پی کے ایل آئی میں نمونیا پر آگہی سیمینار

پی کے ایل آئی میں نمونیا پر آگہی سیمینار

  

لاہور(پ ر)نمونیا ہر عمر کے لوگوں کیلئے ایک خطرناک بیماری ہے اور پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کا سب سے بڑا قاتل ہوتا ہے،جبکہ سموگ سے نمونیہ ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، یہ بات پی کے ایل آئی میں نمونیا اور اس سے بچاؤ پر ہونے والے ورلڈ نمونیا ڈے سیمینار میں فزیشنز نے اپنے لیکچرز میں بتائی۔ سیمینار میں ہسپتال کے کنسلٹنٹس، رجسٹرار، میڈیکل سٹاف اور نرسنگ سٹاف نے شرکت کی۔پی کے ایل آئی کے کنسلٹنٹ پلمونولوجسٹ ڈاکٹر جاوید حیات خان، کنسلٹنٹ انفیکشس ڈیزیز ڈاکٹر نوید راشد اور کنسلٹنٹ پیڈیاٹرک ڈاکٹر مظہر عباس بٹ نے نمونیا کے مختلف پہلؤوں پر تفصیلی بات چیت کی۔انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں پانچ بچوں کی اموات میں ایک نمونیا کی وجہ سے ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نمونیا سانس کی شدید انفیکشن کی قسم ہے جو پھیپھڑوں پر اثر انداز ہوتی ہے ، جس سے سانس لینے میں مشکل ہوتی ہے اور پھیپھڑے آکسیجن کی جسم کیلئے ضروری مقدار فراہم نہیں کرپاتے ۔ انہوں نے بتایا کہ نمونیا کی علامات اکثر قدرتی طور پر 4سے 7دنوں میں ختم ہوجاتی ہیں، تاہم، پرائمری انفلوئینزا نمونیا یا سیکنڈری بیکٹیریل نمونیابحالی کے دوران پیچیدگی پیدا کرسکتا ہے۔

بوڑھے آدمی کو نمونیا سے بازیاب ہونے کیلئے نوجوانوں کی نسبت زیادہ وقت لگتا ہے۔

سیمینار کے سپیکروں نے بتایا کہ سر درد، بخار، کمزوری، خشک کھانسی، سانس لینے میں مشکل، سینے اور عضلات کا درد نمونیا کی اہم علامات ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر بتایا کہ نمونیا انسانی زندگی کیلئے سنگین خطرہ بن سکتا ہے ، لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اس بیماری کو روکنے کیلئے مناسب اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ نمونیا کیلئے ویکسین کا استعمال اس سے بچاؤ کا ذریعہ ہوتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ آلودہ ماحول سے بچیں خاص طور پر سگریٹ کے دھوئیں، سموگ اور بائیو فیول سے خارج ہونے والی گیسوں سے۔ڈاکٹروں نے تمام لوگوں کو نمونیا ویکسینیشن لینے،سگریٹ نوشی چھوڑنے اور حفظان صحت کے اقدامات لینے، جیسا کہ باقاعدگی سے ہاتھ دھونے، کا مشورہ دیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق نمونیا قابل علاج بیماری ہے اور اگر ابتدائی مرحلے میں اس کی تشخیص ہوجاتی ہے تو بہت سی پیچیدگیوں سے بچا جاسکتا ہے۔ پی کے ایل آئی گردوں اور جگر کی بیماریوں کے علاج کے ساتھ دوسری بیماریوں کی روک تھام کے بارے میں آگہی پیدا کرنے کے مشن پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔ یہ سیمینار بھی اسی کڑی کا ایک حصہ تھا۔

مزید :

کامرس -