پنجاب پولیس کا انسپکٹر مخالفین کے ہاتھوں قتل

پنجاب پولیس کا انسپکٹر مخالفین کے ہاتھوں قتل

  

صوبائی دارالحکومت میں دشمنیوں کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی پاکستان کی ،قیام پاکستان کے فوری بعد "خونی دشمنیوں " کے ناسور نے جنم لیا ،ان دشمنیوں کے نذر ہو کر ہزاروں ماؤں کے لخت جگر لقمہ اجل بن چکے ہیں جن میں خواتین و بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے، 70سالہ تاریخ کے دوران کم و بیش 100متحارب دشمن دار گروپ منظر عام پر آئے جن میں سے اکثریت ایسے مخالفین کی ہے جن کی دشمنی نسل در نسل چلتی رہی ،کسی نے محض "چودھراہٹ "کی خاطر کسی نے غیرت کے نام پر اور کسی نے انتقامی جذبے کے تحت مخالفین کو ٹھکانے لگایا ،جوابی کارروائیاں بھی دشمن داری کا ایک اہم باب ہیں، جگا ٹیکس ،قبضہ گروپ ،لڑائی مارکٹائی اور خون کا بدلہ خون کے نام پر ہونے والی قتل وغارت گری اپنی جگہ، لیکن کئی دشمنیاں محض تو تکرار اور رعب داب کے چکر میں شروع ہوئیں جو آج تک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں ،بڑی بڑی اہم سیاسی شخصیات نے بھی گاہے بگاہے ان دشمنیوں کو دوستی میں بدلنے کی کوشش کی لیکن بیشتر میں کامیابی ممکن نہ ہوئی صلح جوئی کے جو اکا دکا معاملات منظر عام پر آئے ان میں بھی اچانک رکاوٹ پیدا ہوگئی حتیٰ کہ سرکاری سطح پر شروع کی گئی "صلح کرواؤ مہم "بھی کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہ کرسکی ،ان میں سے کئی ایک دشمنیاں ایسی بھی ہیں جن کی ابتداء پولیس سے ہوئی اور اسے پروان چڑھانے میں بھی پولیس مرکزی کردار ادا کرتی رہی ،کئی ایک پولیس کے اعلی افسران بھی دشمن داریوں کو اپنی مفاد کی خاطر ہوا دیتے رہے اور کئی ایک پولیس والے دشمنیوں کی بھینٹ چڑھ گئے ۔ اسی طرح کا ایک واقعہ6نومبر کوشیخوپورہ کے علاقہ مریدکے میں پیش آیا جہاں درینہ دشمنی کی بنا پر پولیس انسپکٹر سمیت 3 افراد کو قتل کر دیا گیا، قتل ہونے والا پولیس انسپکٹر ذاہد راٹھور تھانہ رنگ محل لاہور میں ایس ایچ او تعینات تھا۔ انسپکٹر زاہد راٹھور اپنے پرائیویٹ گن مینوں کے ساتھ ابھی گھر سے نکلا ہی تھا کہ چوک میں کھڑی کار کے اندر گھات لگائے بٹ گروپ کے افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کی زد میں آکر زاہد راٹھور عرف پہلوان، گن مین بھولا اور پپو شدید زخمی ہو گئے جنہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ راستے میں دم توڑ گئے۔مریدکے میں کیبل نیٹ ورک لگانے کے معاملے پر کھاری بٹ اور متین راٹھور گروپ میں 5 سال سے دشمنی چلی آرہی ہے، پانچ سال کے دوران 10 فراد دشمنی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور قتل کے مقدمات میں بٹ گروپ کے تمام ملزمان اشتہاری ہیں ۔ فائر نگ کر نے والے ملزمان کی سر دست شناخت نہیں ہو سکی۔ملزمان اس خونی واردات کے بعد فائرنگ کرتے ہوئے موقع سے فرار ہو گئے۔ پولیس کے یہ بہادر انسپکٹر مریدکے میں رہائش پذیر تھے اور ڈیوٹی پر جانے کے لیے گھر سے نکلے ہی تھے کہ حملہ آوروں نے آلیا۔ مقتول انسپکٹر کے جواں سال بھتیجے کو بھی دشمنوں نے دو سال قبل فائر نگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ زاہد محمود راٹھور کے قتل کی خبر علاقہ بھر میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور ہزاروں افراد ہسپتال امڈ آئے۔لواحقین بتاتے ہیں کہ مریدکے محلہ احمد پورہ میں رہائش پذیر ایس ایچ او تھانہ رنگ محل لاہور تعینات ہونے والے لاہور پولیس کے بہادر اور نڈر انسپکٹر زاہد محمود راٹھور صبح دس بجے کے قریب ڈیوٹی پر جانے کی غرض سے اپنے پرائیوٹ ڈرائیور اسلم اور نجی گن مین امجد پپو کے ہمراہ ویگو ڈالا میں سوار ہو کر گھر سے نکلے ہی تھے کہ جی ٹی روڈ بنگلہ پلی کے انڈر پاس میں گھات لگائے بیٹھے مسلح افراد نے جدید آتشیں اسلحہ سے ان کی گاڑی پر حملہ کر دیا اور سیکڑوں گولیاں برسا کر اطمینان سے اسی انڈر پاس کے ذریعے مغربی جانب فرار ہو گئے۔ملزمان کی فائرنگ سے ڈرائیور اور گن مین موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ انسپکٹر زاہد محمود کو فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال مریدکے پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں بچانے کی جان توڑ کوشش کی مگرزخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ بھی دم توڑ گئے۔زاہد محمود پر حملہ کی اطلاع پر سینکڑوں افراد جائے واردات اور بعد ازاں ہسپتال پہنچ گئے۔ ڈی ایس پی رانا اسلام اور ایس ایچ او تھانہ سٹی رائے عبد الحمید نے موقع پر پہنچ کر جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا اور وہاں سے گولیوں کے کھول سمیت دیگر شواہد اکٹھے کیے۔ بعد ازاں ڈی پی او شیخوپورہ بھی پہنچ گئے اور انہوں نے ملزمان کو جلد گرفتاری کی یقین دہانی کرائی۔ زاہد محمود تین کمسن بیٹیوں کے باپ ، علاقہ کی معروف سماجی، کاروباری شخصیت طاہر الیاس عرف طاہرا پہلوان کے چھوٹے بھائی اور متین راٹھور، ندیم راٹھور،اویس راٹھور ایڈووکیٹ کے چچا تھے۔ دو سال قبل کیبل کے تنازعہ پر زاہد راٹھور کے جواں سال بھتیجے نبیل راٹھور کوکھاری بٹ گروپ نے جب قتل کر دیا جس پر ان دونوں گروپوں کے درمیان دشمنی کا آغاز ہو گیا جس پر ملزم پارٹی اشتہاری ہو کر علاقہ سے غائب ہو چکی ہے۔ ابتدائی طور پر یہ اندازا نہیں لگایا جا سکتا کہ تہرے قتل کی اس واردات میں بٹ گروپ کے اپنے افراد شامل ہیں یا کسی جرائم پیشہ گروہ سے یہ کا رروائی عمل میں لا ئی گئی ہے۔وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے دو ساتھیوں سمیت قتل ہونے والے ایس ایچ او تھانہ رنگ محل لاہور زاہد محمود راٹھور کے قتل کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب سے تفصیلی رپورٹ مانگ رکھی ہے۔تھانہ سٹی مریدکے پولیس نے مقتول پولیس انسپکٹر زاہد محمود راٹھور کے بھتیجے متین راٹھور کی مدعیت میں ملزمان خاور بٹ، صابر عرف پوپا بٹ، ذو الفقار عرف چدی بٹ سمیت پانچ افراد کے خلاف قتل اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ نمبر504/18 درج کرکے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چار مختلف ٹیمیں تشکیل دے رکھی ہیں۔ ڈی پی او شیخوپورہ جہانزیب نذیر کے مطابق با وردی پولیس انسپکٹر کو شہید کرکے ملزمان نے ظلم کی انتہا کر دی ہے جنہیں کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے تمام شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمان سات سال قبل اشتہاری ہوئے جس کے بعد ان کے مریدکے اور کالا شاہ کاکو میں گھروں کو بھی مسمار کر دیا گیا۔ شہید انسپکٹر زاہد محمود اور اس کے دو ساتھیوں کی نعشیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال شیخوپورہ سے پوسٹمارٹم کے بعد پو لیس نے جب ورثاء کے حوالے کیں۔ مقتولین کی نماز جنازہ میں ڈی آئی جی لاہور وقاص نذیر، ایس پی سٹی معاذ ظفر، ڈی ایس پی مریدکے رانا محمد اسلام، ایس ایچ او صدر فاروق احمد رانجھا، ایس ایچ او سٹی رائے عبد الحمید، انسپکٹر لاہور پولیس مہدی رضا کاظمی،سب انسپکٹر مہر رب نواز،ضلعی چیئر مین شیخوپورہ رانا احمد عتیق انور، ایم پی اے خرم اعجاز چٹھہ ،چیئر مین بلدیہ مریدکے شیخ شبیر احمد،وائس چیئر مین رانا ماجد نواز، چیئر مین یونین کونسل نون چودھری محمد ارشد ورک، سٹی کونسلر سید اعجاز الحسن شیرازی، شیخ قاسم ریاض، رانا عظمت علی، عطاء اللہ بھٹی، میاں کبیر احمد، شیخ نثار احمد، چودھری امتیاز احمد باجوہ، ماسٹر محمد رمضان، سابق ایم ایس ڈسٹرکٹ ہسپتال ڈاکٹر یوسف رضا کاظمی، ایڈووکیٹ لاہور ہائی کورٹ سید ذیشان شاہ سمیت سیکڑوں وکلاء، سیاسی رہنماؤں، سماجی، کاروباری شخصیات، صحافیوں اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ نماز جنازہ کے بعد شہداء کو شہر کے قدیم حدوکے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ ایس پی سٹی لاہور معاذ ظفر نے ڈی آئی جی لاہور کی طرف سے قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی جبکہ پولیس کے دستے نے سلامی پیش کی۔ شہر کی تاریخ کے بڑے جنازہ میں ہزاروں افرا د نے شرکت کرکے شہداء کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کیا۔ نماز جنازہ کے دوران شہید پولیس انسپکٹر زاہد راٹھور کے بڑے بھائی طاہر الیاس عرف طاہرا پہلوان، بھتیجے متین راٹھور، ندیم راٹھور، اویس راٹھور ایڈووکیٹ پر سکتہ طاری رہا اور غم کی تصویر بنے نظر آئے۔ طاہر الیاس نے گڑگڑاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو جلد گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔شہید پولیس انسپکٹر زاہد محمود راٹھور کی تاریخ پیدائش15-07-1969کووہ ضلع سیالکوٹ تحصیل ڈسکہ کے گاؤں آدم کے چیمہ میں پیدا ہوئے1970کو مریدکے میں قیام پذیر ہوئے میٹرک کی تعلیم گورنمنٹ ہائیر سکینڈری سکول مریدکے سے حاصل کی ،انٹر میڈیٹ گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور سے کیا اور لاہور میں زاہد پہلوان کے نام سے مشہور ہوئے اور کشتی میں نیشنل کھلاڑی رہے اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے بیٹے حسین نواز کے کلاس فیلو بھی رہے اور نواز شریف کے پرسنل سکیورٹی اہلکار بھی رہے ،پنجاب پولیس لاہور 08-08-1991میں بھرتی ہوئے ۔شہید ایس ایچ او کی بیگم آسیہ زاہد نے لاہور سے گریجویشن کی،شہید کی تین بیٹیاں عائشہ زاہد عمر 18سال انٹر میڈیٹ کی طالبہ ہے،اقصیٰ زاہد عمر15سال میٹرک کی طالبہ ہے،فیضہ زاہد عمر سات سال دینی تعلیم حاصل کررہی ہیں اور حفظ و ناظرہ میں دو پارے حفظ کر چکی ہے۔شہید ایس ایچ او رنگ محل لاہور زاہد محمود راٹھور کے محافظ اعجاز عرف پپو کی نماز جنازہ کے بعد ایک غمزدہ بہن بھی غم کی وجہ سے چل بسی۔بتاتے ہیں کہ اعجازعرف پپو محافظ کی نماز جنازہ ہچڑ گاؤں میں پڑھائی گئی جس کے بعد گھرمیں کہرام مچا ہوا تھا اعجاز کی سگی بہن نعیمہ بی بی غم سے نڈھال ہونے کے باعث اچانک ہارٹ اٹیک ہوا جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی اس طرح اعجاز عرف پپو کے گھر ایک اور بھی صف ماتم بچھ گئی۔گھر والوں کا کہنا ہے کہ نعیمہ بھائی کی موت کا صدمہ برداشت نہیں کر سکی اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملی مرحومہ کی ایک بیٹی ہے جو اس دنیا میں تن تنہا رہ گئی ہے۔اہل علاقہ نے وزیر اعلی پنجاب اور آئی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے دہشتگردی کے واقعات پر فی الفور قابو پایا جائے تاکہ لو گوں کے گھر اجڑنے سے بچ سکیں اور وہ آرام کی زندگی بسر کر سکیں۔بظاہر پولیس کا شمار طاقتور اور ظالم طبقے میں کیا جاتا ہے۔ ان کا دن رات عوام کے ساتھ براہ راست واسطہ رہتا ہے اور ریاست کے دیگر ادارے بھی اپنے احکامات ان کے ذریعے نافذ کرتے ہیں ، اس لئے پولیس کو دوسرے اداروں کے حصے کے غیض وغضب کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پولیس کا نظام ناقص اور بڑی حد تک ظالمانہ ہے اور مجموعی طور پر اس سے متعلق شکایات میں وزن بھی ہے۔ نمبرون نہیں لیکن کرپٹ ترین محکموں میں بھی اس کا شمار ضرور ہوتا ہے۔ راؤ انوار جیسے لوگ بھی اس شعبے میں موجود ہیں جن کے ظالم ہونے میں کوئی کلام نہیں لیکن یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران ہم نے ظالم سمجھے جانے والے محکمہ پولیس کو بھی مظلوموں کی صف میں شامل کردیا ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کے کردار کو دیکھا جائے تو ہم نے کاغذ کی کشتیاں دے کر اسے سمندروں کے سفر پر روانہ کیا۔عوام کی زندگیوں میں ایک شعبہ یکساں اہمیت رکھتا ہے اور وہ ہے محکمہ پولیس جس میں کسی بھی شکایت کنندہ کا پہلا واسطہ عموماً سٹیشن ہاؤس آفیسر(ایس ایچ او) سے پڑتا ہے۔عوام کی ایک عام شکایت یہ ہے کہ پنجاب کی پولیس بہت ظالم اور سرکش ہے تاہم پولیس افسران اس کا یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ کام کا طویل دورانیہ اوروسائل کی کمی نے ان کی پیشہ ورانہ زندگیوں کو بوجھ بنادیا ہے‘ پولیس اسٹیشنوں میں عملے کی کمی بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے‘ پولیس قوانین 1879ء کے مطابق 456افراد کے لیے ایک پولیس کانسٹیبل ہونا چاہیے مگرحقیقت یہ ہے کہ ایک ہزار افراد کے لیے ایک پولیس کانسٹیبل ہے۔پولیس کے جھگڑے ہوں یا دیگر دشمنیاں تو اس کو بجائے جھگڑنے کے گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تو اس نوعیت کے افسوس ناک واقعات کبھی بھی رونما نہ ہوں لیکن فریقین آج تصادم کی راہ اختیارکرتے ہیں جو بالآخرانسانی جانوں کے ضیاع پر منتج ہوتی ہے۔گفت و شنید اور دلائل کے ذریعے ہی مسائل اور تنازعات سے نمٹنے کی سبیل کرنی چاہئے۔ تصادم اور جھگڑوں سے ہر صورت دور رہا جائے

مزید :

ایڈیشن 1 -