احمد پور شرقیہ ، قبضہ مافیا نے اربوں کی اراضی ہتھیالی ، جنرل بس سٹینڈ یرغمال

احمد پور شرقیہ ، قبضہ مافیا نے اربوں کی اراضی ہتھیالی ، جنرل بس سٹینڈ یرغمال

  

احمدپورشرقیہ (تحصیل رپورٹر )احمدپورشرقیہ جنرل بس اسٹینڈ ناجائز قابضین سکینڈل ۔جہاں پر35ناجائز قابضین نے بڑے بڑے پلازے، ورکشاپ، سٹور اور محل نما گھر بنا رکھے ہیں ۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق چوہدری سردار احمد ممبر مرکزی کونسل پاکستان مسلم لیگ نے ایک درخواست جناب چیف جسٹس آف پاکستان اسلام آباد۔ وزیر اعلیٰ پنجاب۔ ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب۔ ڈائریکٹر جنرل نیب پنجاب۔ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے پنجاب ۔ چیف سیکریٹری پنجاب اور کمشنر بہاولپور کو دی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جنرل بس اسٹینڈ کی جگہ ریکارڈ کے مطابق 41 کنال ہے(بقیہ نمبر59صفحہ7پر )

جبکہ اس وقت جنرل بس اسٹینڈ صرف 10 کنال پر مشتمل ہے۔ بقیہ 31 کنال پر 35 ناجائز قابضین نے قبضہ کررکھا ہے۔ جنہوں نے قبضہ کرکے بہت بڑے بڑے پلازے، ورکشاپ ، دوکانات اور محل نما گھر بنا رکھے ہیں۔ جس میں سب سے بڑا قابض گل جان عرف عبدالجان ولد دین محمد ہے۔ اس نے 3کنال پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ 30 عدد دوکانیں بنائی ہوئی ہیں۔ ان میں سے کچھ دکانیں فی دوکان ایک کروڑ روپے سے زیادہ میں فروخت کردی ہیں۔ اس کے پاس کوئی ملکیت ثبوت نہ ہے۔ بہت بااثر آدمی ہے۔ دھڑلے سے قبضہ کررکھا ہے ۔ اس کے بعد محمد اصغر ولد عبدالخالق کھوکھر نے ایک کنال پر قبضہ کررکھا ہے اور اس نے ایک عدد پلازہ بنایا ہوا ہے جس میں درجنوں قیمتی دوکانیں ہیں۔ محمد اسحاق ولد نظام الدین آرائیں نے ڈیڑھ کنال پر قبضہ کررکھا ہے اس نے بھی دوکانیں ،ورکشاپس بنا رکھی ہیں۔ سردار احمد ولد نظام الدین نے دوکانیں بنائی ہوئی ہیں۔ رشید احمد ولد محمد مراد نے ایک کنال پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اس نے محل نما گھر بنا رکھا ہے جو کروڑوں روپے مالیت کا ہے۔ شیخ محمد سلیم ولد شیخ علاؤالدین نے دوکانیں بنا رکھی ہیں۔ محمد رفیق ولد محمد شفیع 2 عدد قیمتی دکانیں بنارکھی ہیں۔ عبدالغنی ولد عبدالرحیم نے 3 عدد دوکانیں بنا رکھی ہیں۔ محمد عاشق ولد فیض محمد نے ایک عدد محل نما گھر اور 10 عدد قیمتی دکانیں بنا رکھی ہیں۔ امام بخش ولد محمد بخش نے 2 عدد دکانیں بنا رکھی ہیں۔ منظور حسین ولد اللہ وسایا نے 2 عدد ڈبل دوکانیں بنا رکھی ہیں۔ حاجی محمد یونس ولد محمد حبیب نے 3 عدد ڈبل دکانیں اور 2 عدد بہت بڑے بڑے سٹور بنائے ہوئے ہیں۔ عبدالحق ولد جام جمعہ نے 30 مرلے پر قبضہ کیا ہوا ہے جس میں 2 عدد بڑی دکانیں اور ایک عدد ورکشاپ اور بہترین محل نما بڑاگھر بنا رکھا ہے۔ عبدالقدوس ولد محمد صادق ہاشمی نے 10 مرلوں پر ناجائز قبضہ کرکے بہترین گھر بنایا ہوا ہے۔ سراج احمد ولد اللہ ڈتہ نے 10 مرلے پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے۔ جس پر بڑی ورکشاپ بنائی ہوئی ہے۔ محمد صدیق ولد اللہ ڈتہ نے 10مرلے پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ جس پر 2 عدد بہترین گھر بنائے ہوئے ہیں۔ کریم بخش ولد اللہ ڈتہ نے 15 مرلے پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ جس پر 10 عدد قیمتی دوکانیں اور گھر بنایا ہوا ہے۔ نذیر احمد ولد عظیم بخش نے 5 مرلے پر قبضہ کرکے گھر بنا رکھا ہے۔ بخت علی ولد محمد بخش نے 11مرلے پر قبضہ کرکے 4 عدد دکانیں اور گھر بنایا ہوا ہے۔ راشد جبرائیل ولد نور محمد بھٹی نے 5 مرلے پر ناجائز قبضہ کرکے رہائشی گھر بنایا ہوا ہے۔ غلام حسین نے ایک کنال پر قبضہ کرکے 4 عدد گھر بنا رکھے ہیں۔ طار ق کریم ولد ملک کریم بخش نے ایک کنال پر قبضہ کرکے ایک ڈیرہ اور10 عدد دکانیں اور ایک عدد گھر بنارکھا ہے۔ عبدالرحمن ولد غلام سرور نے 5 مرلے پر ناجائز قبضہ کرکے گھر بنایا ہوا ہے۔ محمد اکبر ولد محمد رمضان نے 9مرلے پر قبضہ کرکے سٹور اور ایک عدد دوکان بنا رکھی ہے۔ قادر بخش ولد اللہ ڈتہ نے 10 مرلے پر قیمتی گھر بنایا ہوا ہے۔ محمد عاشق نے 15 مرلے پر دوکانیں اور گھر بنا رکھا ہے عبدالشکور نے 8 مرلے پر قبضہ کرکے مکان بنایا ہوا ہے۔ مولوی محمد رمضان کوہاڑا نے قبضہ کرکے گھر بنایا ہوا ہے۔ یہ تمام ناجائز قابضین بہت بااثر ہیں۔کسی بھی صورت میں یہ ناجائز قابضین قبضہ چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ماضی کی حکومتیں کوشش کرتی رہیں ہیں مگر ناکام رہی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 200 سے زیادہ قیمتی دوکانیں، پلازے ، گھر اور ورکشاپس ہیں جن کی مالیت 50 ارب روپے سے زیادہ بنتی ہے۔ واگذار کرانے کی ضرورت ہے۔ ان میں سب سے بڑا قبضہ مافیا کا سرغنہ گل جان۔ محمد اصغر۔ محمد اسحاق۔ غلام شبیر۔ عبدالحق ہیں کسی کے پاس بھی کوئی ثبوت ملکیت نہیں ہے۔ موجودہ حکومت نے ناجائز قابضین کے خلاف کاروائی کرنے اور جگہ واگزار کرانے کا تہیہ کررکھا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ جنرل بس اسٹینڈ کے ناجائز قابضین کو فوری بے دخل کرکے جگہ واگزار کرائی جائے اس موقع پر چوہدری سردار احمد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ مال کے ریکارڈ کے مطابق تقریباً31 کنال پر ناجائز قابضین نے قبضہ کررکھا ہے۔ میں نے سابقہ ادوار میں بھی کوشش کی ہے کہ ناجائز قابضین کو بے دخل کرکے جگہ واگزار کرائی جائے مگر بااثر لوگ اور سیاست آڑے آگئی جس کی وجہ سے قبضہ مافیا کے خلا ف کاروائی نہ ہوسکی۔ اب میں نے ایک بار پھر اعلیٰ حکام اور متعلقہ اتھارٹی کو بذریعہ درخواست ان ناجائز قابضین کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ میں اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹوں گا جب تک یہ اربوں روپے کی قیمتی جگہ ناجائز قابضین سے واگزار نہ کرالوں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پورے پاکستان میں ناجائز قابضین کے خلاف کاروائی کاآغاز کردیا ہے اس کے اثرات احمدپورشرقیہ میں بھی ہونے چاہیں۔ فوری طور پر ان بااثر ناجائز قابضین کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتا ہوں تاکہ اربوں روپے کی جائیداد ناجائز قابضین سے واگزار ہوسکے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -