غیر قانونی کارخانے ، مضر صحت اشیاء کی تیاری،ملتان غلہ منڈی جعلسازی کا گڑھ

غیر قانونی کارخانے ، مضر صحت اشیاء کی تیاری،ملتان غلہ منڈی جعلسازی کا گڑھ

  

ملتان ( نیوز رپورٹر ) ملتان غلہ منڈی غیر قانونی مینوفیکچرنگ ‘ تجاوزات ‘ جعلی و غیر رجسٹرڈ اشیائے خورد و نوش اور گندگی کے انبار اور لاقانونیت کا شکار ہو کر رہ گئی ہے ‘ پچھلے دس سالوں یے غلہ منڈی میں قبضہ مافیا کے خاتمے اور(بقیہ نمبر21صفحہ12پر )

غلہ منڈی کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنے کے دعوے تو کیے جاتے رہے ہیں لیکن انتظامیہ کے یہ دعوے سیاسی اثر و رسوخ و دباؤ کے سامنے ریت کے ٹیلے ثابت ہوئے ہیں ‘ غلہ منڈی کے قوانین و ضوابط کے برعکس ملتان کی غلہ منڈی میں مشرق و غرب میں تقریباً 60 سے زائد مرچوں اور نمک پیسنے کی چکیاں کام کر رہی ہیں اور ان چکیوں میں پچھلے بیس سالوں سے ایک بالادشت گروپ کی شہ پر کھلی جعلسازی کا کام جاری ہے لیکن ان کیخلاف کاروائی دیوانے کا خواب بن کر رہ گئی ہے ۔اشیائے خورد و نوش میں جعلسازی و ملاوٹ کے سدباب پر مامور فوڈ اتھارٹی کے ذمہ داران اپنا حصہ وصول کر کے چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہیں ‘ غلہ منڈی میں الاٹ کی جانیوالی دکانوں کے مالکان نے ازخود سو سے ڈیڑھ سو فٹ تک روڈ کی جانب تجاوز کر کے باقاعدہ لوہے کے جنگلے لگا دئیے ہیں ‘ جس کے باعث غلہ منڈی کی سڑکیں سکڑ کر رہ گئی ہیں اور ٹریفک و خریداری کرنیوالے گھنٹوں پھنسے رہتے ہیں ‘ دن کے وقت غلہ منڈی میں ٹرکوں و ٹرالوں کی آمدو رفت کی ممانعت کے باوجود دن بھر ٹرکوں کی لائنیں لگی نظر آتی ہیں لیکن مارکیٹ کمیٹی کے ذمہ داران کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ‘ سپریم کورٹ کی جانب سے واضح احکامات کے باوجود غلہ منڈی ملتان میں تجاوزات کیخلاف اپریشن نہیں کیا جا سکا جبکہ غلہ منڈی میں گدھا اسٹیٹ کیلئے مختص جگہ پر دکانیں تعمیر کر کے الاٹ کرنے کی بجائے کرایہ پر دی گئی ہیں جو کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے سراسر تصادم ہیں ۔ ذرائع کے مطابق غلہ منڈی ملتان میں روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے مالیت کی غیر رجسٹرڈ ٹافیاں ‘ گولیاں اور دیگر بچوں کی سویٹس کا کاروبار کیا جا رہا ہے جس سے فوڈ اتھارٹی سمیت ریجنل ٹیکس آفس آر ٹی او حکام نے بھی دانستہ چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے ‘ ایک محتاط اندازے کے مطابق غلہ منڈی سے ماہانہ بچوں سے منسوب سویٹس کا کروڑوں کا کاروبار ہو رہا ہے جو صادق آباد سے لیکر ڈی جی خان تک کے بیوپاری ملتان کی غلہ منڈی سے خرید کر لے جاتے ہیں ‘ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ غلہ منڈی میں ٹافی ‘چیونگم اور دیگر بچوں کی سویٹس 90 فیصد تک غیر قانونڈی و غیر رجسٹرڈ ہیں ‘ جو محکمہ فوڈ اتھارٹی ‘ مارکیٹ کمیٹی اور ضلعی انتظامیہ سمیت ٹیکس نیٹ بڑھانے کا دعویٰ کرنیوالے ریجنل ٹیکس آفس کے ذمہ داران کی کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ شہریوں نے ایڈمنسٹریٹر مارکیٹ کمیٹی اے سی سٹی اور محکمہ فوڈ اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ غلہ منڈی سے غیر رجسٹرڈ اشیائے خورد و نوش کے خاتمہ کیلئے فوری اقدامات اٹھائیں تاکہ ملتان و گرد ونواح کے معصوم نونہالوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے ۔

غیر قانونی کارخانے

ملتان ( سٹاف رپورٹر) ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں حفظان صحت کے اصولو ں کے برعکس گلی محلو ں میں قائم بیکریوں میں بسکٹ ‘ کیک‘ ڈبل روٹی اور دیگر اشیا تیار و فروخت کی جا رہی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ بیکری مالکان زیادہ (بقیہ نمبر20صفحہ12پر )

سے زیادہ منافع کمانے کے لئے گندے انڈوں کا استعمال کر رہے ہیں جو انتہائی سستے داموں دستیاب ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ آلودہ ماحول میں اشیا تیار کی جا رہی ہیں ۔بیکریوں پرزیادہ تر بچوں سے کام لیاجا رہا ہے ۔بیکریوں میں استعمال ہونے والا سامان حتیٰ کہ پانی بھی آلودہ و جراثیم زدہ ہوتا ہے ۔صفائی کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا ۔تیار کردہ اشیا کی پہلے تو مکھیاں دعوت اڑاتی ہیں اور پھر اس کے بعد دکانوں پر سپلائی کی جاتی ہے ۔ مذکورہ اشیا کے کھانے سے شہری گیسٹروسمیت پیٹ کے امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں ۔ذرائع کے مطابق یہ صورتحال فوڈ اتھارٹی کے افسروں کے علم میں ہے لیکن بیکری مالکان کے ساتھ مک مکا کرلیا گیا ہے اورحکام کوکارکردگی دکھانے کے لئے محض چند بیکریوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے ۔ ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں سیکڑوں بیکریاں مضر صحت اشیا تیار کررہی ہیں لیکن فوڈ اتھارٹی کے حکام ’’سب اچھا‘‘ کی رٹ لگائے ہوئے ہیں ۔ اس سلسلے میں ڈائریکٹر فوڈ اتھارٹی ملتان سعید لغاری نے بھی آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور کمشنر سمیت اعلی ٰ حکام کو اعداد وشمار کے گورکھ دھندے سے حقائق چھپائے جاتے ہیں ۔ عوامی حلقو ں نے ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی پنجاب ‘ کمشنر و ڈپٹی کمشنر ملتان اور دیگر اعلی ٰ حکام سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیاہے ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -