ہم نے بھی ووٹ ڈالا

ہم نے بھی ووٹ ڈالا
ہم نے بھی ووٹ ڈالا

  

ہم نے بھی ووٹ ڈالا اور یہاں مَیں نے اپنے لئے ’’ہم‘‘ جمع کے صیغے کے طور پر استعمال نہیں کیا،جس طرح رائٹرز حضرات عام طور پر اپنے احترام میں استعمال کرتے ہیں۔’’ہم‘‘ سے مراد ہماری فیملی،یعنی ’’زمان فیملی‘‘ ہے۔ مَیں بذاتِ خود، میری بیگم عصمت اور تین بیٹیاں کنول، شاہ رُخ اور بسماء۔ آپ ووٹ کس کو ڈالتے ہیں اِسے یہاں پرائیویٹ معاملہ سمجھا جاتا ہے،لیکن مَیں ان سب کی اجازت سے آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہماری ٹیملی نے ڈیمو کریٹک پارٹی کے وفادار اراکین کی طرح گورنر، کانگریس، سینیٹ، ریاست اور کاؤنٹی کے امیدواروں کو پارٹی لائن کے مطابق ووٹ دیا۔

مَیں نے اپنی بیگم اور سب سے چھوٹی بیٹی بسماء کے ہمراہ اپنے گھر کے قریب واقع پولنگ سٹیشن پر ووٹ ڈالا۔فاصلہ صرف دو کلو میٹر کا تھا، جو میری روزانہ کی دو قسطوں میں ہونے والی تقریباً آٹھ کلو میٹر واک کے اعتبار سے بہت معمولی تھا۔ مَیں اکیلا ہوتا تو بہت شوق سے وہاں پیدل چل کر جاتا،لیکن فیملی کے ارکان کی وجہ سے ہم گاڑی میں گئے۔ چار نومبر منگل کے روز صبح سات بجے سے شام آٹھ بج تک پولنگ کا وقت تھا۔ ہم نے شام کو ووٹ ڈالنے کا فیصلہ کیا کہ رش کم ہو گا اور صبح سے جاری بارش سے بھی کچھ بچ جائیں گے۔ موسم اگرچہ ابر آلود تھا،لیکن بارش سے بچت ہو گئی۔ ہم لوگ سات بجے کے قریب پہنچے،ابھی پولنگ بند ہونے میں ایک گھنٹہ باقی تھا۔مزے کی بات یہ ہے کہ صرف پارکنگ میں مختلف امیدواروں کے سائن لگے ہوئے تھے۔

اس کے سوا پارٹیوں کی انتخابی مہم کا وہاں کوئی نشان نہ تھا، نہ پارٹیوں کے انتخابی کیمپ، نہ کسی پارٹی کے پُرجوش ارکان کی سپورٹ ٹیم اور نہ ہی پوسٹرز اور پمفلٹ کی تقسیم۔ مزید یہ کہ ووٹرز کی طویل قطار سکول کی عمارت سے باہر بارش اور ٹھنڈی ہواؤں کے خطرات سے پُر پارکنگ تک پہنچی ہوئی تھی۔ ہم نے بھی ووٹ دینے کے عمل کا آغاز پارکنگ ایریا ہی سے کیا۔بیٹی کہہ رہی تھی کہ آپ کو ڈیمو کریٹک پارٹی کو جتوانے کا بہت شوق ہے، تو شوق سے ٹھنڈے پارکنگ ایریا کے مزے لیں ،مَیں تو گھر جا رہی ہوں،لیکن یہ مذاق تھا۔ ہم کافی دیر باہر ہی ڈٹے رہے اور آخر خدا خدا کر کے عمارت میں داخل ہوئے۔سکول کے ہال وے میں قطار میں تھوڑا انتظار کیا اور اس ہال کمرے میں پہنچے جہاں پولنگ ہو رہی تھی۔

قطار ہال وے سے ہال میں داخل ہوئی تو مَیں نے ایک نظر میں ماحول کا جائزہ لیا۔ہال کے عین مرکز میں چار ’’جج‘‘ ڈیسک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے،جن کا کام ووٹرز کی تصدیق کر کے انہیں بیلٹ پیپرز ایک بڑے فولڈر میں ڈال کر دینا تھا، جو رجسٹر سائز کے پانچ صفحے یا تین ورق تھے۔یہ عدالتی جج نہیں،بلکہ صرف الیکشن کے دن کے لئے کنٹریکٹ پر ہائر کئے گئے رضا کار ہوتے ہیں،جنہیں صرف ٹوکن سا معاوضہ ملتا ہے، جو صبح سے رات گئے تک مسلسل ڈیوٹی دیتے ہیں۔بورڈ آف الیکشن کمیونٹی سے چیدہ چیدہ افراد کو اس کام کے لئے ڈھونڈتا ہے۔مَیں بھی دو مرتبہ ’’جج‘‘منتخب ہوا تھا،لیکن اتنی طویل مشقت سے گھبرا کر چند روز قبل انکار کر دیتا تھا۔ بہرحال اس ہال میں کھڑے ہو کر نشان لگانے کے لئے کل پندرہ بوتھ تھے، پانچ سامنے اور دو دو اطراف پر۔

اس کے علاوہ دونوں اطراف پر تین تین ایسے بوتھ تھے،جہاں کرسی پر بیٹھ کر نشان لگایا جا سکتا تھا۔لکڑی کے یہ بوتھ اس طرح ایستادہ تھے کہ نشان لگانے والا تو نظر آتا تھا،لیکن ڈیسک کا لکھنے والا حصہ دو اطراف سے چھپا ہوا تھا۔

ایک اور بتانے والی بات یہ ہے کہ ہال میں چار رضا کار موجود تھے، جو ووٹروں کو تمام مراحل سے گزرنے میں مدد دے رہے تھے اور وہ تمام کے تمام انڈین امریکن تھے۔ دو درمیانی عمر کے اور دو کالج سٹوڈنٹ میرے لئے ذاتی طور پر کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ ان کا تعلق جنوبی ایشیا سے تھا، میرے لئے یہ کافی تھا۔ پاکستانیوں کی صورتِ حال بہتر ہو رہی ہے۔ وہ اب کمیونٹی اور سیاست کے معاملے میں پہلے سے زیادہ سرگرم ہیں۔بزنس اور ملازمتوں میں بھی وہ آگے بڑھ رہے ہیں،لیکن کم از کم ہمارے واشنگٹن ایریا میں انڈین باشندے پاکستانیوں سے ایک نہیں کئی قدم آگے ہیں۔

یہاں مَیں اپنے مشاہدے کے مطابق یہ بتاتا چلوں کہ پاکستان، انڈیا،بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال سمیت جنوبی ایشیا کے باشندوں میں کہیں کہیں زبان کے فرق کے باوجود دوسروں کی نسبت آپس میں زیادہ اتحاد اور یگانگت پائی جاتی ہے۔پاکستان اور بھارت میں وہاں اگر دونوں ممالک کے درمیان مخالفت کا ماحول ہے جسے کچھ لوگ دشمنی بھی سمجھتے ہیں،وہ سات سمندر پار کر کے جب امریکہ پہنچتی ہے تو خاصی پگھل جاتی ہے۔ بڑوں میں اس کے کچھ کچھ اثرات ضرور موجود ہوں گے،لیکن جنوبی ایشیا کے نوجوان اور خاص طور پر وہ لڑکے اور لڑکیاں جو یہاں پیدا ہوئے ہیں ان کا آپس میں بہت گہرا میل جول ہے۔میری تینوں بیٹیوں کی زیادہ دوستی انڈین لڑکیوں سے ہے اور جب کبھی مَیں بیٹیوں کے ذریعے ان سے ملتا ہوں تو وہ اتنی اپنائیت سے پیش آتی ہیں کہ لگتا ہی نہیں کہ ہمارا ان سے کوئی فرق ہے۔

بات کہیں دور نکل گئی۔دراصل مَیں اپنی عادت کے مطابق سکرین پلے کے انداز میں یہاں امریکہ میں ووٹنگ کا عمل آپ سے شیئر کر رہا تھا۔تو وہیں سے سلسلہ جوڑتے ہیں جہاں سے ٹوٹا تھا۔ قطار میں میری باری آئی تو انڈین رضا کار نے مجھے ہال کے درمیان میں ڈیسک لگائے ہوئے چار ’’ججوں‘‘ کی طرف جانے کا اشارہ کیا۔مَیں وہاں پہنچا۔ گھر سے باہر نکلتے وقت سبھی اپنا شناختی کارڈ ضررو ساتھ رکھتے ہیں۔آتے وقت مَیں نے بھی اپنا شناختی کارڈ جیب میں ڈال لیا تھا،لیکن مجھے علم تھا اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔جج خاتون نے مجھ سے پورا نام، تاریخ پیدائش اور پتہ پوچھا جو مَیں نے بتا دیا۔وہ جس کمپیوٹر کو دیکھ رہی تھی اس کی سکرین مجھے نظر نہیں آ رہی تھی۔ اس نے ایک نظر مجھے دیکھا، شاید ڈیٹا کھولنے کے بعد اُسے میری تصویر نظر آ رہی تھی،مجھے نہیں معلوم۔

اُس نے مزید کچھ نہیں پوچھا اور کمپیوٹر کو پرنٹ آرڈر دیا اور جس طرح مَیں پہلے بتا چکا ہوں اِس میں سے رجسٹر سائز کے تین بڑے ورق نکلے۔ اس نے ایک بڑے فولڈر میں ڈال کر میرے بیلٹ پیپر میرے حوالے کئے اور لے مَیں ایک دوسری قطار میں چلا گیا۔ تھوڑی دیر میں کوئی بوتھ خالی ہوا تو وہاں مَیں نے کھڑے ہو کر امتحانی پرچے کو حل کرنے کی طرح اسے پُر کیا۔گورنر، ایوان نمائندگان،وفاقی سینیٹ اور ریاستی دیگر عہدیداروں کے علاوہ سرکٹ کورٹ کے ایک جج کاؤنٹی ایگزیکٹو، ریاستی ایوان، ریاستی سینیٹ بورڈ ارکان، کاؤنٹی شیرف (چیف پولیس آفیسر) کے امیدواروں کے نام اور پارٹی تعلق کی تفصیل الگ الگ بکسوں میں موجود تھی۔ ہر امیدوار کے سامنے بیضوی شکل کے نشان لگے تھے اور اپنی پسند کے امیدوار کے آگے لگے نشان میں پین کی سیاہی بھرنی تھی۔

اسی طرح اعلیٰ اور نچلی سطح کے قوانین کے مسودوں کے مختصر متن کے بھی کچھ بکس تھے۔ آپ نے اس سے ’’اتفاق‘‘ یا ’’اختلاف‘‘ کے نشان کو پُر کرنا تھا۔ کثرت سے حق میں آنے والے ووٹوں کے ذریعے نتیجہ آنے پر وہ اس طرح کے ریفرنڈم سے قانون بن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر مَیں نے ایک ایسے مسودے سے ’’اتفاق‘‘ کیا، جس کے مطابق کوئی بھی شہری جس نے پہلے اپنا ووٹ نہ بنوایا ہو وہ پولنگ سٹیشن پر پہنچ کر چند منٹ میں پہلے رجسٹرڈ ووٹر بن سکے گا اور اسی وقت اپنا ووٹ بھی ڈال سکے گا۔میرے خیال میں اکثریتی رائے اس کے حق میں گئی ہو گی اور یہ قانون بن جائے گا۔

بہرحال مَیں نے دوسرے ووٹرز کی طرح پورے سکون سے بیلٹ پیپر کا ’’امتحانی پرچہ‘‘ حل کیا اور پھر باری آنے پر اپنے ہاتھ سے تینوں گتے نما کاغذوں کو لے جا کر سکیننگ مشینوں میں ڈالا،جس نے اِس کے دونوں اطراف کو سکین کر دیا اور ووٹ دینے کا مرحلہ مکمل ہو گیا، مشین میں بیلٹ پیپر ڈالنے سے پہلے وہاں موجود ایک نوجوان انڈین رضا کار نے دستخط لئے۔ہال سے باہر نکلنے سے قبل ایک اور نوجوان انڈین لڑکے نے ایک سٹیکر مجھے اپنی جیکٹ پر لگانے کو دیا،جس پر درج تھا(مَیں نے ووٹ ڈالا) جو مَیں نے اپنی جیکٹ پر لگا لیا۔

ہماری فیملی کے کل پانچ ووٹ ہیں،جو سرکاری ریکارڈ کے مطابق ڈیمو کریٹک پارٹی کے ارکان ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ہم سب نے پارٹی لائن کے مطابق امیدواروں کو ووٹ دیئے،جہاں پارٹی تعلق درج نہیں تھا، وہاں اپنی مرضی استعمال کی، لیکن پارٹی رکن ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ لازمی طور پر پارٹی ٹکٹ ہولڈرز کو ووٹ دیں، بعد میں نتیجہ آنے پر معلوم ہوا کہ گورنر کے سوا تقریباً تمام نشستوں پر ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدوار جیت گئے۔

واشنگٹن کے نواح میں واقع ہمارا ریاستی علاقہ ’’نیلا‘‘ شمار ہوتا ہے جو ڈیمو کریٹک پارٹی کا رنگ ہے۔ ری پبلکن پارٹی کا رنگ ’’سرخ‘‘ ہے۔ میری لینڈ کی ڈیمو کریٹک کہلانے والی ریاست کے گورنر کے عہدے کے لئے ری پبلکن امیدوار لیری ہوگن منتخب ہوئے، جو ’’سرپرائز‘‘ بھی ہے اور ایک لحاظ سے نہیں بھی۔ اس وقت بھی مسٹر ہوگن گورنر ہیں،جو اپنے پروفیشنل ریکارڈ کی بنا پر بہت مقبول ہیں،اِس لئے انہیں اپنی پارٹی سے باہر دوسری پارٹی کے ووٹ بھی ملتے ہیں۔

انہوں نے ریاست میں بہت اصلاحاتی کام کئے ہیں اور انہیں امیگرنٹس کے بھی بہت ووٹ پڑنے کی توقع تھی،کیونکہ انہوں نے ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے کے باوجود صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کی حمایت نہیں کی۔ بہرحال ووٹنگ ہو گئی،انتخابات کا نتیجہ بھی آ گیا۔ پورے مُلک میں وسط مدتی انتخابات کا مرحلہ مکمل ہو گیا۔ یہ سب کچھ آپ پڑھ چکے ہوں گے۔ مجھے تو بس آپ کو اپنی اور فیملی کی طرف سے فقط یہی بتانا تھا کہ ’’ہم نے بھی ووٹ ڈالا‘‘۔

مزید :

رائے -کالم -