جامپور ‘ محکمہ تعلیم میں جعلی بھرتی سکینڈل ‘ انکوائری سست روی کا شکار ‘ ٹیچرز نتظیمیں خاموش

جامپور ‘ محکمہ تعلیم میں جعلی بھرتی سکینڈل ‘ انکوائری سست روی کا شکار ‘ ...

  

جام پور (نامہ نگار) محکمہ تعلیم راجن پور میں جعلی بھرتیوں کے سکینڈل کیس کی انکوائری سست روی کا شکار۔تفصیل کے مطابق دو ماہ قبل محکمہ تعلیم میں ڈی ای او زنانہ کے دفتر میں جعلی طریقہ سے بھرتیوں کا انکشاف ہو ا جس پر میڈیا نے تمام حقائق سے پردہ چاک کیا تو انتظامیہ حرکت میں آگئی ۔ ڈی ای او افس میں تعنیات فراڈ کے مرکزی کردار کے مالک کلرک ذیشان بھی فرار ہو گیا۔ سابق ڈپٹی کمشنر راجن(بقیہ نمبر47صفحہ12پر )

پور اللہ ڈتہ وڑائچ نے ڈی ایم او اسد علی کو انکوری افسر مقرر کیا جنہوں نے انکوری شروع کی تو مزید دوکیس سامنے آگئے ۔ اسی طرح سی ای او ایجوکیشن افسر راجن پور چوہدری مقبول خان گجر نے سنےئر ہیڈماسٹر چوہدری نور احمد کی سربرائی میں تین رکنی کمیٹی بنائی۔ ایک ماہ کا عرصہ گزرجانے کے باوجودانکوری کمیٹی نے تاحال کوئی پیش رفت نہ کی۔ ملنے والی اطلاعات کے مطابق راجن پور سے ایک ضلع افسر اور دیگر اس معاملہ کو ختم کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ ۔ صرف کاغذوں میں چکر چلاکرکے سب ٹھیک کر دیا جائے گا۔ کنونیر انکوائری کمیٹی نے رابطہ پر بتایا کہ محکمہ خزانہ ریکارڈ ٖفراہم کرنے میں تعاون نہیں کر رہا ہے۔ کئی بار ریکارڈ کا مطالبہ کیا لیکن ریکارڈ دینے سے انکاری ہیں تاہم سی ای او کو تمام تر صورت حال سے اگاہ کر دیا ہے۔ سی ای او ایجوکیشن افسر راجن پور چوہدری مقبول خان گجر نے ڈسٹرکٹ اکاونٹس افسر کو ریکارڈ فراہم کرنا اور کمیٹی سے تعاون کرنے کا مراسلہ جاری کر دیا ہے۔ تاہم فی حال کوئی پیش رفت نہ ہوئی ہے۔ شہریوں نزر حسین ۔ خادم حسین نے کہا کہ اتنے بڑے سیکنڈل کو صر ف کاغذوں میں ختم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلی پنجاب اور کمشنر ڈیرہ۔ اور ڈپٹی کمشنر راجنپور عطاء اللہ خان بلوچ سے ذمہ دارن کا تعین کرکے سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری طرف اساتذہ کے حقوق کی حفاظت کا بیڑا اٹھانے والی ٹیچرز یونین کی تنظیموں کی خاموشی بھی ایک سوالیہ نشان ہے؟

انکوائری

مزید :

ملتان صفحہ آخر -