فلسطین کے مسلمانوں نے قبلہ اول کی آزادی کیلئے طویل جنگ لڑی ہے : سراج الحق

فلسطین کے مسلمانوں نے قبلہ اول کی آزادی کیلئے طویل جنگ لڑی ہے : سراج الحق

  

لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے پارلیمنٹ میں تحریک انصاف کی خاتون رکن اسمبلی عاصمہ حدید کی طرف سے قبلہ اول کو یہودیوں سے منسوب کرنے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تجویز کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ناپاک جسارت مسلمانان عالم کے چودہ سو سالہ موقف کی یکسر نفی اور فلسطینی مسلمانوں ہی نہیں پوری امت مسلمہ کی دل آزاری کے مترادف ہے ۔گجرات میں اجتماع ارکان سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ یہ خاتون رکن اسمبلی یا تو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے بھی بے بہرہ ہے یا موجودہ حکومت کی طرف سے دانستہ کسی غیر ملکی ایجنڈے کو قسط وار آگے بڑھایا جارہا ہے ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس تقریر کے بارے میں اپنے سرکاری موقف کا اظہار کرے،پاکستان کی قومی اسمبلی میں اس طرح کی جسارت پہلی بار سامنے آئی ہے جس نے پوری قوم کو اضطراب میں مبتلا کردیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ووٹ لینے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آئین پاکستان سے کھلم و کھلا انحراف کا ارتکاب شروع ہوجائے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اسرائیل نے مسلمانوں کے قبلہ اول پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے۔فلسطین کے مسلمانوں نے قبلہ اول کی آزادی کیلئے ایک طویل جنگ لڑی ہے اور لاکھوں فلسطینی مسلمانوں نے بیت المقدس کی آزادی کیلئے مسلسل اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اسمبلی میں حکومتی رکن کی طرف سے اس طرح کا مطالبہ سامنے آنا انتہائی تشویشناک ہے ۔حکومت کو اس کی فوری وضاحت کرنا اور یہ مطالبہ کرنے والی رکن اسمبلی کے موقف سے لاتعلقی کا اظہار کرنا ہوگا ورنہ پاکستانی قوم کے ساتھ ساتھ پوری امت یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوگی کہ یہ پی ٹی آئی کا سرکاری موقف ہے ۔ دریں اثناامیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق کی دعوت پر سپریم کورٹ بار کے نو منتخب صدر امان اللہ کنرانی نے اسلام آباد میں میاں محمد اسلم کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ بار میں انتخابات کا باقاعدگی سے ہونا ایک اچھی روایت ہے ۔ ملک بھر کے وکلا نے آپ کو ووٹ دے کر منتخب کیاہے ۔ ہم آپ سے اور وکلا برادری سے توقع رکھتے ہیں کہ آپ جماعت اسلامی ، ملک میں آئین و قانون کی بالادستی اور حقیقی احتساب کی جدوجہد کو آگے بڑھانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے ۔ ملکی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت نے تشویش کا اظہار کیا اور کہاکہ پانامہ لیکس میں نامزد 436 افراد اور کمپنیوں کی کرپشن کے متعلق نتیجہ خیز اقدامات نہیں ہورہے ۔

Back to C

مزید :

صفحہ آخر -