سیاست دانوں کو ایشو اور نان ایشو کا فرق جاننا چاہئے

سیاست دانوں کو ایشو اور نان ایشو کا فرق جاننا چاہئے
سیاست دانوں کو ایشو اور نان ایشو کا فرق جاننا چاہئے

  

حزب اختلاف کے اس الزام کی کہ قومی احتساب بیورو اور حکومت آپس میں ملے ہوئے ہیں، بعض اوقات حکومت کے وزراء کے بیانات تصدیق کرتے نظر آتے ہیں۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے اس بیان کو کہ سندھ کی بڑی سیاسی شخصیت جلد گرفتار ہو جائے گی ، کس پیرائے میں دیکھاجائے۔ کیا وفاقی وزیر نیب کے ترجمان ہیں یا مقدمہ میں تحقیقاتی افسر ہیں کہ انہیں علم ہے کہ کون کب گرفتار ہو جائے گا۔ وہ ایک تجربہ کار سیاسی کارکن ہیں، کئی جمہوری اور غیر جمہوری حکومتوں کا حصہ رہے ہیں۔ انہیں تو ایسے بیانات سے احتراز کرنا چاہئے لیکن کیا کیا جائے شیخ صاحب کو ضرورت سے زیادہ بولنے کی ہوس ہے۔

ہر غیر ضروری اور ان سے غیر متعلقہ موضوع پر گفتگو کرنے کا بھی انہیں شوق ہے۔ ٹی وی چینل پر کسی نہ کسی بہانے پیش ہونے یا اپنے ذکر کا یہ شوق کبھی انہیں مہنگا بھی پڑسکتا ہے۔ اگر وہ محسوس کرتے ہوں تو انہیں علم ہوگا کہ جلسہ عام میں قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کے اعلان پر عمل نہ کرکے انہوں نے اپنی سیاسی ساکھ کو نقصان ہی پہنچایا تھا۔ سیاست دان کے الفاظ اور طور طریقے ہی تو اسے معاشرے کا ماڈل کردار بناتے ہیں لیکن پاکستان میں تو ہر چیز ہی بازاری ہوگئی ہے۔ سیاست اس سے کیوں کر محفوظ رہ سکتی ہے۔ دوسری طرف سندھ کے ایک صوبائی وزیر منظور وسان ہیں جنہیں بہت خواب آتے ہیں اور وہ ان کا سر عام تذکرہ کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں۔

ان خوابوں کے تذکرے کی وجہ سے وہ اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ انہوں نے خواب دیکھا، ان کے خواب کا تذکرہ آصف زرداری نے ان کے ہی ذکر کے ساتھ کیا کہ منظور وسان کہتے ہیں کہ موجودہ وفاقی حکومت اپنی مدت پوری نہیں کر سکے گی۔ وفاقی اور صوبائی وزراء کے درمیاں الفاظ کی یہ بے تکی جنگ نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ لیکن کیا کیا جائے۔ شیخ رشید ہوں یا منظور وسان، دونوں ہی کئی کئی بار وزیر رہ چکے ہیں اور ابھی بھی ہیں۔ لگتا ہے کہ حکومتوں کی تشکیل کے بعد منتخب ہونے والے افراد کی باقاعدہ تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ انہیں آئین پاکستان یاد کرایا جائے ، انہیں یہ بتانا ضروری ہے کہ ان کی ذمہ داری قانون سازی سے زیادہ کچھ اور نہیں۔ انتظامی معالات میں انہیں کسی طور بھی مداخلت کا اختیار نہیں۔ انہیں کم از کم یہ پڑھانا ضروری ہے کہ کیا بولنا چاہئے، کس وقت بولنا چاہئے، ایوانوں میں دوران اجلاس کس قسم کے رویہ کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ جب اور جہاں مائیک دیکھا، بچوں کی طرح مچل گئے اور جو منہ میں آیا، ذکر کر دیا۔

ان سیاستدانوں کا یہ تماشا اپنی جگہ لیکن انہیں تو یہ بھی نہیں علم کہ انہیں کیا استحقاق حاصل ہیں۔ کوئی بات ہوئی، اپنے ایوان میں تحریک استحقاق پیش کردی ۔ نیب لاہور کے ڈائریکٹر جنرل شہزاد سلیم ایک ٹی چینل پر انٹر ویو کے لئے پیش ہوئے۔ اس پر بھی تحریک استحقاق پیش کر دی گئی۔ اس سے کسی رکن کا استحقاق کیوں کر مجروح ہوا۔ بدعنوانیوں اور سرکاری اختیارات سے تجاوز کرنے کے معاملات زیر تفتیش ہیں، ان کا تو ذکر ہوگا۔

البتہ یہ عمل معمول سے ہٹ کر اس لئے محسوس ہوا کہ نیب کے ذمہ دار افسران اس قسم کے انٹرویو دینے سے احتیاط برتتے ہیں۔ سندھ کے سابق ڈی جی الطاف باوانی کچہری لگانے اور عوامی شعور کے پروگرام کرنے کے لئے مشہور تھے لیکن وہ ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ، خاصے محتاط ہوا کرتے تھے ۔ شہزاد سلیم نے ن لیگ کے صدر شہباز شریف کے خلاف زیر تفتیش مقدمات پر رائے زنی کی۔ عین ممکن ہے کہ ان کی معلومات درست ہوں لیکن جب تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آجاتا، رائے زنی کیا معنی رکھتی ہے۔ اسی طرح سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے خلاف پیرا گان میں زمینوں کے معاملات پر زیر تفتیش مقدمہ میں شہزاد سلیم نے کہا کہ کئی شواہد خواجہ سعد رفیق کے خلاف ہیں۔ نیب کے تلاش کئے ہوئے شواہد کو جب تک عدالت تسلیم نہ کرلے اور کوئی فیصلہ صادر نہ کر دے ، اس کا اس طرح سر عام ذکر کیوں کیا گیا۔ شہزاد سلیم کے انٹر ویو کی حیثیت کے بارے میں نیب کو سرکاری طور پر وضاحت کرنا چاہئے کہ کیا شہزاد سلیم کا بیان نیب کا موقف ہے یا نہیں۔ شہزاد سلیم کے اس انٹر ویو کے بعد یہ بھی خبریں شائع ہوئی ہیں کہ ان کے خلاف تعلیم کی جعلی ڈگری رکھنے کا کوئی معاملہ زیر تفتیش ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا شہزاد سلیم کو ان کے ادارے نے اختیار دیا تھا کہ وہ بیک وقت کئی چینلوں پر اس طرح کی گفتگو کریں۔ ان کے اس عمل سے دوسرے ٹی وی چینلوں کا استحقاق مجروح نہیں ہوا ہوگا۔ نیب ایک ایسا ادارہ ہے جس پر ہر طرف سے نظریں لگی ہوئی ہیں۔ جن افراد کے خلاف مقدمات کی تفتیش جاری ہے ، ان کے حامی خواہش رکھتے ہیں کہ انہیں دوران تفتیش ہی پاک صاف قرار دیا جائے ۔ مخالفین کی خواہش ہوتی ہے کہ انہیں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جاے جہاں سے انہیں سزا مل جائے۔ نیب دونوں صورتوں میں تنقید کا ہی شکار رہتی ہے۔ ممکن ہے کہ شہزاد سلیم کو اسی وجہ سے ٹی وی چینلوں پر پیش ہونے کہ اجازت ملی ہو۔ نیب کو باقاعدہ ہر پندرہ یا تیس روز بعد ایک ایسی پریس کانفرنس منعقد کرنا چاہئے جس میں ادارے کی کارکردگی اور زیر تفتیش مقدمات میں پیش رفت بتائی جائے یا بیان کی جائے اور ذرائع ابلاغ کے نما ئندوں کے سوالات کے جواب دئے جائیں۔ اس طرح اس قسم کی قیاس آرائیوں کہ سندھ کی بڑی سیاسی شخصیت کی عنقریب گرفتاری متوقع ہے۔ نیب کو یہ واضح اعلان بھی کرنا چاہئے کہ کوئی بھی سیاست داں ، ذرائع ابلاغ کے نمائندہ کسی طرح بھی زیر تفتیش معاملات پر رائے زنی سے احتیاط برتیں ۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر فیصل ووڈا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی عیادت کرنے پہنچ گئے ۔ سپریم کورٹ اور بذات خود چیف جسٹس جس طرح کے کئی حساس مقدمات کی سماعت میں مصروف ہیں، کسی سیاست داں اور وہ بھی وفاقی وزیر کا چیف جسٹس کی عیادت کیا معنی رکھتی ہے۔ خواہش کتنی ہی نیک ہو لیکن موجودہ وقت اس بات کی اجازت نہیں دیتا ورنہ حزب اختلاف کے اس الزام کو عام لوگ کیوں نہ درست سمجھیں کہ سپریم کورٹ بھی حکومت سے ملی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس ملاقات کی تصاویر شا ئع ہوئی ہیں۔ کیا ان تصاویر کی اشاعت کا اہتمام وفاقی وزیر نے کیا ؟ ویسے بھی سپریم کورٹ میں ججوں کے تبصرے ذرائع ابلاغ کی زینت بنتے رہتے ہیں حالانکہ ان تبصروں کی کوئی قانونی حیثیت اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک وہ فیصلوں کا حصہ نہ بن جائیں۔

جان کی امان پاؤں اور توہین عدالت کا مرتکب نہ ہوں تو عرض کروں کہ جناب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو بھی وفاقی وزیر فیصل ووڈا سے ملاقات سے احتراز کیوں نہیں کرنا چاہئے تھا ۔ سوشل میڈیا پر تو پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی اور وفاقی وزیر کے درمیاں ہونے والے گفتگو بھی منظر عام پر آئی جہاں سے ذرائع ابلاغ نے اسے اپنی خبروں کا حصہ بنایا۔ یہ گفتگو تین افراد کے درمیاں ہو رہی تھی ۔ ان تین افراد میں سے ہی کسی نے اسے سوشل میڈیا پر نمودار کیا۔ وہ گفتگو اسپیکر یا وفاقی وزیر کی رضا مندی کے بغیر کیوں کر شائع ہوسکتی تھی۔ اگر پنجاب کے گورنر چودھری سرور وزیراعلی عثمان بزدار کے کاموں میں مداخلت کرتے ہیں تو اسپیکر کو شکایت کیوں ہوئی ، یہ شکایت تو وزیر اعلی کو ہونا چاہئے کہ گورنر ان کے جوتے میں اپنا پاؤں ڈال رہے ہیں۔ یہاں سب لوگوں کو اختیارات استعمال کرنے کی بڑی خواہش ہے اور چودھری سرور تو برطانیہ میں اپنی شہریت چھوڑ کر ہی اسی لئے پاکستان کی سیاست میں داخل ہوئے کہ انہیں اختیار ات چاہئیں ،لیکن آئین پاکستان کسی گورنر کو انتظامی اختیارات نہیں دیتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -