حکومت بر آمدات بڑھانے کیلئے ہر قسم کی سہولتیں مہیا کرے گی : چوہدری سرور

حکومت بر آمدات بڑھانے کیلئے ہر قسم کی سہولتیں مہیا کرے گی : چوہدری سرور

  

فیصل آباد (بیورورپورٹ) پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجوں سے نکالنے کیلئے بزنس کمیونٹی کو کلیدی کردار ادا کرنا ہو گا جبکہ حکومت برآمدات بڑھانے کیلئے انہیں ہر قسم کی سہولتیں مہیا کرے گی۔ یہ بات گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے سرکٹ ہاؤس میں فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے ایک وفد سے گفتگو کے دوران بتائی ۔ اس موقع پر فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر سید ضیاء علمدار حسین نے گورنر کو ڈیم فنڈ کیلئے پچاس لاکھ روپے کا چیک بھی پیش کیا۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے بزنس کمیونٹی کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ بزنس کمیونٹی کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بے روزگاری کے خاتمے اور قیمتی زرمبادلہ کما نے کے ساتھ ساتھ سرکاری محاصل کی ادائیگی میں بھی بزنس کمیونٹی سر فہرست ہے اور وہ اب بھی ان کے مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ گیس کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ وہ اس سلسلہ میں وزیر اعظم عمران خان ، پٹرولیم اور گیس کے وفاقی وزیر غلام سرور ، وزیر اعظم کے مشیر رزاق داؤد اور وزیر خزانہ اسد عمر کے علاوہ گوہر اعجاز سے بھی ملاقات کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس مسئلے پر اُن سے زیادہ فکر مند ہے اور اس سلسلہ میں سنجیدہ کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ اس مسئلے کو بہت جلد حل کر لیا جائے گا۔ برآمدات کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری محمد سرور نے کہا کہ کوئی بھی معیشت چالیس ارب کا خسارہ برداشت نہیں کر سکتی اور نہ ہی اس کو قرضے لے کر پورا کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہرحال ہمیں برآمدات کو بڑھانا اور درآمدات کو کم کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈانڈسٹری کے سابق صدر میاں محمد ادریس کی اس تجویز سے بھی اتفاق کیا کہ برآمدی تنظیموں کے عہدیداروں کی مشاورت سے معاشی پالیسیاں تشکیل دی جائیں گی۔ گورنر پنجاب نے پینے کے صاف پانی کی فراہمی پر بھی زور دیا اور کہا کہ انہوں نے آج ہی ڈسٹرکٹ جیل سمیت 5مختلف مقامات پر واٹر فلٹریشن پلانٹس کا افتتاح کیا ہے تاہم اس کام میں بھی مخیر حضرات کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

انہوں نے اس سلسلہ میں فیصل آباد کی بزنس کمیونٹی کی طرف سے مختلف مقامات پر فلٹریشن پلانٹس لگانے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کو اس سلسلہ میں فلٹریشن پلانٹس لگانے والوں کی مکمل فہرست مہیا کرنی چاہی تاکہ ان سرگرمیوں کو مربوط اور منظم انداز میں آگے بڑھایا جا سکے ۔ گورنر نے کہا کہ تاجروں کے مسائل کیلئے وہ ہر وقت حاضر ہیں انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی وقت لاہور آکر ان سے ملاقات کر سکتے ہیں یا انہیں دوبارہ فیصل آباد بلوا سکتے ہیں ۔

اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر سید ضیاء علمدار حسین نے گیس کے بلو ں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 6 اکتوبر کو وزیر خزانہ اسد عمر نے اعلان کیا تھا کہ ٹیکسٹائل سمیت پانچ برآمدی سیکٹرز کو گیس 6.5ڈالر کے حساب سے ملے گی مگر بل 1600روپے کے حساب سے جاری کر دیئے گئے ہیں اسی طرح انہوں نے بجلی 7.5 سینٹ فی یونٹ دینے کا بھی اعلان کیا تھا مگر ابھی تک اس سلسلے میں نوٹیفکیشن جار ی نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سابق حکومت نے برآمدات پر 7 فیصد ری بیٹ دینے کا اعلان کیا تھا اس میں سے 3.5فیصد کا ایس آر او جاری کر دیا گیا تھا مگر بقیہ 3.5 فیصد کا ایس آر او ابھی تک جاری نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے بیمار یونٹوں کی بحالی پر بھی زور دیا اور کہا کہ نئے یونٹ سے بھاری زرمبادلہ خرچ کر کے مشینری منگوائیں گے جس کے بعد ان کی پیداوار اور برآمد شروع ہو سکے گی لیکن اگر حکومت بیمار یونٹوں کو بحال کرے تو یہ فوری طور پر روزگار دینے کے علاوہ برآمدات بھی شروع کر سکتے ہیں۔ سید ضیاء علمدار حسین نے سوشل سیکورٹی ہسپتال کو بہتر بنانے اور اور تمام صنعتی علاقوں میں سوشل سیکورٹی کی ڈسپنسریاں قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ تقریب سے میاں محمد ادریس اور شاہد نذیر نے بھی خطاب کیا جبکہ آخر میں سید ضیاء علمدار حسین نے انہیں فیصل آباد چیمبر کی اعزازی شیلڈ بھی پیش کی۔

مزید :

کامرس -