اردو پرنٹ میڈیا کی محدودات!

اردو پرنٹ میڈیا کی محدودات!
اردو پرنٹ میڈیا کی محدودات!

  

پاکستان میں ویسے تو صوبائی سطح پر بھی کئی اخبارات صوبائی زبانوں میں شائع ہوتے ہیں لیکن چونکہ ملک کی سرکاری اور قومی زبانیں انگلش اور اردو ہیں اس لئے ان زبانوں میں شائع ہونے والے روزناموں کا سٹیٹس، ملک گیر ہے۔ انگریزی زبان کے اخبارات کو یہ برتری (Edge) بھی حاصل ہے کہ ان کے ذریعے غیر ممالک میں بسنے والے ان لوگوں کو بھی پاکستانی حالات و واقعات سے آگاہی ہو جاتی ہے جو انٹرنیٹ پر جا کر یہ معلوماتی مواد دیکھ اور پڑھ لیتے ہیں۔

پاکستان کے لاکھوں تارکینِ وطن کی تیسری نسل اب جوان ہو چکی ہے اور وہ اردو زبان کی بول چال سے تو کچھ واقف ہے لیکن اردو کی کوئی تحریر پڑھنا ان کے بس میں نہیں۔ جن ممالک میں پاکستانیوں کی کثیر آبادیاں جا کر مستقلاً آباد ہو گئی ہیں، وہاں کے سکولوں میں اردو زبان کی تدریس نہیں کی جاتی۔ لہٰذا ان تارکینِ وطن کی اگر تیسری نسل بھی کسی وسیلہء ابلاغ سے اپنے آبائی ملک کے بارے میں کوئی معلومات رکھتی ہے تو وہ انگریزی زبان کے اخبارات و رسائل ہیں۔

لیکن فرض کیجئے اگر میں پاکستانی ہوں اور 50سال قبل امریکہ میں جا بسا تھا اور میرے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں وہیں کی پیداوار ہیں اور وہ اپنے آباؤ اجداد کے وطن کے بارے میں کچھ جاننا چاہتی ہیں تو ان کو پاکستان کے سیاسی حالات سے کچھ نہ کچھ آگہی تو شائد مل سکتی ہے لیکن سیاست کے علاوہ اور بھی تو بہت سے پہلو ایسے ہوتے ہیں جو سیاست سے بھی زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کی جانکاری کے ذرائع کون سے ہوں گے؟۔۔۔ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے پرنٹ میڈیا نے اس اہم پہلو کی طرف کوئی زیادہ توجہ نہیں دی۔ یورپ اور امریکہ میں بسنے والوں کے لئے اردو زبان میں وہاں سے کئی روزنامے ضرور نکلتے ہیں۔ لیکن ان کا مواد بھی یا تو پاکستان سے تیار ہو کر وہاں بھیجا جاتا ہے یا وہ باسی ہوتا ہے،تازہ نہیں۔ اور اگر خبر باسی ہو جائے تو وہ خبر نہیں کہلاتی!۔۔۔ چنانچہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو صرف ہمارا الیکٹرانک میڈیا ہی رئیل ٹائم میں کچھ نہ کچھ خبردار رکھتا ہے۔ لیکن پاکستان کا میڈیا الیکٹرانک ہو یا پرنٹ، دونوں کا غالب فوکس ’’ملکی سیاسیات‘‘ پر ہی مرکوز ہوتا ہے۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ برسوں سے پاکستانی معاشرہ دو حصوں میں تقسیم ہے۔ مارشل لاء لگتا ہے تو معاشرہ اینٹی مارشل لاء اور پرو مارشل لاء کلبوں میں منقسم ہو جاتا ہے۔ اور اگر سویلین دور آتا ہے تو ہماری سوسائٹی ملک کی دومین سٹریم پارٹیوں میں بٹ جاتی ہے۔ کبھی نون لیگ، کبھی پی پی پی۔۔۔ ہم نے تو گزشتہ 72برسوں میں مارشل لاء، مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی ہی کو باریاں لیتے دیکھا ہے۔ اب تحریک انصاف آئی ہے تو یہ ایک نیا اور چوتھا عنصر ہے اسی کو ابھی 72روز ہوئے ہیں۔لیکن جو کلچر72 برس تک ایک ہی دھّرے پر گھومتا رہا وہ اب 72دنوں میں ایک نیا مدار (Orbit)تو نہیں بنا سکتا۔۔۔ اسے کچھ وقت چاہیے۔۔۔ میرے خیال میں اس کے لئے کم از کم 3،4برس تو ضرور درکار ہوں گے۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ پرانے پاکستان اور نئے پاکستان کے افسانوں اور حقیقتوں میں بُعد المشرقین پایا جاتا ہے۔۔۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ شائد یہ فاصلہ فطری بات ہے!

ہمارا پرنٹ میڈیا خواہ انگریزی کا ہو یا اردو کا، اس کا سارا زور ہمارے سیاسی حالات کی تصویر کشی پر ہوتا ہے۔ ہمارے اخبارات کے پہلے اور آخری صفحات جو ’’پرائم ٹائم‘‘ کی طرح اہم ہوتے ہیں ان میں گزشتہ روز کے سیاسی حالات تحریری صورت میں پڑھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن ملک کا ایک کثیر طبقہ ان حالات کو گزشتہ شب بار بار سن سن کر گویا ’’حفظ‘‘ کر چکا ہوتا ہے۔اس لئے اگلی صبح جب اس کی آنکھ کھلتی ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ ہمارے قومی اخبارات وہی گزرے کل کا آموختہ دہرا رہے ہوتے ہیں تو ان کی ’’سرخوشی‘‘ دیدنی ہوتی ہے!

میرے خیال میں انسانی فطرت اس کے علی الرغم ہر لحظہ کوئی نئی بات مانگتی ہے، کوئی نیا موضوع ڈھونڈتی ہے اور کسی نئے دریچے کے کھلنے کی منتظر رہتی ہے۔۔۔ لیکن جب ایسا نہیں ہوتا تو یہ انسانی فطرت یا تو مایوس ہونے لگتی ہے یا آمادۂ بغاوت ہونے کا رجحان پالنے لگتی ہے۔

ہمارے اخبارات کے دونوں بیرونی صفحات پر ملکی خبروں کا ہجوم ہوتا ہے۔ اندرونی دو صفحات میں ’’بقیہ جات‘‘ بھرے ہوتے ہیں، ایک یا دو صفحے ’’ادارتی‘‘ بھی کہلاتے ہیں،جن میں سیاسی کالموں کا مواد وہی ہوتا ہے جو اخبار کے اول و آخر صفحات میں شائع ہوتا ہے۔ ایک دو صفحے سپیشل ایڈیشنوں کے لئے مختص ہوتے ہیں، ایک دو شوبز کی نذر کئے جاتے ہیں اور ایک دو میٹروپولیٹن خبروں کے لئے ہوتے ہیں یعنی جہاں سے اخبار شائع ہوتا ہے(لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، پشاوراور کراچی وغیرہ) وہاں کی مقامی خبریں ہوتی ہیں جن میں یا تو دال چپاتی اور گھوڑے ہاتھی کے تذکرے ہوتے ہیں یا کسی سنگی ساتھی کی حیران کن خبریں چھاپ کر خوشی محمد ناظر کی یادگار نظم ’’جوگی‘‘ کی یاد تازہ کر دی جاتی ہے۔۔۔ بس!

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا سارا پرنٹ میڈیا لوکل سیاسیات سے ہی مزین ہوتا ہے۔ ایسے میں گلوبل خبروں کا ذکر کون کرتا ہے؟۔۔۔ اگر کسی پاکستانی نے ’گلوبل خبروں‘ کی سن گن پانی بھی ہے تو اس کے لئے ہمارے اخبار کا وہ کونا مختص ہوتا ہے جس کا عنوان ’’ذرا ہٹ کے‘‘ رکھا ہوتا ہے۔ بلاشبہ اس میں حیرت انگیز غیر ملکی اور بین الاقوامی خبروں کی جگالی کی ہوتی ہے لیکن کوئی قاری اگر کسی قسم کا سنجیدہ مواد پڑھنے کو مانگے تو اسے کسی اور در پر جا کر مانگنا پڑے گا۔۔۔ یہی وہ موضوع اور معاملہ ہے جس کی طرف میں قارئین کی توجہ مبذول کروانی چاہتا ہوں۔

ترقی یافتہ ممالک میں بھی مقامی (اور صوبائی) سطح کے بے شمار اخبار شائع ہوتے ہیں۔۔۔ مثلاً امریکہ کی اگر 50ریاستیں ہیں تو بلامبالغہ ہر ریاست سے دو درجن سے زیادہ ایسے روزنامے شائع ہوتے ہیں جو ریاست کی مقامی خبروں سے مزین ہوتے ہیں۔۔۔ ان کے دوپہر اور شام کے ایڈیشن ان پر مستزاد ہوتے ہیں۔۔۔ یہ سارے کے سارے انٹرنیٹ پر بھی ہوتے ہیں ۔۔۔ یہ مواد صرف اسی ریاست کے لوگ ہی پڑھتے اور ’’حظ‘‘ اٹھاتے ہیں۔

ان صوبوں یا ریاستوں کے شہری اگر ملکی خبروں سے واقف ہونا چاہتے ہیں تو مین سٹریم پرنٹ میڈیا کا رخ کرتے ہیں۔۔۔ یہی وہ مین سٹریم پرنٹ میڈیا ہے جو ہمارے پاکستان سمیت دوسرے تمام ممالک کو غیر ملکی سیاسیات، اہم حالات، سماجیات، ثقافت، کاروبار، صحت، تعلیم اور شوبز وغیرہ سے باخبر رکھتا ہے۔یہی موضوعات کسی نہ کسی سکیل پر ہمارے ہاں بھی شائع ہوتے ہیں۔ اگر فرق ہے تو یہی کہ غیر ملکی پرنٹ میڈیا غیر سیاسی موضوعات پر جو خبریں اور تبصرے شائع کرتا ہے وہ حد درجہ دلچسپ، معلومات افزاء اور نئے نئے افکار سے آراستہ ہوتے ہیں اور پڑھنے والے سے از بس انہماک و استغراق کا تقاضا کرتے ہیں۔۔۔ جبکہ ہمارے ہاں اس ’’مواد‘‘ کا قحط ہے!

ہمارے پرنٹ میڈیا میں جو عملہ ’’فارن ڈیسک‘‘ کی مانیٹرنگ پر متعین ہوتا ہے وہ پاکستانی قارئین سے انصاف نہیں کرتا۔ صرف وہی خبریں سلیکٹ کرتا ہے جو سرسری، علاقائی یا مقامی سطح کی ہوتی ہیں۔۔۔ میرے نزدیک اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ عملہ خود اتنا صاحبِ علم و فن نہیں ہوتا کہ کسی بین الاقوامی سطح کی اہمیت والا موصول شدہ انگریزی مواد انتخاب کرکے اسے اردو میں ترجمہ کر دے۔۔۔ دوسری وجہ مالکان کی طرف سے اس ذیل میں تقاضوں کا فقدان بھی ہو سکتا ہے۔ انگریزی زبان کے میڈیا کو یہ آسانی حاصل ہے کہ وہ کسی ’’وصول شدہ خبر‘‘ کو نیٹ سے اٹھا کر یا کسی بھی خبر رساں ایجنسی (AFP،Reuter،BBC،CNN،RT،GGTN وغیرہ) سے لے کر جوں کا توں متعین کردہ صفحات میں لگا دیتا ہے۔

اکثر قارئین جانتے ہیں کہ غیر ملکی مبصرین، کالم نگار اور تجزیہ کرنے والوں کا ایک بین الاقوامی پینل ہے جن کے کالم روزانہ انگریزی میڈیا پر آتے ہیں۔ ان میں بعض بڑے معلوماتی اور پُرمغز ہوتے ہیں۔ بعض کا تعلق جنوبی ایشیا کے ہمارے خطے سے بھی ہوتا ہے۔ بعض کے مقصودات (Objectives) ہمارے اپنے پاکستانی اور حکومتی مقصودات کے عین مطابق ہوتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ان کو اردو میں ترجمہ کرنے کے لئے ہمارے ہاں ایسے مترجمین کا بھی ایک پینل ہونا چاہیے جو ان کا ترجمہ کرکے اگلے روز اردو اخباروں کو دے دے۔۔۔ یہ کوئی ایسا مشکل کام نہیں لیکن چونکہ مالکان کے لئے فوری طور پر نفع بخش نہیں،اس لئے اس پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ اگر کوئی سر پھرا مترجم اس کا ترجمہ کرکے کسی اخبار کو دیتا بھی ہے تو اس میں کافی تاخیر ہو جاتی ہے۔۔۔ کس کس کی مثال دوں!۔۔۔

ابھی حال ہی میں ماسکو میں جو کانفرنس ہوئی ہے اور جس میں طالبان بھی شریک تھے اور جو ناکام ہو چکی ہے اور جس میں طالبان نے یہ کہا ہے کہ وہ کابل سے براہ راست بات نہیں کریں گے تو اس موضوع پر جتنے بھی تبصراتی کالم آ رہے ہیں وہ بہت وقیع (Valuable) ہیں۔ لیکن ان کو اردو میں ترجمہ کرنا اور اردو اخباروں میں شائع کرنا کارے وارد ہے۔۔۔۔اس لئے ایسا کون کرے؟

میں نے جب سے اخبار بینی شروع کی ہے اردو اخباروں کی اس محدودیت کو شدت سے محسوس کرتا آیا ہوں اور جوں جوں وقت آگے بڑھ رہا ہے یہ شدت، تیز تر ہوتی جا رہی ہے۔آج کا قاری خبر اور تبصرے (News and Views) کا بھوکا ہے۔ یہ بھوک بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں کہ اس بڑھتی ہوئی بھوک کے کیا کیا مظاہر منظر عام پر آ رہے ہیں۔ یہی وہ موضوع ہے جو ’’موت کے کنویں‘‘ کی طرح تیزی سے گردش کناں تو ہے لیکن نہ تو کنویں کا محیط وسیع ہوتا ہے اور نہ کوئی بندہ ء خدا اس کھیل کو بند کرکے اس کے کسی ایسے ورشن (Version) کو برسرعام لاتا ہے جو جدید اقوام کا طرۂ امتیاز ہے!

مزید :

رائے -کالم -