سینٹ میں مشاہد اللہ کے حکومت مخالف الفاظ پر ہنگامہ ، شور شرابہ

سینٹ میں مشاہد اللہ کے حکومت مخالف الفاظ پر ہنگامہ ، شور شرابہ

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) ایوان بالا کے پیر کو اجلاس میں سینیٹر میاں رضا ربانی کے ایجنڈے میں 5بل تھے اس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا آج میاں صاحب آپ کا کام ٹھیک ہے اس پر رضا ربانی نے کہا آج دیہاڑی لگ گئی ہے، انکے چاروں بل متعلقہ کمیٹیوں کو بھجوا دئیے گئے۔پیر کے روز سینیٹ کے اجلاس میں میاں رضا ربانی کی طرف سے ایجنڈے کے تحت پہلا بل توثیق معاہد ا ت غیر ملکی از پارلیمنٹ بل2018ء،دوسرا بل پاکستان سے اخراج(کنٹرول) ترمیمی بل2018ء ،تیسرا بل ایس بی پی بینکنگ سروسز کارپوریشن (تنسیخی) بل2018ء،چوتھا بل بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1992ء مں مزید ترمیم کا بل2018ء اورپانچواں بل سٹیٹ بنک آف پاکستان 1952ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل 2018ء پیش کیاگیا جنہیں بعد ازاں متعلقہ کمیٹیوں کو بھجوا دیا گیا۔سینیٹ میں حکومت کو تمام غیرملکی معاملات کی توثیق پارلیمنٹ سے کرانے کا پابند بنانے کا بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیاہے کہ کسی بھی ملک سے کوئی بھی معاہدہ کرنے سے قبل حکومت پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا مجوزہ قانون ہے۔ اجلاس پیر کو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا ۔ غیرملکی معاہدات کی توثیق کرنے کیلئے قانون وضع کرنے کا متعارف کردہ بل کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مخالفت نہ کرتے ہوئے کہا اس حوا لے سے وزارت خارجہ کو بھی سن لیا جائے مگر معاہدے کرنا حکومت کا کام ہے اور اس حوالے سے قانون سازی کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ معاہدے کرنے میں سالوں لگتے ہیں ایسا نہ ہو معاہدے کرنے کا وقت آ جائے اور اس وقت ایسی ترامیم آ جائیں جس سے معاہدہ ہی ختم ہو جائے۔ قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے میاں رضا ربانی کے مجوزہ بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا دوسرے ممالک کیساتھ معاہدے میں پوری قوم کے مستقبل کا فیصلہ ہوتا ہے اور اس کو بدلنا مشکل ہوتا ہے۔ پارلیمان کی نگرانی ہونی چاہئے۔ غیرملکی معاہدات کو پارلیمان سے باہر نہ نکالیں۔ چیئرمین سینیٹ نے بل کو قائمہ کمیٹی برائے قانون، خزانہ اور خارجہ کو بھیج دیا۔بعد ازاں سینیٹر مشاہد اللہ خان نے حکومت کیخلا ف بات شروع کی تو چیئرمین سینیٹ اور قائد ایوان انہیں سمجھاتے رہے لیکن انہوں نے کسی کی نہ سنی اورکہا حکومت نے دھرنے والوں سے معاہدہ کیا، خدائی انصاف شروع ہو گیا، لیگی رکن نے بیرونی امداد کیلئے حکومت کی کوششوں پر بھی تنقید کی۔اس پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے مشاہد اللہ کو سمجھایا اور ٹوکتے ہوئے کہا فواد چودھری ایوان میں موجود نہیں، ان کیخلاف بات نہ کریں لیکن لیگی رہنما نے ان کی ہدایت پر عمل نہیں کیا۔ اس موقع پر شبلی فراز نے بھی مشاہد اللہ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ آپ دوبارہ ایسی باتیں کر کے ہاؤس کا ماحول خراب کر رہے ہیں۔سینیٹر فیصل جاوید نے مشاہد اللہ کو جواب دیتے ہوئے کہا پہلے کرپشن کا دفاع کرنے کیلئے قانون سازی ہوتی تھی، اب پکڑے جا رہے ہیں تو شاعری ہو رہی ہے۔ اقامہ منی لانڈرنگ کیلئے استعمال کیا گیا لیکن اپوزیشن کہتی ہے چوروں پر چوکیدار بھی چور ہونا چاہیے، حکومتی سینیٹر نے چارٹر آف ڈیموکریسی کو چارٹر آف کرپشن قرار دیا۔

سینیٹ

مزید :

صفحہ اول -