پنجاب کی جیلوں میں ٹھیکہ سسٹم اور قیدیوں پر تشدد کا خاتمہ بہت مشکل ہے

پنجاب کی جیلوں میں ٹھیکہ سسٹم اور قیدیوں پر تشدد کا خاتمہ بہت مشکل ہے

  

محمد ارشد شیخ بیوروچیف شیخوپورہ

سرکاری ہسپتالوں اور جیلوں میں عام شہری کی تکلیف کا اندازہ کیا جانا مشکل ہے۔پچھلے ستر برسوں میں کوئی حکومت ایسی نہ آسکی کہ پاکستان کی جیلوں کی حالت اس قابل بناسکتی کہ کوئی شریف انسان عزت و آرام سے قید کاٹ سکتا ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں کیا ہو رہا ہے تھوڑی سی جھلک دیکھانے کی کوشش کرتے ہیں ہو سکتاہے کچھ تبدیلی آ ہی جائے جیل سے ایک قیدی نے بذریعہ خط اندر کے حالات کچھ یوں بیان کئے ہیں جیل میں لانے جانے والے نئے قیدیوں کو داخلی دروازے پر کھڑے چند کچے پکے قیدی جو جیل انتظامیہ نے مخصوص کر رکھے ہیں جو نئے قیدیوں کو اند ر داخل ہوتے ہی سامان چھین کر تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے سامان اہلخانہ سے رقم منگوانے پر مجبورکرتے ہیں جب نئے قیدی بیرک میں جاتے ہیں تو وہاں پر موجود چند مخصوص افراد ان قیدیوں پرحالات تنگ کر دیتے ہیں نئے قیدیوں کوتھپی میں سلایا جاتا ہے تھپی ایک کروٹ سونے کو کہاجاتا ہے ایک قیدی کا منہ دوسرے قیدی کے پنجے پر ہوتا ہے،بیرک میں 40قیدی کی جگہ ہوتی ہے لیکن جیل انتظامیہ 80سے زائد قیدیوں کو وہاں پر رکھتی ہے معلوم ہوا ہے کہ اس اذیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے جیلر کی طرف سے رکھے گئے افراد کو نئے قیدیوں کی لسٹ کی جاتی ہے جس کے تحت وہ نئے قیدی سے بستر کی فراہمی کے عوض بھاری رقوم مبینہ طور پر وصول کرتے ہیں اور مشقت نہ لینے پربھی بھاری رقوم بطور رشوت وصول کرتے ہیں اگر کسی قیدی کو ہستپال یا مدرسے میں منتقل ہونا ہو تو اسکی ہزاروں روپے رشوت مبینہ طور پر الگ وصول کی جاتی ہے ذرائع کے مطابق اگر قیدی کو جیل کا کھانا نہیں کھانا ہو اور بیرک میں اپنا کھانا پکا کر کھانا ہو تو اسکی رقم الگ وصول کی جاتی ہے، جیل میں مشقت معافی کو 109کی چھوٹ کہا جاتا ہے، اس چھوٹ میں قیدی پور ی جیل میں کہیں بھی گھوم پھر سکتا ہے،جیل میں جب کسی قیدی کی ملاقات آجائے تو ملازمین اس قیدی کو اہلخانہ سے رقم لینے کیلئے کہتے ہیں اور خود بھی اس قیدی کے ہمراہ ملاقات روم میں چلے جاتے ہیں جہاں قیدی کو اسکے اہلخانہ کے سامنے بھی گالی گلوچ اور معمولی تشدد کا نشانہ بھی بنا دیا جاتا ہے تاکہ اہلخانہ لازمی رشوت کی رقم دیکر ہی جائیں۔ذرائع کے مطابق جیل مینول کے مطابق کچے قیدی سے مشقت نہیں لی جاسکتی جس قیدی کو سزاہو جائے وہ جیل میں مشقت کرتا ہے لیکن جیل انتظامیہ نے اپنا قانون بنارکھا ہے،تمام کام جیل مینول کے خلاف ہوتے ہیں،کچے قیدی سے بھی مشقت لی جاتی ہے اور پکا قیدی ان سے مشقت لیتا ہے اگر کوئی قیدی جیل انتظامیہ سے اڑ جائے تو اسے کلاٹین (کال کوٹھری) میں بندکر دیا جاتا ہے، اگر کسی قیدی کی دوسرے روز عدالت پیشی پر جانا ہو تو وہ پہلے جیل منشی کو رشوت دے گا نہ دینے پر اسے عدالت نہیں جانے دیا جاتا، یہاں رشوت دینے کے بعد جیل کے وین ڈرائیور کو بھی رقم دینی پڑتی ہے۔سال 2017 میں بھی محکمہ جیل خانہ جات میں کرپشن و بدانتظامی عروج پر ہی تھی پنجاب کی جیلوں میں ٹھیکہ سسٹم اور قیدیوں پر تشدد کا خاتمہ بہت مشکل ہو چکا ہے سال 2017 میں صوبہ پنجاب کی تمام جیلیں بعض کرپٹ افسران کے لئے سونے کی چڑیا ثابت ہوئیں جیلوں میں ٹھیکہ سسٹم برقرار رہا اور بھتہ نہ دینے والے قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا ڈسٹرکٹ جیل ملتان میں جیل عملہ کے تشدد سے عبدالرحیم نامی قیدی ہلاک ہوا جبکہ مختلف جیلوں میں درجنوں زخمی ہوئے عبدالرحیم نامی قیدی کو تشدد کرکے مارنے پر تھانہ صدر میں سابق سپرنٹنڈنٹ آصف عظیم اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ رضوان سمیت دیگر اہلکاروں پر قتل کا مقدمہ درج ہوا جس میں اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا مگر آصف عظیم اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو اس مقدمہ میں بہت زیادہ رعائت دی گئی2017 میں اکثرو بیشترجیلوں میں قیدیوں کو ناقص کھانا فراہم کیا گیا اور کھانے کی مد میں فراہم کئے گئے سرکاری فنڈز سے کروڑوں روپے کی خورد برد کی گئی مگر کسی تحقیقاتی ادارے نے نوٹس نہیں لیا2017 میں محکمہ جیل کے آئی جی میاں فاروق کو تبدیل کرکے ڈی آئی جی راولپنڈی مرزا شاہد سلیم کو آئی جی جیل تعینات کیا گیا تھا 2017 کے اختتام تک زیادہ ترجیل افسران کو تبدیل نہیں کیا گیا واضح رہے کہ 2017 میں پنجاب کی جیلوں میں گنجائش سے زائدقیدی دھونسے گئے اور خانیوال لودھراں سمیت دیگر زیر تعمیر جیلیں فنکشنل نہ ہو گئیں جبکہ بعض سنٹرل جیلوں سمیت دیگر جیلوں میں کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ فیملی رومز بھی فنکشنل نہ ہو سکے ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں منشیات فروشی ، ناقص کھانا،موبائل فونز کا استعمال دھڑلے سے جاری ہے معلوم ہوا ہے کہ منشیات فروشی مبینہ طور پر ایک مخصوص گروہ کے ذریعے کروائی جاتی ہے اورجیل کے اندر کھانا انتہائی ناقص دیا جاتا ہے اور کھانے کے عوض کروڑوں روپے کی کرپشن کی جا رہی ہے جیل میں جنریٹر میں ڈالے جانے والے ڈیثرل کے عوض بھی بے تحاشہ کرپشن کی جارہی ہے قیدیوں کی ملاقات کے دوران باہر سے اندر جانے والا زیادہ تر سامان بھی چھین لیا جاتا ہے جیل سے قیدیوں پر تشدد اور رشوت وصول کرنے کی چند ایک تصاویر بھی موصول ہوئی ہیں تصویروں میں ایک ذمہ دار افسیر وردی میں ملبوس رقم وصول کر رہا ہے اور وہی آفیسر ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس ہو کر ایک کرسی پر بیٹھ کر اپنی نگرانی میں قیدیوں پر تشدد بھی کروا رہا ہے ان تصویروں سے ایک بات تو صاف کلیئر ہو جاتی ہے کہ جیل کے اندر کرپشن ہو رہی ہے جیل میں موبائل فون کا بلادریغ استعمال اور انٹر نیٹ بھی قیدی استعمال کر رہے ہیں اور تشدد بھی کروایا جاتا ہے سب سے سنگین بات یہ ہے کہ جس طریقہ کار سے میڈیا کو تصویریں موصول ہوئی ہیں ظاہر ہے اسی طریقہ کار سے سنگین جرائم میں ملوث کریمینل افراد بھی جیل کے اندرونی حالات سے با خبر ہیں میڈیا کو جیل کے اندر سے بذریعہ وٹس ایپ تصاویر موصول ہونا انتہائی خطر ناک امر ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا چند روپوں کی خاطر اس میں جیل عملہ ملوث ہے یا جیل انتظامیہ کی گرفت اس قدر کمزور ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث قیدہونے والے قیدی اس قدر بااثر ہیں کہ انہیں جیل کے اندر بھی کھلی چھٹی ہے یہ بات تو پہلے ہی عام گردش کرتی ہے کہ جیل کے اندر سے سنگین جرائم قید کئے جانے والے عناصر جیل کے باہر انتہائی منظم طریقہ کار سے اپنے گروہ چلاتے ہیں اور بڑی بڑی وارداتیں کرواتے ہیں یہاں تک کہ جیل کے اندر بیٹھ کر لوگوں کو جان سے مارنے کی پلاننگ کی جاتی ہے اور پتہ بھی نہیں چلتا کہ باہر کس طرح اور کون سا شخص کسی شہری کو موت کی نیند سلا کر چلا گیا مگر موبائل فون اور سوشل میڈیا کے بلا دریغ استعمال سے یہ بات واضع ہو گئی ہے کہ جیل انتظامیہ دھڑلے سے کرپشن کر رہی ہے اور قیدیوں کے خلاف جیل انتظامیہ کی گرفت بھی بے حد کمزور ہے یہ بات بھی انتہائی قابل ذکر ہے کہ جیل میں جاتے صرف وہ لوگ ہیں جو یا تو انتہائی شریف ہوتے ہیں یا پھر غریب لوگ، اس کی وجہ جرم کرنے والا فوری طور پر تھانوں میں ہی رقوم خرچ کر کے رہائی پا جاتا ہے اور بطور رشوت تھانوں میں رقوم نا دے پانے والے لوگ ہیں جیلوں میں قید ہیں اور ایسے لوگوں کے لئے جیل کو بھی جہنم بنا دیا جاتا ہے اور انہیں روزانہ کی بنیاد پر محظ چند روپوں کی خاطر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور دیگر مختلف حیلوں بہانوں سے پریشان و رسواء کیا جاتا ہے ایسے لوگ ہی جیل سے رہائی پانے کے بعد بڑے کریمینل بن کر معاشرے میں سر اٹھاتے ہیں با ہر حال جیل شیخوپورہ میں مختلف جرائم میں قیدہونے والے قیدیوں کے اہلخانہ نے وزیراعظم پاکستان عمران خان ، چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان ثاقب نثار ،آئی جی جیل خانہ جات سے اپیل کی ہے کہ جیل کے اندر غریب قیدیوں سے ہونے والے ظلم و تشدد کے واقعات کو روکا جائے منشیات فروشی کا خاتمہ کیا جائے اور کھانے کے معیار کو بہتر بتایا جائے اور اس میں ملوث جیل افسران اور دیگر افراد کو فوری طور پر نوکریوں سے برطرف جیل شیخوپورہ میں فرض شناس اور ایماندار عملہ کو تعینات کیا جائے تاکہ عوام بھی پولیس کے نعرہ ، نفرت جرم سے ، انسان سے نہیں ، کی تائید کر سکیں، تاہم اس حوالہ سے جیل انتظامیہ نے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -