فلیگ شپ ، سپریم کورٹ فیصلے پرریفرنس دائر کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا : تفتیشی افسر

فلیگ شپ ، سپریم کورٹ فیصلے پرریفرنس دائر کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا : ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت میں ا ستغاثہ کے آخری گواہ تفتیشی افسرمحمد کامران نے کہا کہ شکایت کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ کارروائی کرنی ہے یا نہیں، شکایت پر مزید کارروائی کا فیصلہ چیئرمین نیب کرتے ہیں، چیئرمین کبھی کسی ڈی جی کوبھی فیصلے کا اختیار دے دیتے ہیں، پہلے مرحلے میں شکایت کی تصدیق کی جاتی ہے، دوسرے مرحلے میں انکوائری شروع ہوتی ہے، میں نے 28 جولائی 2017 کا سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھا تھا، سپریم کورٹ نے فلیگ شپ کا ریفرنس دائرکرنے کا کہا تھا، عدالتی فیصلے کے بعد ریفرنس دائرکرنے کے علاوہ آپشن نہیں تھا۔حتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت جج محمد ارشد ملک نے کی۔عدالت میں سماعت کے آغاز پر معزز جج نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ نواز شریف اپنا 342کا بیان ریکارڈ کرانے کیلئے تیار ہیں؟۔خواجہ حارث نے کہا کہ ہمارے پچھلے بیان پرکچھ اعتراضات ہیں وہ ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں، جج ارشد ملک نے کہا کہ اعتراضات اگر لکھے ہوئے ہیں تو دے دیں۔احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ اعتراضات علیحدہ سے لکھوا کرحصہ بنا لیتے ہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ دو تین چیزیں ہیں وہ لکھوا دیتے ہیں، ابھی جرح شروع کرلیتے ہیں بعد میں سپریم کورٹ بھی جانا ہے۔خواجہ حارث نے جواب دیا کہ جی نہیں، نوازشریف آج بیان کیلئے تیار نہیں ہیں، وکیل صفائی استغاثہ نے آخری گواہ تفتیشی افسرمحمد کامران پر جرح کی۔بعدازاں فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت آج تک ملتوی ہوگئی، خواجہ حارث تفتیشی افسر پر جرح جاری رکھیں گے۔

فلیگ شپ ریفرنس

مزید :

صفحہ آخر -