عدم اعتماد ، خطرے کی نئی گھنٹی

عدم اعتماد ، خطرے کی نئی گھنٹی
 عدم اعتماد ، خطرے کی نئی گھنٹی

  

پاکستان کے صوبہ پنجاب کا رقبہ 205,345 کلو میٹر جبکہ آبادی 110,012,442 افراد پر مشتمل ہے ، صوبہ پنجاب کے کل 36اضلاع ہیں جہاں کے چیئر مین ضلع کونسلز اور سٹی میئرز کا تعلق زیادہ ترپاکستان کی سابقہ حکومتی جماعت مسلم لیگ ن سے ہے ۔ویسے صوبہ پنجاب کا موازنہ خوبصورت ملک ’’ بیلا روس ‘‘ سے کیا گیا ہے ۔

چونکہ وفاق اور پنجاب میں اس وقت موجودہ حکومت تحریک انصاف کی ہے اور وفاقی و صوبائی حکومت پنجاب کے تمام اضلاع کے چیئر مین ضلع کونسلز اور سٹی میئرز کو ترقیاتی کاموں کے لئے فنڈز نہیں دے رہی جس کہ وجہ سے اہل حلقہ اپنے ووٹوں سے منتخب کئے گئے چیئر مین اور کونسلرز کو کوستے نظر آ رہے ہیں جنہوں نے علاقے میں ترقیاتی کام ترجیحی بنیادوں پر کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔یونین کونسلز کے چیئر مینوں نے اپنے ووٹوں سے ضلع کے چیئر مین اور سٹی میئرز کو منتخب کیا تھا ، یہ بیچارے یونین کونسلز کے چیئر مین جب سٹی میئرز یا ضلع کونسلز کے چیئر مینوں کے پاس جا کر فریاد کرتے ہیں اور کہتے ہین کہ ہمیں فنڈز دیں تاکہ ہم اپنے حلقوں میں کام کروا سکیں تو موجودہ چیئر مین ضلع کونسل اور سٹی میئرز اپنی مجبوریاں بیان کر کے یونین کونسل کے چیئر مین کو بات سنا کر فارغ کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں صوبائی اور وفاقی اداروں سے کوئی فنڈز نہیں مل رہے اس لئے ہم آپ کو فنڈز کہاں سے ادا کریں ۔

اب پوزیشن یہ ہے کہ یونین کونسلز کے چیئر مین آگے آگے اور اُن کے ووٹرز اور سپورٹرز پیچھے پیچھے ہیں ۔یہی نہیں بلکہ کچھ چیئر مین تو اپنے اہل حلقہ سے باقعدہ چھپنا بھی شروع ہو گئے ہیں ، دیکھا جائے تو جب بھی قومی انتخابات کے بعد نئی حکومتیں بنتی ہیں تو سابقہ حکومتی نمائندوں کے اختیارات بھی چھین لئے جاتے ہیں اور جو کچھ نمائندء اپنی مدت پوری کرنے تک انتظار میں ہوتے ہیں انہیں فنڈز روک کر یا اُن کے اختیارات مدھم کرکے انہیں بتایا جاتا ہے کہ آپ ہماری سیاسی پارٹی سے تعلق نہیں رکھتے ، تمام اضلاع کے چیئر مین اور سٹی میئر تحریک انصاف ہو یا کوئی بھی نئی حکومت بنے وہ بلدیاتی اداروں کے نمائندوں کے ساتھ ایسا سلوک ہی کرتی ہے ، بلدیاتی نمائندوں نے ابھی موجودہ حکومت کے زیر سایہ کافی عرصہ کام کرنا ہے لیکن موجودہ حکومت سابق ناظمین ، سٹی میئرز اور ضلعی کونسلز کے چیئر مین حضرات کو کسی نہ کسی طریقے سے تنگ کرنا ثواب کا کام سمجھ رہی ہے ، کبھی فنڈز نہ دے کر اور کبھی اُن کے اختیارات کو ختم کرکے انہیں بے دست و بازو کر دینا بھی موجودہ حکومتی نمائندے ثواب کا کام سمجھ رہے ہیں ۔

گوجرانوالہ اور فیصل آباد دو ایسے شہر ہیں جہاں بلدیاتی اداروں کو قربانی کا بکرا بنائے جانے کے لئے اندر کھاتے کام شروع ہوچکاہے اس ضمن میں چیئر مینز ضلع کونسلز اور سٹی میئرز کے خلاف بہت جلد عدم اعتماد کی مہم چلائی جا رہی ہے جس میں بہت سی سیاسی جماعتیں مل کر عدام اعتماد کی تحریک کو کامیاب بنائیں گی۔ضلع فیصل آباد جسے نون لیگ کا گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے وہاں تحریک انصاف نے قومی انتخابات کے معرکے میں مسلم لیگ ن کے بڑے بڑے برج اُلٹا دیئے ہیں لیکن اس شہر کا سٹی میئر ملک رزاق اپنے ساتھ ڈپٹی میئرز کی ٹیم لے کر فیصل آباد میں بظاہر تو ترقیاتی کام کروانے کا عزم لے کر آیا تھا لیکن وہ اپنے وعدوں کی پاسداری نہ کر سکا ،

فیصل آباد سٹی کے میئر ملک رزاق کا ایک بھائی مسلم لیگ ن کی طرف سے ایم پی اے ہے اور وہ شہباز شریف کی ’’ گڈ بک ‘‘ میں بھی شامل ہے لیکن اس کے باوجود بھی ملک رزاق نہ تو اپنے قائدین کا دل جیت سکا اور نہ ہی یونین کونسلز کے چیئر مین اُس کو لفٹ کروا رہے ہیں ، مان لیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں جہاں جہاں مسلم لیگی چیئر مین یا سٹی میئرز ہیں وہاں وہاں فنڈز نہیں دے رہی لیکن زرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سٹی میئر فیصل آباد ملک رزاق نے بلدیاتی فنڈز سے بھی کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا ،فیصل آباد کے بہت سے چیئر مین یونن کونسلز مکمل طور پر تیار ہو گئے ہیں کہ وہ اکھٹے مل کر بھاری اکثریت سے ملک رزاق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کریں اور کوئی ایسا سٹی میئر بنائیں جس پر تحریک انصاف کی حکومت بھی اعتماد کرے خواہ وہ سٹی میئر کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہو ۔سٹی میئر فیصل آباد کے خلاف پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے فیصل آباد کی سیاسی ، سماجی اور فلاحی تنظیمات بھی خاصی متحرک ہو چکی ہیں ۔

اب سٹی میئر فیصل آباد کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا اُونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ بہت جلد معلوم ہو جائے گا ۔سٹی میئر فیصل آباد کا دوسری سیاسی پارٹی سے تعلق ہونا ایک طرف جبکہ سٹی میئر عوام الناس یا اہل فیصل آباد کو کچھ ’’ ڈلیور ‘‘ نہیں کر سکا یہ معاملہ اپنی جگہ دوسری حقیقت یہ ہے کہ میں بذات خود فیصل آباد کی مختلف یونین کونسلز کے چیئر مینوں کو مل چکا ہوں اوراُن سے معلومات لے چکا ہوں کہ وہ سب کتنی تیزی سے تحریک انصاف کا پلڑا بھاری کرتے ہوئے موجودہ سٹی میئر کو اپنے گھر کا راستہ دکھا نے کے لئے تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کر چکے ہیں ، فیصل آباد میں رانا ثناء اللہ اور عابد شیر علی گروپس کی آپس میں چپقلش بھی سٹی میئر ملک رزاق کی میئر شپ کے خاتمے کا سبب بن رہی ہے ان دونوں گروپس کے مابین صلح کرانے کے لئے میاں شہباز شریف اور میاں نواز شریف بیسیوں کوششیں کر چکے ہیں لیکن انہیں آج کے دن تک کوئی خاص کامیابی نہیں مل سکی ہے ۔

یہاں یہ لکھنا بھی غلط نہ ہوگا کہ فیصل آباد کے ڈپٹی میئرز شیخ یوسف اور ملک امین انتظامی امور کو سنبھالنے کا خاصا تجربہ رکھتے ہیں کیونکہ یہ دونوں اور ان جیسے بہت سے ڈپٹی میئرز فیصل آباد میں بننے والی بہت سی بلدیاتی حکومتوں کے نمائندے رہ چکے ہیں ملک رزاق کو چاہیئے کہ وہ شیخ یوسف اور ملک امین جیسے محنتی اور ایماندار نمائندوں سے مشورے کرے اور بلدیات کی گاڑی کو مل جل کر آگے دھکیلے کیونکہ اگر گاڑی نہ چلی تو سب پیچھے رہ جائیں گے ۔ساتھ ساتھ سٹی میئرز اور ضلعی چیئر مینوں کے سروں پر حکومت کی جانب سے بلدیاتی نظام کی تبدیلی اور اصلاحات کی تلوار بھی لٹک رہی ہے جس سے نبرد آزما ہو کر ہی سٹی میئرز اور ضلعی چیئر مین اپنی چیئر مینی یا سٹی میئر شپ کی باقی مدت پوری کرنے کے لئے سیٹ پر بیٹھ سکیں گے۔

زرائع نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ سٹی میئر فیصل آباد ملک رزاق رانا ثناء اللہ کے گروپ کا آدمی ہے اور ایک بار رانا ثنا ء اللہ سے تنازع کے بعد دوسرے گروپ یعنی چوہدری عابد شیر علی سے صلح کرنے کی دھمکی دے چکا ہے لیکن رانا ثنا اللہ گروپ نے یہ صلح نہیں ہونے دی تھی جس کا بالواسطہ یا بلا واسطہ فائدہ رانا گروپ کو ہی ہوا ہو گا ۔دوسری طرف ملک رزاق سٹی میئر بھی یونین کونسلز کے چیئر مینون اور وائس چیئر مینوں سے ملاقاتوں پر زور دیئے ہوئے ہے ملک رزاق کی اس کوشش کے باوجود فیصل آباد کے ’’ سیا نے ‘ ‘ برملا کہہ رہے ہیں کہ ملک رزاق کے خلاف تحریک عدم اعتماد بڑی تعداد سے منظور ہو جائے گی اور سٹی میئر فیصل آباد کا قرعہ بت جلد کسی اور کے نام نکلے گا ۔

مزید :

رائے -کالم -