ہائی کورٹ نے پنجاب کے دریاﺅں سے ریت نکالنے کے منصوبوں کے لئے محکمہ ماحولیات کا سروے لازمی قرار دے دیا

ہائی کورٹ نے پنجاب کے دریاﺅں سے ریت نکالنے کے منصوبوں کے لئے محکمہ ماحولیات ...
ہائی کورٹ نے پنجاب کے دریاﺅں سے ریت نکالنے کے منصوبوں کے لئے محکمہ ماحولیات کا سروے لازمی قرار دے دیا

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے پنجاب کے دریاﺅں سے ریت نکالنے کے منصوبوں کے لئے محکمہ ماحولیات کا سروے لازمی قرار دے دیا،فاضل جج نے مزیدقرار دیا کہ ماحولیاتی آلودگی پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا،ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے آج ہمیں یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے۔

ویتنام کے ساتھ روایتی دوستی کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتے ہیں: چینی صدر

چیف جسٹس نے نجی کمپنی کو دریائے چناب سے ریت نکالنے سے روکنے اور جدید مشین کے این او سی کی بحالی کے لئے درخواست پر سماعت شروع کی تودرخواست گزار کی طرف سے عمران رضا چدھڑ ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ محکمہ سے باقاعدہ معاہدے کے بعد دریا سے ریت نکالنا شروع کیا ،ریت نکالنے کے لئے جدید مشین ڈریجر منگوائی گئی ہے لیکن ڈریجر مشین کے ذریعے ریت نکالنے سے اس بنا ءپر روک دیا گیا کہ ماحولیاتی آلودگی پھیل رہی ہے ،اگر محکمہ ہمیں پہلے اس بارے میں بتاتاتو ہم محکمہ ماحولیات سے سروے کرالیتے،اب ریت نکالنے سے نہ صرف روک دیا گیا ہے بلکہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس مشین بھی اٹھا کر لے گئے ہیں۔محکمہ ماحولیات کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈریجرمشین کے ذریعے دریا سے ریت نکالنا بہت خطرناک عمل ہے،اس مشین سے ریت صرف سمندر سے ہی نکالی جاتی ہے،اس مشین سے دریا کی نچلی سطح کو بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔ عدالت نے مذکورہ بالا ریمارکس کے ساتھ کیس کی مزید سماعت 3ہفتوں پرملتوی کر دی.

مزید :

لاہور -