پنجاب پولیس کو غیر سیاسی کرنے کا عمل جاری ہے،آئی جی

پنجاب پولیس کو غیر سیاسی کرنے کا عمل جاری ہے،آئی جی

  

لاہور(کر ائم رپورٹر)وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق، پنجاب پولیس کو غیر سیاسی کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے اور فورس کو بتدریج سیاست سے پاک کر کے اسے صحیح معنوں میں عوام الناس کی بھلائی اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے والی فورس بنایا جا رہا ہے اور اس مقصد کے لیے تین قسم کی حکمت عملی پر کام جاری ہے۔ جس میں سے اولین ترجیح فورس کی ویلفیئر، کرپشن کا مکمل خاتمہ اور سخت احتسابی نظام پر عملدرآمد شامل ہے۔ ان خیالات کا اظہار، انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب، امجد جاوید سلیمی نے 45ویں کامن سے تعلق رکھنے والے اے ایس پیز کے سنٹرل پولیس آفس کے دورے کے دوران کیا۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ پہلی مرتبہ تمام ٹرانسفر پوسٹنگ آئی جی کے مشورے سے کیے جارہے ہیں اور میرے اوپر کسی قسم کا سیاسی دباؤ نہیں ہے آئندہ تمام ٹرانسفر پوسٹنگ اہلکاروں کی مرضی سے کی جائیں گی کیونکہ طے شدہ حکمت عملی کے مطابق جب اہلکار ذہنی طور پرپوسٹنگ سے مطمئن ہو گا تو اس کی کارکردگی میں نہ صرف اضافہ ہو گا بلکہ وہ فورس اور عوام کو بہتر رویے کے ساتھ سروس فراہم کر سکے گا۔

صوبائی پولیس سربراہ نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے پویس میں پہلے سے رائج انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی سسٹم کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں تمام فیلڈ فارمیشن سے ان کی تجاویز مانگی گئی ہیں جن کی روشنی میں ایک خود کار احتسابی عمل رائج کر دیا جائے گا اور کسی بھی قسم کی کرپشن خصوصی طور پر قبضہ گروپوں کا ساتھ دینے والوں اوراختیارات کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف شکایت ثابت ہونے کی صورت میں سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پولیس میں تفتیشی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور تفتیشی افسروں کو ٹیکنالوجی بیسڈ ٹریننگ کے لیے بھی حکمت عملی طے کر لی گئی ہے اور اس سلسلے میں 1000تفتیشی افسروں کو پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی کا عمل اگلے 5سے 7ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا اور انہیں جدید ٹریننگ دینے کے بعد صوبے بھر میں انوسٹی گیشن برانچ میں تعینات کر دیا جائے گا۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ معمولی تنازعات اور جھوٹی شکایات پر وقت کے ضیاع کو روکنے اورمعمولی جھگڑوں کوLitigationتک جانے سے روکنے کے لیے ضلع بھر میں ڈسٹرکٹ لیول پر Alternate Dispute Resolution Committeesبنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو تھانہ بیسڈ ہو گی اور تھانے میں ان کے لیے ایک الگ کمرہ ہو گا جہاں عوام کی معمولی شکایات کا ازالہ کیا جاسکے گا۔ ایک کمیٹی 21افراد پر مشتمل ہو گی جس میں اس ضلع کے معززاور اچھی شہرت کے حامل ریٹائرڈ ججز، پروفیسرز، علماء کرام، وکلاء، سابق سرکاری افسران ، سینئر صحافی اور عوامی نمائندے شامل ہونگے اور ان کمیٹیوں کے فیصلوں کو قانونی تحفظ دینے کے لیے حکومت سے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کے لیے قانون میں ترمیم کی ضرورت پیش آئی تو اس کو حکومتی سطح پر حل کیا جائے گا۔صحافیوں کی طرف سے مولانا سمیع الحق کے قتل کی تفتیش کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں آئی جی پنجاب نے کہا کہ اس قتل کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ صرف ایک قتل کی واردات ہے جس کی تفتیش جاری ہے اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں آئی جی پنجاب نے کہا کہ پولیس فورس کو کسی طور بھیHigh Handednessکی اجازت نہیں ہے لیکن گزشتہ دنوں ڈولفن فورس کے ایک واقعہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس کی باقاعدہ تفتیش کا حکم دے دیا گیا ہے اور تفتیشی رپورٹ ملنے کے بعد ہی کوئی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید :

علاقائی -