ملکی ترقی میں تارکین وطن کو بھی شامل کیا جائے

ملکی ترقی میں تارکین وطن کو بھی شامل کیا جائے
ملکی ترقی میں تارکین وطن کو بھی شامل کیا جائے

  

میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہمارے تارکین وطن پاکستانی بھائیوں میں بہت زیادہ اعلی تعلیم یافتہ لوگ بھی ہیں اور کئی شعبوں کے ماہر بھی لیکن کسی پاکستانی حکومت نے کبھی ان کو پاکستان بلوا کر ان کی خدمات سے استفادہ کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ جبکہ کوریا، چین اور بھارت کی ترقی میں اہم کردار ان لوگوں کا ہے جنہیں ان ممالک نے اوورسیز سے واپس بلوا کر ان سے استفادہ کیا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں۔( حکام بالا بھی جانتے ہی ہوں گے) کہ برطانیہ اور امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں ایسے اعلی دماغ پاکستانی موجود ہیں جو ان کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ لیکن ہماری حکومتوں کی نظر ان پر نہیں ہے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے چونکہ وہ لوگ ایماندار ہیں۔ اس لیے وطن عزیز کی کمیشن مافیا کے لیے ناقابل قبول ہیں۔ اس کی ایک مثال نادرا کے سابق چیئرمین کی ہے۔ جنہوں نے اپنی محنت اور دیانت سے نادرا کو ایک منافع بخش اور کرپشن سے پاک کامیاب ادارہ بنا دیا۔ لیکن حکومت کو ان کی غیرجانبدارانہ پالیسیوں سے تکلیف پہنچی تو ان کو فارغ کر دیا گیا۔ دوسری مثال کسٹم کے سابق افسر اور پاکستان ٹی وی کے بہترین اداکار اور ہدایت کار عاشر عظیم کی ہے۔ جن کا مشہور زمانہ ڈرامہ سیریل دھواں سب کو یاد ہے۔ وہ اب کینیڈا رہنے پر مجبور ہیں۔ ہمارے ملک میں تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں جن کی تلاش کے لیے ہماری حکومتیں غیر ملکی کمپنیوں کی تلاش میں رہتی ہیں۔ جبکہ پاکستان کے کئی سپوت اس شعبے کے ماہر ہیں اور مختلف ممالک میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔

درجنوں پاکستانی جیالوجی کے شعبے میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد مختلف ممالک کو فائدہ پہنچا رہے ہیں جن میں سے ایک عابد بھلر ہیں۔ جن کا بنیادی تعلق قصور سے ہے اور اب لاہور میں ان کی رہائش ہے اور وہ سعودی عرب کی آرامکو کمپنی کے کسی شعبے کے سربراہ ہیں۔ ان کے علاوہ ہمارے بہت سے پاکستانی اکانومی، طب، بنکاری اور انجینئرنگ کے میدان میں بین الاقوامی سطح پر جانے پہچانے جاتے ہیں۔ اسی طرح یورپ کے بیشتر ممالک کی سیاست میں بھی کئی پاکستانی نمایاں پوزیشز حاصل کر چکے ہیں۔ ان میں ایک مثال ناروے کے پہلے غیر ملکی ممبر پارلیمنٹ کا اعزاز حاصل کرنے والے شہباز طارق کی ہے۔ میں ان پر پہلے بھی ایک مضمون لکھ چکا ہوں۔ شہباز طارق کا بنیادی طور پر تعلق اسلام آباد سے ہے ان کے والدمرحوم وزرات داخلہ میں ایڈیشنل سیکرٹری کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ انہوں نے ساری زندگی ایمانداری سے سروس کی اور اپنی اولاد کو بھی یہی سکھایا۔

شہباز طارق اوائل 70 میں ناروے گئے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے محکمہ سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ اور ساتھ ہی پاکستان کمیونٹی کی بہتری کے لیے ایک تنظیم کے پلیٹ فارم سے کام شروع کیا۔ بعد میں لیبر پارٹی میں شمولیت اختیار کر کے سیاست میں قدم رکھا۔ 16 سال تک یا 4 ٹرم اوسلو سٹی کے ممبر بنتے رہے اور 1999ء میں پہلے غیر ملکی کے طور پر ناروے کی پارلیمنٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔ شہباز طارق نے اپنی اب تک کی زندگی نہایت اعلی اصولوں کے مطابق گزاری ہے اس وقت آپ اوسلو کے ایک حلقے سے ممبر ضلع کونسل اور یونین کونسل کے سربراہ ہیں۔ متذکرہ بالا شخصیات میں سے کئی ایک ایسے بھی ہیں جو بلا معاوضہ پاکستان کی خدمت کے لیے خود کو پیش کر سکتے ہیں۔

بشرطیکہ ان کو آزادانہ کام کرنے دیا جائے۔ میری دانست میں ان لوگوں سے استفادہ نہ کرنے کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم بطور قوم ایک کمزوری میں مبتلا ہیں۔ اور وہ یہ کہ ہم اپنے سے بہتر انسان کی خوبیوں کا اعتراف نہیں کرتے یا بخل سے کام لیتے ہیں۔ اور اسی طرح ہم اپنے سے بہتر بندے کو یہ موقع دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ وہ ملکی ترقی اور عوام کی بہتری کے لیے ہم سے بہتر کردار ادا کر سکے۔ کیونکہ اس طرح ہماری اپنی کارکردگی کی قلعی کھل جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں نفسا نفسی کے عالم میں ہر کوئی دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں مصروف ہے۔ اسی لیے ہم سب اور ہمارا ملک ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ اس کی کئی مثالیں ہم روزانہ دیکھتے ہیں۔ ہر طرف ایک دوسرے کو دھکا دے کر آگے نکلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ عام لوگوں میں رشتہ دار اور دوست اسی کوشش میں رہتے ہیں۔ کہ ہماری پہچان زیادہ ہو، ہمارا مکان بڑا ہو، ہم زیادہ گاڑیوں کے مالک ہوں۔ اور اسی دوڑ میں اپنا سرمایہ ضائع بھی کرتے ہیں۔ جس سے ملکی ترقی رک جاتی ہے۔ بیوروکریسی میں بھی ہر کوئی بددیانتی، سفارش اور چاپلوسی کے ذریعے سے آگے نکلنے کے چکر میں رہتا ہے۔

میرے مشاہدے میں اکثر یہ بات آئی ہے کہ ہمارے بڑے بڑے شاعر، دانشور اور میڈیا سے منسلک لوگ ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔ اور ہر کمہاری اپنے برتن سراہنے کے مصداق اپنی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔ سیاست کے میدان میں بعض اوقات اپنے متحارب کی بجائے اپنی جماعت کے اندر ایک دوسرے کی زیادہ مخالفت کی جاتی ہے۔ اسی طرح روز مرہ کے معاملات میں کوئی بھی کسی کو اپنے سے بہتر ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔

ہمارے معاشرے میں شاید یہ سب سے مشکل کام ہے کہ اپنے سے بہتر دوسرے آدمی کی صلاحیتوں کا اعتراف کر لیا جائے۔ کئی بار ایسا ہوا ہے کہ کئی لوگ اپنے سے بہتر آدمی کی خوشامد کر کے ان کی خدمت کر کے مقام حاصل کرتے ہیں اور پھر انہی کے سر سے گزر کر ان کو فراموش کر دیتے ہیں۔ چہ جائیکہ اس بات کا اعتراف کر لیں کہ مجھے اس مقام تک پہنچانے میں فلاں شخصیت کا ہاتھ ہے۔ ہماری سیاست میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ایسا بھی نہیں کہ ہم کسی کی خوبیوں اور صلاحیتوں کا ادراک نہیں رکھتے۔ ہم جانتے ہیں۔ کہ کون قابل ہے اور کون ہمارے ملک اور معاشرے کے لیے بہتر کردار ادا کر سکتا ہے۔

لیکن جب کوئی اندر سے چھوٹا انسان ہوتا ہے تو وہ یہ برداشت نہیں کر پاتا کہ کوئی اس سے بہتر کہلائے یا اس سے آگے نکل جائے۔ لیکن یہ جان لینا چاہیے کہ تاریخ بولتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتوں سے پھانسی پر تو لٹکایا جا سکتا ہے۔ لیکن مارا نہیں جا سکتا۔سردار خالد ابراہیم کو اقتدار سے دور تو رکھا جا سکتا تھا لیکن ان کے کردار کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ کے ایچ خورشیدکمپرسی کے عالم میں ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں شہید تو ہو سکتے ہیں۔

لیکن تاریخ ان کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ آج کی سیاست کے اجارہ داروں کو یہ سیکھ لینا چاہیے کہ تاریخ اپنا راستہ خود بناتی ہے۔ اگر ہم ملکی ترقی چاہتے ہیں، اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک خوشحال اور پر امن مستقبل دینا چاہتے ہیں۔ تو پھر ہمیں ایمانداری سے باصلاحیت اور باکردار لوگوں کی پہچان کرنا ہوگی۔ اور اپنے ملک کے اندر اور باہر سے اپنے قابل لوگوں کی خدمات حاصل کرنا ہوں گی۔۔ عوام کو بھی اپنے فیصلے ایمانداری اور دیانتداری سے کرنے ہوں گے اور حکام بالا کو بھی خوشامد پسندی اور اقرباپروری سے نکل کر مشکل فیصلے لینے ہوں گے۔ اللہ ہم سب کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق فرمائے۔ آمین ثم آمین

مزید :

رائے -کالم -