا دل کرے گا ابھی سامان باندھ لیں

سعودی عرب کا وہ علاقہ پہلی مرتبہ عوام کے لئے کھولنے کا فیصلہ جہاں آج سے پہلے ...
سعودی عرب کا وہ علاقہ پہلی مرتبہ عوام کے لئے کھولنے کا فیصلہ جہاں آج سے پہلے کسی کو جانے کی اجازت نہ تھی، کونسی جگہ ہے؟ جان کر آپ کا دل کرے گا ابھی سامان باندھ لیں

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سیر و سیاحت کے حوالے سے سعودی عرب کا تذکرہ کم ہی سننے کو ملتا ہے لیکن ماہرین ارضیات نے انکشاف کیا ہے کہ اس ملک میں کچھ ایسے حیرتناک مظاہر فطرت واقع ہیں کہ انہیں ایک بار عوام کے لئے کھول دیا گیا تو ساری دنیا سے سیاح انہیں دیکھنے کے لئے مملکت کا رخ کر رہے ہوں گے۔

عرب نیوز کے مطابق قدرت کی یہ حیرت انگیز تخلیق فلک بوس پہاڑوں میں واقع وہ غاریں اور ان کے اندر بہنے والی ندیاں ہیں جو کسی طلسماتی دنیا کا منظر پیش کرتی ہیں۔ سعودی ماہرین ارضیات کے مطابق ان غاروں کی بڑی تعداد آتش فشاں کے لاوا سے بننے والے پہاڑوں میں موجود ہے جو 89 ہزار مربع کلومیٹر کے وسیع و عریض رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کچھ غاروں میں قدیم دور کے نوادرات، ہڈیاں اور ایسے جاندار بھی دریافت ہوئے ہیں جو دنیا کے اور کسی خطے میں نہیں پائے جاتے۔

سعودی عرب میں ہزاروں سال پرانے پتھر جنہیں سائنسدان جہنم کے دروازے کہتے ہیں؟ دراصل کیا ہے؟ معلوم کرنے کیلئے انوکھا طریقہ اپنالیا گیا

سیاحتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدیم غاریں اس قدر حیرتناک مناظر سے بھرپور ہیں کہ جب انہیں سیاحت کے لئے کھولا جائے گا تو پوری دنیا سے سیاح یہاں آیا کریں گے۔ سعودی کمیشن برائے سیاحت و قومی ورثہ کے تعاون سے متعدد غاروں کو سیاحوں کے لئے کھولنے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔

ان غاروں سے ملنے والی ہڈیاں قدیم دور کے ہرنوں، گھوڑوں، زرافوں، زیبروں، شترمرغوں اور کئی ایسے جانوروں کی ہیں جن کے بارے میں ماہرین کو تاحال کچھ معلوم نہیں۔ سب سے حیرتناک چیز ان غاروں سے ملنے والی ہاتھیوں کی ہڈیاں ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ بات حیرت انگیز ہے کہ اس جگہ پر کبھی ہاتھی بھی رہا کرتے تھے۔ یقینا یہ اُس دور میں ہرا بھرا جنگل رہا ہوگا، لیکن اب یہاں تا حد نگاہ پہاڑ ہی پہاڑ ہیں۔

مزید :

عرب دنیا -