کرپشن نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا

کرپشن نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا

  

گجرات جو ملک کے قد آور سیاستدانوں کی سرزمین ہے وہاں اس دھرتی سے تعلق رکھنے والے خطرناک اشتہاری مجرمان کی ایک اپنی ہی دنیا ہے جو گجرات کے حدود دربہ کی وجہ سے کبھی چناب کے بیلے میں اور کبھی آزاد کشمیر کے ساتھ گجرات کی سرحد لگنے کی وجہ سے آزادانہ طور پر وہاں فرار ہو جاتے ہیں موقع ملتے ہی وہ اپنی مذموم کاروائیاں کر کے روپوش ہو جاتے ہیں گجرات پولیس کے ساتھ سینکڑوں پولیس مقابلے کسی سے پوشیدہ نہیں ان پولیس مقابلوں میں 69سے زائد پولیس افسران و ملازمین نے جام شہادت نوش کیا گجرات پولیس کے سربراہ کی سیٹ کوئی پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا بستر ہے امن و امان قائم رکھنا ‘ اشتہاری مجرمان کی گرفتاری ‘ عوام کو انصاف کی فراہمی ‘ اور پولیس ملازمین کی کارکردگی پر چیک اینڈ بیلنس ایک مشکل کام ہے گجرات میں تعینات رہنے والے بعض افسران آئی جی کے عہدے تک پہنچے جن میں چوہدری تنویر ‘ سرمد سعید خان ‘ طاہر عالم خان سرفہرست ہیں ماضی کی روایات اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ گجرات پولیس کا سربراہ مقرر ہونے پر کئی افسران نے معذرت کر لی جرات مندوں نے حامی بھر لی اور پھر تاریخ رقم کرتے چلے گئے چند یوم قبل اخلاق شرافت ‘دیانتداری‘اور بہادری کے تمغے اپنے سینے پر سجائے ہوئے پنجاب پولیس کے ماتھے کے جھومر سید علی محسن نقوی کو گجرات کا ڈی پی او مقرر کیا گیا ڈی پی او کا چارج سنبھالتے ہی انہوں نے ہر خاص و عام کیلئے جہاں اپنے دروازے کھول دیے وہاں انہوں نے پولیس کو یہ باور کرا دیا کہ پولیس دراصل عوام کی خادم ہے حکمران بننے کی کوشش نہ کریں ہم قانون پر عمل درآمد کرتے ہوئے کسی سیاستی وابستگی کے بغیر ہر شخص کی داد رسی کرنے کے پابند ہیں کیونکہ مظلوم عوام کی دعائیں ہمارا سرمایہ ہیں حکمران ووٹ لیکر آئے ہیں انہیں انکا معاشرے میں موجود مقام دینا ہمارا فرض ہے اور کوئی بھی سیاستدان ایسا نہیں جو کسی ظالم کی سفارش کرے کیونکہ انہوں نے بھی اسی معاشرے میں رہنا ہے روزنامہ پاکستان کے لیے خصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تفتیشی افسران کی نالائقی سے جرائم پیشہ افراد بری ہو جاتے ہیں انہوں نے جو اپنی ترجیحات مقرر کی ہیں ان میں تفتیشی افسران کی تربیت کے علاوہ انہیں یہ باور کرانا ہے کہ معاشرے کے ناسور بظاہر بڑے طاقتور دکھائی دیتے ہیں مگر انہیں قانون کے شکنجے میں کسنا پولیس کا فرض ہے مدعی تو کسی نہ کسی حوالے سے مجبور ہو جاتے ہیں مگر ہمیں اس انداز سے کام کرنا چاہیے کہ مدعی کے راضی ہونے کے باوجود معاشرے کے ناسوروں کو کیفر کردار تک پہنچا سکیں سید علی محسن نقوی جو گفتار اور کردار کے حوالے سے بھی پنجاب پولیس میں اپنی خاص شہرت رکھتے ہیں نے کہا کہ کرائم کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے معاشرتی ناانصافیاں ہیں لوگ بھوک اور افلاس کے ہاتھوں بھی تنگ آ کر مجرم بنتے ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم ایسے افراد جو معاشرتی ناانصافیوں کا شکار ہو چکے ہیں کو بنیادی خرابیوں کو دور کر کے انہیں ایک اچھا شہری بننے کیلئے مدد کریں انہوں نے کہا کہ اپنی مرضی کا فیصلہ نہ آنے پر لوگ عدالتوں کو ہدف تنقید بناتے ہیں مگر ہماری عدالتیں اتنی بھی بری نہیں کہ ہم ان پر بے جا تنقید کرتے رہیں انہوں نے کہا کہ ہمارا کام موجودہ عوامی دور میں عوام دوست بن کر رہنا ہے اور قانون کی طرف سے ملنے والے اختیارات کا صیح انداز سے استعمال ہی معاشرے کی بے چینی کو ختم کر سکتا ہے انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ جس سرکل کا ڈی ایس پی اور ایس ایچ او نااہل ہو تو اس علاقے کے لوگ ڈی پی او آفس پر یلغار کر دیتے ہیں ان کی یہ کوشش ہو گی کہ عوام کو انصاف ان کی دہلیز پر میسر ہو ‘ناانصافی کرنیوالوں کو نشان عبرت بنا دیا جائے گا ویسے بھی موجودہ حکومت کا یہ مشن ہے کہ ملک کو کرپشن سے پاک کیا جائے کیونکہ کرپشن نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے اسی طرح ہر محکمے کا سربراہ اپنے محکمے کو کرپشن سے پاک کرنے کی پوری طاقت رکھتا ہے اسکا آغاز انہوں نے گجرات پولیس سے شروع کر دیا ہے جہاں رشوت لینے والوں کو سزا دی جائے گی وہاں رشوت دینے والے بھی قابل گرفت ہیں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گجرات کے عوام بڑا پیار کرنے والے ہیں اور پیار ہی گجرات کی پہچان ہے انہوں نے کہا کہ ان کے کام کرنے کے انداز مختلف ہیں اور وہ خدا کے حضور دعا گو ہیں کہ جتنا عرصہ بھی وہ گجرات میں رہیں لوگ گجرات میں تعینات رہنے والے سابق ڈی پی او حضرات جن میں طارق عباس قریشی آر پی او گوجرانوالہ سر فہرست ہیں انہیں یاد کرتے رہیں ۔

مزید :

ایڈیشن 1 -