سزامعطل کیس ، نیب کی اپیل سماعت کیلئے منظور : نواز شریف ، مریم اور صفدر کی رہائی کا فیصلہ برقرار

سزامعطل کیس ، نیب کی اپیل سماعت کیلئے منظور : نواز شریف ، مریم اور صفدر کی ...

  

اسلام آباد (آئی این پی ) سابق وزیر اعظم نواز شریف ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کی رہائی کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر نیب کی اپیل پر سپریم کورٹ کی جانب سے لارجر بینچ تشکیل دینے کاحکم جاری کر دیا گیا ، عدالت نے فریقین کے معروضات کا جائزہ لینے کے بعد مقدمہ لارجر بینچ بھیجنے کا حکم دیا ۔ شریف خاندان کی سزا معطلی کیخلاف نیب کی اپیل سپریم کورٹ نے لارجر بینچ کے سامنے 17 سوال رکھ دیئے ۔تحریری حکم نامے میں اٹھائے گئے سوالوں میں کہا گیا ہے کہ سزا معطلی کے فیصلے میں شواہد کے سرسری جائزے کی کیا بنیاد ہے؟کیا ضابطہ فوجداری کی دفعہ 426 کے تحت نیب قانون میں سزا معطل کی جا سکتی ہے؟کیا اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب آرڈیننس کی دفعہ 9 بی کی درست تشریح کی ہے؟تحریری حکم نامے کے مطابق کیا سزا معطلی کے مقدمے میں تفصیلی فیصلہ جاری کیا جا سکتا ہے؟کیا اسلام آباد ہائی کورٹ سزا معطلی کی درخواست سن سکتی تھی، جب اپیلیں ابھی زیر التوا تھیں؟کیا مقدمے کے میرٹس پر بات کی جا سکتی تھی؟ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے نواز شریف، مریم اور صفدر کی سزا معطلی کے خلاف نیب کی اپیل قابلِ سماعت قرار دے دی جب کہ عدالت نے تینوں کی رہائی کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نوازشریف، مریم اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزاؤں کے خلاف نیب کی اپیل پر سماعت کی۔چیف جسٹس پاکستان نے خواجہ حارث سے کہا کہ آپ کا جواب کافی مفصل ہے، مختصر معروضات دیں، ، : چیف جسٹس کا خواجہ حارث سے مکالمہ جسٹس ثاقب نثار نے خواجہ حارث سے مکالمہ کیا کہ آپ کی ضمانت والا فیصلہ قائم رکھتے ہیں۔دوران سماعت خواجہ حارث نے اسفند یار ولی کیس کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سزا معطلی کا معاملہ دیکھنا ہے، میرٹ آف دی کیس تو متاثر نہیں ہوا۔چیف جسٹس نے نیب پراسیکیوٹر سے مکالمہ کیا کہ اپنے نکات لکھ کردیں، آپ کو گزشتہ سماعت پر بھی کہا تھا اپنے پوائنٹس تحریری طور پر دیں۔سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے خواجہ حارث سے دلچسپ مکالمہ کیا کہ میرے ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ خواجہ حارث جب آپ کے سامنے پیش ہوتے ہیں تو آپ کی دل کی دھڑکن بڑھ بڑھ جاتی ہے۔چیف جسٹس کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگے۔عدالت نے نیب اور خواجہ حارث کے جواب کے بعد نوازشریف، مریم اور صفدر کی سزا معطلی کا اسلام ا?باد ہائیکورٹ کا فیصلہ برقراررکھا اور نیب کی اپیل قابلِ سماعت قرار دے دی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ نیب کی درخواست منظور کر رہے ہیں، ۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کردی۔دریں اثناسپریم کورٹ آف پاکستان میں مبینہ جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت کے دوران جے آئی ٹی سربراہ نے حتمی رپورٹ دینے کے لیے ایک ماہ کا وقت مانگ لیا، دوسری جانب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کے صاحبزادے نمر مجید کو بھی گرفتار کرکے شامل تفتیش کرنے کا عندیہ دے دیا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے مبینہ جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر رضوی نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ 'مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی پیش رفت رپورٹ آ چکی ہے، جو اومنی گروپ کے بینک اکاونٹس سے متعلق ہے'۔اس موقع پر ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ 'مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تحقیقات جاری ہیں'۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 'جے آئی ٹی کو تشکیل ہوئے 3 ماہ ہوگئے، ہمیں احساس ہے یہ ایک مشکل کام ہے اور کوئی شک اور شبہ نہیں کہ جے آئی ٹی اچھا کام کر رہی ہے، لیکن کیس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی نہیں کرسکتے'۔جس پر جے آئی ٹی سربراہ نے حتمی رپورٹ دینے کے لیے ایک ماہ کا وقت مانگ لیا۔سندھ بینک کے وکیل خواجہ نوید نے بتایا کہ 'اومنی گروپ کا 70 سے 80 فیصد سرمایہ بینکوں سے قرض ہے، بینکوں سے کہا جائے کہ ملوں کا کنٹرول لے لیں'۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 'ہم بینکوں کو بلا لیتے ہیں، یہ بینکوں کا نہیں عوام کا پیسہ ہے۔ بینکوں کے نمائندے پیش ہوں گے تو ہم ان سے صورت حال سمجھ لیں گے'۔جسٹس ثاقب نثار نے اومنی گروپ کے وکیل منیر بھٹی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ 'اومنی گروپ کے ہنڈی کے پیسے بھی مل گئے ہیں، لانچوں کے ذریعے جو پیسے بھیجتے رہے ہیں، وہ واپس کر دیں، ہم کیس ختم کردیں گے'۔اس موقع پر منیر بھٹی نے جواب دیا کہ 'اومنی گروپ کی 3 ملیں اور ڈیفنس کی جائیدادیں بینکوں کو دینے کو تیار ہیں'۔تاہم نیشنل بینک کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ 'نیشنل بینک کو یہ چیز منظور نہیں'۔اس موقع پر اغوا شدگان کے وکیل سردار اسلم نے بتایا کہ ان کے دو گواہ غائب کر دیے گئے ہیں، دونوں ایف آئی اے میں پیش ہوئے اس کے بعد غائب ہو گئے۔جس پر چیف جسٹس نے جعلی اکاونٹس کیس میں آئی جی سندھ کو نوٹس جاری کردیا۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 'قرضے کے لیے دی گئی مختلف سیکیورٹیز اب متعلقہ بینکوں میں موجود نہیں'۔ساتھ ہی چیف جسٹس نے نمبر مجید کو گرفتار کرکے شامل تفتیش کرنے کا عندیہ دے دیا۔جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ 'نمر مجید کو بھی باپ کے ساتھ بند کریں، اندر بیٹھ کر دونوں مسئلہ حل کریں'۔جس پر نمر مجید نے جواب دیا کہ 'مجھے سیکیورٹی غائب ہونے کا علم نہیں ہے، میں شوگر مل کے معاملات کو دیکھتا ہوں'۔چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ 'انور مجید کے دوسرے صاحبزادے عبدالغنی مجید کو اڈیالہ منتقل کریں، فون پر پورے سندھ کو ڈکٹیشن دے رہا ہے'۔دوران سماعت گرفتاری کا عندیہ ملنے پر نمر مجید کو چکر آ گئے اور ان کے لڑکھڑانے پر وکلاء نے انہیں تھام لیا۔سماعت کے دوران جسٹس ثاقب نثار نے نمر مجید کی اہلیہ اور والدہ کو روسٹرم پر بلالیا اور کہا 'آپ کو ہم نے پہلے بھی بلایا تھا اور بہت عزت دی تھی'۔چیف جسٹس نے نمر مجید کی اہلیہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ 'آپ میری بیٹیوں کی طرح ہیں، آپ سے گزارش ہے کہ تعاون کریں، لین دین کے معاملات میں اونچ نیچ ہوجاتی ہے، دولت رحمت ہوتی ہے اسے زحمت نہ بنائیں'۔چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیئے، 'ہمیں سب معلوم ہے، آپ کے گھر کے سامنے جو گھر ہے ہمیں اس کا بھی پتا ہے، اس گھر کے اندر جو گڑھا کھودا گیا ہے ہمیں اس کا بھی پتا ہے، اس گڑھے کے اندر سے جو کاغذ نکلے ہیں اس کا بھی ہمیں پتہ ہے، ہمیں اس کیس کے بارے میں بہت کچھ پتہ ہے'۔نمر مجید کی اہلیہ نے عدالت کے روبرو کہا کہ 'باقی سارے بینک مان گئے ہیں، صرف نیشنل بینک نہیں مان رہا'۔جسٹس ثاقب نثار نے نمر مجید سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ 'آپ کو اس دن آپ کی بیوی اور والدہ کی وجہ سے گرفتار نہیں کرایا'۔ساتھ ہی جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ 'ہفتے کو دوبارہ آپ کو طلب کریں گے، بینکوں کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کریں، لیکن ہفتے کو آخری دن ہوگا، اس کے بعد موقع نہیں ملے گا'۔چیف جسٹس نے اگلی پیشی پر انور مجید کے دوسرے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔ایف آئی اے کی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق اومنی گروپ ساڑھے 13 ارب روپے کا مقروض ہے جن میں بینکوں کا کل نقصان تقریباً ساڑھے 11 ارب روپے ہے۔رپورٹ میں بتایا گیاہیکہ شوگر ملوں سے رہن شدہ چینی کے تھیلے غائب تھے، چینی کے صرف 8 لاکھ 37 ہزار 879 تھیلے موجود تھے جب کہ 66 لاکھ 92 ہزار 946 تھیلے غائب پائے گئے۔رپورٹ کے مطابق جے آئی ٹی نے اس سلسلے میں شوگر ملوں کا ریکارڈ قبضے میں لیا، قبضے میں لیے گئے ریکارڈ کا تجزیہ جاری ہے اور حتمی رپورٹ کے لیے مزید وقت درکار ہے۔اسلام ا?باد: ایف ا?ئی اے نے اومنی گروپ کی شوگر ملوں کی بینکوں کے پاس رہن رکھی گئی چین غائب ہونے کے معاملے کی رپورٹ عدالت میں جمع کرادی۔ سپریم کورٹ نے دوہری شہریت پر زلفی بخاری کی نااہلی سے متعلق کیس میں وزیراعظم عمران خان سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ دوہری شہریت پر کوئی رکن اسمبلی نہیں بن سکتا، یہ عہدے اسی لئے بنائے گئے جو ایم این اے نہیں بن سکتا اسے مشیر لگا سکیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے معاون خصوصی زلفی بخاری کی نااہلی سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ یہ کو وانٹو درخواست ہے، وزیراعظم کے خصوصی معاون کا کوئی عہدہ ہی نہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ معاون خصوصی کا عہدہ وفاقی وزیر یا وزیر مملکت کے برابر کیسے ہوتا ہے ؟ درخواست گزار کے بقول زلفی بخاری دوہری شہریت رکھتے ہیں، دوہری شہریت رکھنے والا رکن پارلیمنٹ یا وزیر نہیں بن سکتا، یہ عہدے اسی لئے تخلیق کیے گئے ہیں کہ جو ایم این اے نہیں بن سکتا اسے مشیر لگایا جا سکے۔ادھرسپریم کورٹ میں ایف آئی اے نے اومنی گروپ شوگر ملز کی بینکوں کے پاس رہن چینی سے متعلق رپورٹ پیش کردی‘ رپورٹ میں کہا گیا کہ کل 66لاکھ 92ہزار 946 تھیلے غائب پائے گئے‘ صرف 8لاکھ 37ہزار 879 تھیلے موجود تھے‘ جے آئی ٹی نے اس سلسلے میں شوگر ملز کا ریکارڈ قبضے میں لے لیا۔ پیر کو جعلی بنک اکاؤنٹس کیس سے متعلق ایف آئی اے نے رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی۔ رپورٹ اومنی گروپ کی شوگر ملز کی بینکوں کے پاس رہن چینی سے متعلق ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اومنی گروپ ساڑھے تیرہ ارب روپے کا مقروض ہے۔ بینکوں کا کل نقصان تقریباً ساڑھے گیارہ ارب روپے ہے۔ شوگر ملز سے رہن شدہ چینی کے تھیلے غائب تھے۔ کل 66لاکھ 92ہزار 946 تھیلے غائب پائے گئے‘ صرف 8لاکھ 37ہزار 879 تھیلے موجود تھے۔ سپریم کورٹ نے نندی پور منصوبے سے متعلق کیس نمٹا دیا جب کہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نندی پور پاور منصوبہ کیس میں مزید کارروائی کی ضرورت نہیں۔سپریم کورٹ نے نندی پور منصوبے سے متعلق کیس رواں سال 8 اگست کو ری اوپن کیا تھا اور عدالت نے نیب کو منصوبے میں مبینہ کرپشن پر تحقیقات کا بھی حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ

مزید :

صفحہ اول -