چائے دی پتی۔۔۔۔۔۔

چائے دی پتی۔۔۔۔۔۔
چائے دی پتی۔۔۔۔۔۔

  

ایک صاحب کو نفسیاتی بیماری ہوگئی کہ جب وہ سوتے ہیں تو انکی منجھی تھلے کوئی ہوتا ہے، ایک سیانے نے انہیں کہا آپ منجھی تھلے سوجایا کریں لیکن ایک اور مسئلہ ہوگیا انہیں یہ خوف پیدا ہوگیا کہ منجھی کے اوپر کوئی ہے، بڑا علاج ہوا آفاقہ ندارد، آخر ایک گاؤں کے سادے سے آدمی جو سائیکاٹرسٹ تھا نہ سائیکالوجسٹ آیا اس نے منجی کے چاروں پائے کاٹے اور کہا حضور آپ اب منجی کے اوپر سوئیں یا نیچے کوئی فرق نہیں پڑے گا، چودھری سرور صاحب کی خوبی یہ ہے کہ انہیں سابقہ کہیں یا موجودہ وہ رہیں گے گورنر ہی، اللہ بخشے جب وہ مسلم لیگ کے گورنر تھے میں جب بھی ان سے ملا انہیں غیر مطمئن پایا ہم نے جھٹ سے ایک کالم سونے کی پنجرے کا قیدی لکھ مارا، برادرم مشہود شورش کا پیغام ملا، فیصل آباد جانا ہے وہ بھی گورنر کے ساتھ، یقین کریں ساری رات خواب میں پروٹوکول کی ٹوں ٹوں سنتا رہا، خواب میں پروٹوکول کی وجہ سے گردن اکڑ اکے چلتا رہا، اب عمر کے اس حصے میں ہوں کہ اگر خواب میں بھی کہیں تناؤ آئے تو صبح سچ میں کڑاکے محسوس ہوتے ہیں،

بس سمجھ لیں یہی تناؤ لئے ہم پہنچ گئے گورنر ہاؤس، کہتے ہیں اک تے سوہنی اتوں ستی پٹی اٹھی (ایک تو خوبصورت، اس پر نیند سے جاگی) گورنر ہاؤس اور اسکی ملگجی سی صبح، سچی بات ہے ہم تو اس سحر کا شکار ہی رہتے اگر برادرم توفیق بٹ ہمیں نہ جگاتے، پروفیسر نعیم مسعود کی گفتگو کا تڑکا تو ناشتے میں موجود دیسی پائیوں کے تڑکے سے بھی زیادہ بھگار والا تھا، رہی سہی کسر اعجاز حفیظ کی پانچ نان دو پلیٹ چنے اور پائے اس کے بعد میٹھی لسی والے ’’ڈائیٹ ناشتہ نے پوری کردی، ایک صاحب کی بیگم فوت ہوگئیں، بنتا سنگھ نے تعزیت کرتے ہوئے پوچھا بھابھی کیسے مرگئیں صاحب بولے بس سردار جی بیگم نے چائے پی اور ایک دم مرگئیں، بنتا سنگھ ہاتھ ملتے ہوئے بولا بھرا جی پتی بچی ہے چائے دی (بھائی چائے کی پتی بچی ہے) اعجاز حفیظ نے تو خیر چائے بھی نہیں چھوڑی، رہی سہی کسر چودھری سرور کے بھتیجے چودھری وسیم نے پوری کردی، وہ ایسے کھلا رہے تھے جیسے بکرا عید سے قبل نیکی کی نیت لئے اہل وفا اپنے بکروں اور دُنبوں کو کھلاتے ہیں، کالم کی بات اور کچی لسی جتنی مرضی بڑھالو، کہنا میں یہ چاہتا تھا کہ میں گورنر سرور کو جب بھی ملا ایک گورنر پایا۔

تاثر بدلتے رہتے ہیں یہ میں نے فیصل آباد جیل میں ادراک کیا، یہ نہ سمجھیں کہ جیل میں جانے کے بعد واپسی کی امید ختم ہونے پر ایسا محسوس کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ چودھری سرور جو کررہے ہیں وہ میرے لئے ایک نئی بات ہے، میں سیاستدانوں کے حوالے سے کم ہی حسن ظن رکھتا ہوں، لیکن سرور فاؤنڈیشن غریب لوگوں کے لئے جو کچھ کررہی ہے میں ایک سیاستدان سے اسکی توقع نہیں رکھتا تھا۔ پنجاب بھر کی 42 جیلوں میں صاف پانی کے پلانٹ سرور فاؤنڈیشن لگا رہی ہے، ویسے تو کہتے ہیں سوچی پیا تے بندہ گیا لیکن مجھے مجبوراً سوچی پینا پڑا، ایک بندہ گوروں کے ملک سے آتا ہے، اپنی شہریت کینسل کراتا ہے اور اپنی دھرتی میں جت جاتا ہے، میرے لئے تھوڑا مختلف تجربہ ہے، پاکستان میں سب کچھ ہے بس نہیں ہے تو طاقتوروں وڈیروں کے دل میں رحم نہیں ہے، سرور فاؤنڈیشن نے کام کا آغاز ہی ایک بڑے المیے سے کیا ہے، پنجاب میں گندے اور بدبودار گٹر والے پانی کی وجہ سے ہیپاٹائٹس تیزی سے پھیل رہا ہے،

شکر ہے کسی نے تو اس المیئے کو سمجھا، گو پنجاب میں سرور فاؤنڈیشن کی جانب سے 150 ووکیشنل ٹریننگ سنٹرز کا قیام ایک اچھا اقدام ہے لیکن دیہات قصبات اور جیلوں میں صاف پانی کے فلٹریشن پلانٹس یقیناً ایک ایسا کام ہے جس کا اجر نقد رقم کی طرح ہے جو انسان کو ملتا ہی ملتا ہے، یہ صدر مملکت گورنرز بظاہر نمائشی عہدے رہ گئے لیکن اگر ان پر بیٹھے افراد یہ بات کو سجھ لیں کہ اللہ نے انہیں کتنی بڑی عزت سے نوازا ہے تو یہ عہدے نمائشی نہ رہیں، چودھری سرور شاید یہ بات سمجھ گئے ہیں، ان کے اندر کا مٹی اور اس مٹی پر رہنے والوں کی کم مائیگی کو سمجھ گیا ہے، سیاست میں کامیابی اپنی جگہ لیکن بطور انسان کامیابی بہت بڑی کامیابی ہوتی ہے، چودھری سرور جیلوں میں فلٹریشن پلانٹس ضرور لگائیں لیکن بھاٹی لوہاری اور اندرون لاہور کا بھی جائزہ لیں جہاں واسا عوامی احتجاج اور اموات کے باوجود گٹر ملا بدبودار پانی فراہم ہورہا ہے۔ مجھے امید ہے وہ ایسا ضرور کریں گے اور اگر وہ ایسا کرگئے تو پھر عوام کے لئے تا عمر کے گورنر ہونگے، وہ بھی دلوں پر راج کرنے والا گورنر۔

سینٹ میں مشاہد اللہ ایک بار گرجے ہیں اور اس بار اپنے روائتی حریف فواد چودھری پر خوب ژالہ باری کی، وہ تو شکر ہے فواد تھے نہیں، ماشا ء اللہ نوری نت اور مولا جٹ نے پارلیمانی سیاست کو بھاگ لگا رکھے ہیں،مشاہد اللہ نے پی ٹی وی پر بیجنگ کے غلط ہجوں کا بھی خوب مذاق بنایا ایک نوجوان اپنے زخمی بازو کو دیکھ دیکھ کر رو رہا تھا، پوچھنے پر بولا میں نے بلیڈ سے اپنی محبوبہ کا نام لکھا ہے لیکن سپیلنگ مسٹیک ہوگئی میں نے طاہرہ شہزادی کی جگہ طاہر القادری لکھ دیا ہے، مشاہد اللہ نے فواد چودھری کو چور ڈاکو لٹیروں بھتہ خوروں کے سربراہ قرار دیا، میرا مشورہ ہے وہ دیکھ لیں کہیں ان سے ’’سپیلنگ مسٹیک‘‘ تو نہیں ہوگئی، کیونکہ یہ کارنامے تو کسی اور کے نام سے منسوب ہیں، حتیٰ کہ اب تو مختلف یونیورسٹیوں میں کرپشن کے جدید طریقے پڑھانے والے کتابوں میں بڑے بھائی میاں کا بطور حوالہ درج ہے، چلیں مشاہد اللہ کو نہ ہی بتائیں مجھے کوئی بھی روتا اچھا نہیں لگتا اور مشاہد اللہ تو بالکل بھی نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -